पलट जाना

نازی اقتباس

اوور سائٹ بورڈ نے Facebook کی اس پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے کو تبدیل کر دیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس پوسٹ سے خطرناک افراد اور تنظیموں کے کمیونٹی معیارات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

निर्णय का प्रकार

मानक

नीतियां और विषय

विषय
राजनीति
सामुदायिक मानक
ख़तरनाक लोग और संगठन

क्षेत्र/देश

जगह
अमेरिका

प्लैटफ़ॉर्म

प्लैटफ़ॉर्म
Facebook

کیس کا خلاصہ

اوور سائٹ بورڈ نے Facebook کی اس پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے کو تبدیل کر دیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس پوسٹ سے خطرناک افراد اور تنظیموں کے کمیونٹی معیارات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بورڈ نے پایا کہ یہ قواعد صارفین کیلئے مناسب طور پر واضح نہیں کیے گئے تھے۔

کیس کا تعارف

اکتوبر 2020 میں، کسی صارف نے ایک اقتباس پوسٹ کیا جو نازی جرمنی میں پروپیگنڈا کے وزیر اعظم جوسیف گوئبلز کو غلط طور پر منسوب کیا گیا تھا۔ انگریزی میں اس اقتباس میں دعویٰ کیا گیا کہ، دانشوروں سے اپیل کرنے کی بجائے، دلائل جذبات اور قابلیت کو اپیل کرنے والی ہونی چاہیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سچائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ حکمت عملی اور نفسیات کے ماتحت ہے۔ پوسٹ میں جوسیف گوئبلز یا نازی علامتوں کی کوئی تصویر نہیں تھی۔ بورڈ کو اپنے بیان میں، صارف نے کہا کہ ان کا ارادہ اقتباس میں ڈونالڈ ٹرمپ کے جذبات اور صدارت کے مابین موازنہ کرنا ہے۔

صارف نے سب سے پہلے اس مواد کو دو سال پہلے پوسٹ کیا تھا اور اسے Facebook کے "یادیں" فنکشن کے ذریعے دوبارہ شیئر کرنے کا پرامپٹ دیا گیا تھا، جس سے صارفین کو اس پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرنے کے آپشن کے ساتھ یہ دیکھنے کی سہولت ملتی ہے کہ انہوں نے پچھلے سال کسی خاص دن کیا پوسٹ کی تھی۔

Facebook نے خطرناک افراد اور تنظیموں کی خلاف ورزی کے تحت پوسٹ کو ہٹا دیا ہے۔

کلید نتائج

بورڈ کو اپنے جواب میں، Facebook نے تصدیق کی کہ جوسیف گوئبلز کمپنی کی خطرناک افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ Facebook نے کلیم کیا ہے کہ خطرناک افراد سے منسوب اقتباس شیئر کرنے والی پوسٹوں کو ان کی سپورٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے، جب تک کہ صارف اپنے ارادے واضح کرنے کیلئے مزید سیاق و سباق فراہم نہ کرے۔

Facebook نے یہ پوسٹ اس وجہ سے ہٹا دی کیوں کہ صارف نے واضح نہیں کیا کہ انہوں نے جوسیف گوئبلز کی مذمت کرنے، انتہا پسندی اور نفرت آمیز کلام کا مقابلہ کرنے کیلئے یا علمی یا خبروں کے مقاصد کیلئے اقتباس شیئر کیا۔

کیس کا جائزہ لینے پر ، بورڈ نے پایا کہ اس اقتباس میں نازی پارٹی کے نظریے یا حکومت کے نفرت اور تشدد کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔ صارف کے دوستوں کی جانب سے پوسٹ پر آنے والے کمنٹس نے صارف کے اس دعوے کی تائید کی ہے کہ وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کا موازنہ نازی حکومت سے کرنا چاہتے ہیں۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے تحت، کوئی بھی قواعد جو اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد کرتے ہیں ان کو واضح، عین مطابق اور عوامی طور پر قابل رسائی ہونا چاہئے تاکہ افراد اس کے مطابق عمل کر سکیں۔ بورڈ کو یقین نہیں ہے کہ خطرناک افراد اور تنظیموں کے بارے میں Facebook کے قواعد اس تقاضے کو پورا کرتے ہیں۔

بورڈ کو Facebook کے کمیونٹی معیارات کے ذریعے عوامی بنائے گئے قواعد اور کمپنی کے مواد ماڈریٹرز کی جانب سے استعمال کردہ اضافی غیر عوامی قواعد کے مابین فرق کا پتہ چلا ہے۔ اپنے عوامی سطح پر دستیاب قواعد میں، Facebook نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ، کسی خطرناک فرد سے منسوب کوئی اقتباس پوسٹ کرتے وقت، صارف کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ وہ ان کی تعریف یا سپورٹ نہیں کر رہے ہیں۔

خطرناک افراد اور تنظیموں کے بارے میں Facebook کی پالیسی میں بھی واضح مثالیں فراہم نہیں کی گئیں جو "تعریف" اور "سپورٹ" جیسی اصطلاحات کی وضاحت کرتی ہیں، جس سے صارفین کیلئے اس کمیونٹی کے معیار کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔

Facebook نے بورڈ کو یہ تصدیق کر دی ہے کہ جوسیف گوئبلز کو ایک خطرناک فرد کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، لیکن کمپنی خطرناک افراد اور تنظیموں کی عوامی لسٹ یا ان کی مثالیں فراہم نہیں کرتی۔ بورڈ یہ بھی نوٹ کرتا ہے کہ، اس معاملے میں، صارف کو ایسا نہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے مواد سے کون سے کمیونٹی معیارات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ

اوور سائٹ بورڈ نے Facebook کے مواد کو ہٹانے کے فیصلے کو بدل دیا ہے اور پوسٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پالیسی کے مشاورتی بیان میں، بورڈ تجویز کرتا ہے کہ Facebook یہ کرے:

  • یہ یقینی بنائیں کہ صارفین کو کمیونٹی معیارات کو ان کے خلاف نافذ کرنے کی وجوہات کے بارے میں ہمیشہ مطلع کیا جاتا ہے، جن میں وہ خصوصی اصول شامل ہے جو Facebook نافذ کر رہی ہے۔
  • خطرناک افراد اور تنظیموں کی پالیسی سے کلیدی شرائط کے اطلاق کی مثالیں پیش کرے، جس میں "تعریف"، "مدد" اور "نمائندگی" کے معنی بھی شامل ہیں۔ کمیونٹی معیار کو بھی صارفین کو بہتر طور پر مشورہ دینا چاہئے کہ خطرناک افراد یا تنظیموں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے وقت ان کا ارادہ کیسے واضح کیا جائے۔
  • خطرناک افراد اور تنظیموں کے کمیونٹی معیارات کے تحت نامزد تنظیموں اور افراد کی ایک عوامی فہرست فراہم کریں یا کم از کم، مثالوں کی ایک فہرست فراہم کریں۔

*کیس کے خلاصے میں کیس کا عمومی جائزہ فراہم کیا جاتا ہے اور اس میں نظیری قدر نہیں ہوتی ہے۔

کیس کا مکمل فیصلہ

1۔فیصلے کا خلاصہ

اوور سائٹ بورڈ نے Facebook کی اس پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے کو تبدیل کر دیا ہے جس کے بارے میں کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس پوسٹ سے خطرناک افراد اور تنظیموں کے کمیونٹی معیارات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بورڈ نے پایا کہ یہ قواعد صارفین کیلئے مناسب طور پر واضح نہیں کیے گئے تھے۔

2۔ کیس کی تفصیل

اکتوبر 2020 میں، کسی صارف نے ایک اقتباس پوسٹ کیا جو نازی جرمنی میں پروپیگنڈا کے وزیر اعظم جوسیف گوئبلز کو غلط طور پر منسوب کیا گیا تھا۔ انگریزی زبان کے اس اقتباس میں دعویٰ کیا گیا کہ دانشوروں سے اپیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوں کہ وہ اپنا ارادہ نہیں بدلیں گے اور نہ ہی کسی حالت میں گلی کے بلوان آدمی کے مطیع ہوں گے۔ جیسا کہ اقتباس میں بتایا گیا ہے کہ دلائل جذبات اور قابلیت کو اپیل کرنے والی ہونی چاہیے۔ یہ اس کلیم کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ سچائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ حکمت عملی اور نفسیات کے ماتحت ہے۔ پوسٹ میں گوئبلز یا نازی علامتوں کی کوئی تصویر نہیں تھی۔ صارف نے سب سے پہلے اس مواد کو دو سال پہلے پوسٹ کیا تھا اور اسے Facebook کے "یادیں" فنکشن کے ذریعے دوبارہ شیئر کرنے کا پرامپٹ دیا گیا تھا، جس سے صارفین کو اس پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرنے کے آپشن کے ساتھ یہ دیکھنے کی سہولت ملتی ہے کہ انہوں نے پچھلے سال کسی خاص دن کیا پوسٹ کی تھی۔ مواد کی کسی صارف نے رپورٹ نہیں کی۔ Facebook نے خطرناک افراد اور تنظیموں کے کمیونٹی معیارات کی خلاف ورزی کے سبب پوسٹ کو ہٹا دیا ہے۔

پوسٹ میں صرف گوئبلز کے اقتباس اور ایٹری بیوشن شامل ہے۔ پوسٹ میں کوئی اضافی کمنٹ نہیں تھا جس میں اشارہ کیا گیا ہو کہ صارف کا مواد شیئر کرنے کا مقصد کیا تھا۔ بورڈ کو دیے گئے اپنے بیان میں، انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ان کے اقتباس میں اہم سماجی مسائل شامل ہیں اور اس اقتباس کا مواد "اس وقت ہمارے ملک میں بہت اہم ہے کیوں کہ ہمارے پاس ایک 'رہنما' ہے جس کی صدارت فاشسٹ ماڈل کی پیروی کر رہی ہے۔" ان کا ارادہ اقتباس میں ڈونالڈ ٹرمپ کے جذبات اور صدارت کے مابین موازنہ کرنا ہے۔ پوسٹ پر کیے گئے کمنٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ صارف کے دوست اسے کیس کے طور پر سمجھ چکے تھے۔

3۔ اتھارٹی اور سکوپ

بورڈ کو بورڈ کا چارٹر کے آرٹیکل 2 (جائزہ لینے کی اتھارٹی) کے تحت Facebook کے فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار ہے اور بورڈ اس فیصلے کو آرٹیکل 3، سیکشن 5 (جائزہ لینے کا طریقہ کار: چارٹر کا ریزولیوشن) کے تحت برقرار رکھ سکتا ہے یا اسے ترک کر سکتا ہے۔ Facebook نے بورڈ کے خصوصی قوانین کے آرٹیکل 2، سیکشن 1.2.1 (مواد بورڈ کے ذریعے جائزہ لینے کیلئے دستیاب نہیں ہے) کے مطابق مواد کو ہٹائے جانے کی وجہ بیان نہیں کی ہے اور نہ ہی Facebook نے یہ ظاہر کیا ہے کہ خصوصی قوانین کے آرٹیکل 2، سیکشن 1.2.2 (قانونی فرائض) کے تحت اس کیس کو نااہل قرار دیا ہے۔

4.متعلقہ معیارات

اوور سائٹ بورڈ نے اپنے فیصلے میں درج ذیل معیارات پر غور کیا ہے:

I۔ Facebook کمیونٹی کے معیارات:

خطرناک افراد اور تنظیموں کے حوالے سے کمیونٹی کے معیارات میں بیان کیا گیا ہے کہ "حقیقی دنیا کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے اور اس میں خلل ڈالنے کی کوشش میں، ہم کسی بھی تنظیم یا افراد کو اجازت نہیں دیتے جو متشدد مشن کا اعلان کرتے ہیں یا تشدد میں شامل ہیں کو Facebook پر موجودگی کی اجازت نہیں دیتے۔" اس میں مزید بیان کیا گیا ہے کہ Facebook "ایسے مواد کو ہٹا دے گی جو ان سرگرمیوں میں ملوث گروپس، رہنماؤں یا افراد کی سپورٹ یا تعریف کا اظہار کرے"۔

II۔ Facebook کی اقدار:

اس کیس سے متعلقہ Facebook کی اقدار کو کمیونٹی کے معیارات کے تعارف میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا ”آواز“ ہے، جس کی ”بہت اہم“ کے طور پر وضاحت کی گئی ہے:

لوگوں کیلئے اظہار خیال اور لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کیلئے ایک جگہ بنانا ہماری کمیونٹی کے معیارات کا ہمیشہ سے ہدف رہا ہے۔ […] ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اہم معاملات کے بارے میں کھل کر بات کریں، چاہے کچھ لوگ اس سے متفق نہ ہوں یا اس پر اعتراض ہی کیوں نہ کریں۔

Facebook چار دیگر اقدار کی خدمت میں "آواز" کو محدود کرتی ہے۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ "تحفظ" کی اقدار کا اس فیصلے سے تعلق ہے:

تحفظ: ہم Facebook کو ایک محفوظ مقام بنانے کیلئے پُر عظم ہیں۔ Facebook پر ایسے اظہار خیال کی اجازت نہیں ہے جس میں لوگوں کو ڈرانے، خارج کرنے یا خاموش کرنے کی دھمکی دی جائے۔

III۔ بورڈ کے زیر غور انسانی حقوق کے متعلقہ معیارات:

بزنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے UN انسانی حقوق کاؤنسل کی حمایت یافتہ UN رہنمائی کے اصول (UNGPs) نے 2011 میں پرائیویٹ بزنسز کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے رضاکارانہ فریم ورک کا قیام کیا۔ UNGPs کی طرف راغب ہوتے ہوئے، اس کیس میں انسانی حقوق کے درج ذیل بین الاقوامی معیارات پر غور کیا گیا:

  • اظہار رائے کی آزادی کا حق: بین الاقوامی عہد کے سول اور ریاستی حقوق ( ICCPR)، آرٹیکل 19 اور 20؛ جنرل کمنٹ نمبر 34، انسانی حقوق کمیٹی (2011) ( جنرل کمنٹ 34)؛ اظہار رائے اور اظہار خیال کی آزادی کیلئے اقوام متحدہ کی روداد نویس خصوصی رپورٹس: A/69/335 (2014); A/HRC/38/35 (2018); A/73/348 (2018)، اور A/HRC/44/49 (2020)؛ ڈیجیٹل دور میں اظہار رائے اور انتخابات سے متعلق مشترکہ اعلانیہ (2020)؛ اور کارروائی کا باقاعدہ منصوبہ؛
  • غیر امتیازی سلوک کا حق: ICCPR، آرٹیکل 2 اور 26؛ نسلی امتیاز کے تمام اقسام کے خاتمے کا بین الاقوامی کنونشن( ICERD)، آرٹیکل 1، 4 اور 5؛ نسلی امتیاز کے خاتمے کیلئے کمیٹی ، جنرل تجویز نمبر 35 (2013) ( GR35)؛ نسلی امتیاز کے حوالے سے اقوام متحدہ کا روداد نویس خصوصی، رپورٹ: A/HRC/38/53 (2018);
  • جینے کا حق: ICCPR، آرٹیکل 6؛ جنرل کمنٹ نمبر 36، انسانی حقوق کمیٹی (2018) (GC36)؛
  • کسی فرد کی سیکورٹی کا حق: ICCPR آرٹیکل9؛ جیسا کہ جنرل کمنٹ نمبر 35 پیرا 9، انسانی حقوق کی کمیٹی (2014) میں ترجمانی کی گئی ہے۔

5. صارف کا بیان

صارف نے کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے اس مواد کو دو سال پہلے پوسٹ کیا تھا اور اسے Facebook کے "یادیں" فنکشن کے ذریعے دوبارہ پوسٹ کرنے کا پرامپٹ دیا گیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ پوسٹ بہت اہم ہے کیوں کہ امریکہ میں ایک 'رہنما' ہے جس کی صدارت فاشسٹ ماڈل کی پیروی کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مواد پوسٹ کرنے کے بعد Facebook استعمال کرنے کی ان کی صلاحیتوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

6۔ Facebook کے فیصلے کی وضاحت

Facebook کا بیان ہے کہ وہ مواد جس میں کسی نامزد خطرناک فرد کی مثال یا (ان کی درستگی سے قطع نظر) حوالہ دیا جاتا ہے تو اسے اس وقت تک اس فرد کی سپورٹ میں تسلیم جاتا ہے، جب تک کہ صارف اپنے ارادے واضح کرنے کیلئے مزید سیاق و سباق فراہم نہ کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں، صارف نے کوئی اضافی سیاق و سباق فراہم نہیں کیا جس سے یہ معلوم ہو کہ گوئبلز کی مذمت کرنے، انتہا پسندی اور نفرت آمیز کلام کا مقابلہ کرنے کیلئے یا کسی علمی یا خبر رساں گفتگو کے حصے کے طور پر یہ اقتباس شیئر کیا گیا ہے۔ Facebook کا کہنا ہے کہ اگر صارف کی پوسٹ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان وجوہات کی بنا پر اسے شیئر کیا گیا ہے تو Facebook اس مواد کو ہٹا نہیں سکتی تھی۔ اگرچہ صارف کی پوسٹ پر دوسروں کے کمنٹس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ جوزف گوئبلز کی تعریف یا ان کی حمایت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے لیکن Facebook نے وضاحت کی کہ معتدل فیصلہ کرنے کیلئے وہ خود ہی پوسٹ کا جائزہ لیتی ہے۔ اصل میں پوسٹ کرنے پر اس مواد کو نہیں ہٹایا گیا تھا کیوں کہ کسی بھی صارف نے اس کی رپورٹ نہیں کی تھی اور نہ ہی خودکار طور پر اس کا پتہ چلا تھا۔

بورڈ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ، جب Facebook نے صارف کو مطلع کیا کہ ان کی پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے، تو کمپنی نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ ان کی پوسٹ سے کس کمیونٹی معیار کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

7۔ فریق ثالث کی جمع کرائی گئی معلومات

اوور سائٹ بورڈ کو اس کیس سے متعلق 12 پبلک کمنٹس موصول ہوئے۔ تین کمنٹ یورپ سے اور نو امریکہ اور کینیڈا کے علاقے سے کیے گئے تھے۔

جمع کرائی گئی معلومات میں مندرجہ ذیل موضوعات شامل تھے: متعلقہ کمیونٹی معیارات کی تعمیل؛ چاہے اس میں سیاسی بیان شامل ہوں؛ Facebook کی "یاد" فنکشن کا کردار؛ صارفین پر پابندیوں کا اثر؛ اور پبلک کمنٹ پراسس کو بہتر بنانے کے بارے میں رائے۔

8. اوور سائٹ بورڈ کا تجزیہ

8.1 کمیونٹی کے معیارات کی تعمیل

بورڈ کو پتہ چلا ہے کہ صارف کی پوسٹ کو ہٹانے کے Facebook کے فیصلے سے خطرناک افراد اور تنظیموں کے کمیونٹی معیار کی تعمیل نہیں ہوتی ہے۔

Facebook کا کہنا ہے کہ حقیقی دنیا کو پہنچنے والے نقصان کو روکنے اور اس میں خلل ڈالنے کیلئے یہ تنظیموں اور افراد (زندہ یا مردہ) کو منظم نفرت میں ملوث ہونے کو Facebook پر واقع ہونے سے روکتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں ملوث گروپس، ان کے رہنماؤں یا ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کی سپورٹ یا تعریف کا اظہار کرنے والے مواد پر بھی پابندی عائد کرتی ہے۔ Facebook ان افراد اور تنظیموں کی لسٹ شائع نہیں کرتی ہے جن کو اس نے خطرناک قرار دیا ہے۔

اپنے فیصلے کے حوالے سے بورڈ کو فراہم کردہ دلائل میں، Facebook نے خطرناک افراد اور تنظیموں کی پالیسی کے کچھ پہلوؤں کے بارے میں وضاحت کی جن کے بارے میں کمیونٹی معیارات میں کوئی خاکہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے، Facebook نے تصدیق کی کہ نازی پارٹی (قومی سوشلسٹ جرمن ورکرز' پارٹی، جو سن 1920 سے 1945 کے درمیان سرگرم تھی) کو Facebook نے اندرونی طور پر 2009 سے نفرت انگیز تنظیم کے طور پر نامزد کیا ہے۔ پارٹی کے قائدین میں سے ایک جوسف گوئبلز کو ایک خطرناک فرد کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ دوسرا، Facebook ایسے تمام مواد جن میں کسی نامزد خطرناک فرد کا مبینہ طور پر حوالہ دیا جاتا ہے، انہیں اس فرد کی تعریف یا حمایت میں تسلیم کرتی ہے جب تک کہ صارف اپنے ارادے واضح کرنے کیلئے مزید سیاق و سباق فراہم نہ کرے۔ تیسرا، Facebook پوسٹ کے رد عمل یا کمنٹس کا اندازہ کیے بغیر، خود ہی پوسٹ میں موجود متن اور/یا منظر کشی پر مبنی پالیسی کی تعمیل کا تعین کرتی ہے۔

اس کیس میں، مواد میں جوسف گوئبلز سے منسوب ایک ہی کوٹ شامل تھا۔ بورڈ نے پایا کہ اس اقتباس سے نازی پارٹی کے نظریے کو پروموٹ نہیں کیا گیا اور نفرت اور تشدد کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔ صارف کے دوستوں کی جانب سے پوسٹ پر آنے والے کمنٹس سے صارف کے اس دعوے کی تائید ہوتی ہے کہ وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کا موازنہ نازی حکومت سے کرنا چاہتے تھے۔

بورڈ نے خطرناک افراد اور تنظیموں کی پالیسی کے عوامی طور پر دستیاب متن اور Facebook کے مواد ماڈریٹرز کے اطلاق کردہ اضافی داخلی قواعد و ضوابط کے مابین معلومات کے فرق کو نوٹ کیا ہے۔ جب کسی خطرناک فرد سے منسوب کوئی اقتباس پوسٹ کیا جاتا ہے تو عوامی متن اتنا واضح نہیں ہوتا، صارف کو اپنی پوسٹ میں اضافی سیاق و سباق فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ وہ منظم نفرت میں ملوث کسی فرد یا تنظیم کی تعریف یا حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ کمیونٹی معیارات میں نامزد تنظیموں اور افراد کی علامت والی پوسٹوں کیلئے بھی اسی طرح کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں لیکن ان کی تعریف یا تائید کرنے والے مواد کیلئے وہی تقاضے بیان نہیں کرتے۔ جیسا کہ اس کیس کی مثال میں، اس کے نتیجے میں بیان کو دبا دیا جاتا ہے جس سے کسی قسم کا نقصان ہونے کا خدشہ نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ بورڈ نازی نظریے اور نفرت آمیز کلام کے پھیلاؤ کو روکنے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر اس طرح کے مقاصد کو حاصل کرنے میں دشواری کو بھی سراہتا ہے، اس کیس میں پوسٹ کو ہٹانا پالیسی کی روح سے بالاتر ہے۔

8.2 Facebook اقدار کی تعمیل

بورڈ نے پایا کہ ہٹایا جانا Facebook کی اقدار پر پورا نہیں اترتا ہے۔ اگر خطرناک افراد اور تنظیموں کی پالیسی کے تحت ہٹائے گئے مواد پر غور کیا جائے تو "تحفظ" کی قدر "آواز" کی "سب سے بڑی" قیمت کے متوازن ہے۔ Facebook نے وضاحت کی ہے کہ اگر مواد سے جسمانی نقصان کا خدشہ ہو تو "تحفظ" کو زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے۔ تاہم ، اس کیس میں، صارف کی پوسٹ سے "تحفظ" کی قدر کو کم سے کم فائدہ پر غور کرتے ہوئے، بورڈ کو پتہ چلتا ہے کہ ہٹانے سے "آواز" کی قدر کو غیر ضروری طور پر مجروح کیا گیا ہے۔

⁦⁩8.3 انسانی حقوق کے معیارات کی تعمیل⁦⁩

  1. اظہار رائے کی آزادی (آرٹیکل 19 ICCPR)

اظہار رائے کی آزادی کے حقوق پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیاروں کا اطلاق کرنے پر، بورڈ نے پایا کہ مواد کو بحال کرنا ضروری ہے۔ سیاسی شخصیات کے بارے میں اظہار رائے کی آزادی کے حق پر رکھی گئی قدر عوامی بحث میں خاص طور پر زیادہ ہے، جو اس پوسٹ کا موضوع تھا (ICCPR آرٹیکل 19، پیرا 2، جنرل کمنٹ 34، پیرا 34)۔

اظہار رائے کی آزادی کا حق مکمل نہیں ہے۔ حق کی کسی بھی پابندی کو، تاہم ، قانونی تقاضوں، جائز مقصد اور ضرورت اور تناسب کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔ Facebook کا مواد کو ہٹانے کا عمل اس ٹیسٹ کے پہلے اور تیسرے حصے میں ناکام رہا۔

ا۔ قانونی حیثیت

اظہار خیال پر پابندی لگانے والے کسی بھی اصول کا صاف، واضح اور عوام کیلئے قابل رسائی ہونا لازمی ہے (جنرل کمنٹ 34، پیرا 25) تاکہ افراد اس کے مطابق اپنے طرز عمل کو تبدیل کر سکیں۔ خطرناک افراد اور تنظیموں کے بارے میں Facebook کی پالیسی قانونی حیثیت کے معیار سے کم ہے۔ اس پالیسی میں واضح مثالیں موجود نہیں ہیں جو "سپورٹ"، "تعریف" اور "نمائندگی" کے اطلاق کی وضاحت کرتی ہوں، جس سے صارفین کو اس کمیونٹی معیار کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے قانونی حیثیت کے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے اور صارفین میں من مانی کے نفاذ کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ بورڈ کو یہ بھی تشویش ہے کہ اس کیس میں صارف کو آگاہ نہیں کیا جاتا ہے کہ ان سے کس کمیونٹی معیار کی خلاف ورزی ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان کا مواد ہٹا دیا گیا تھا۔

Facebook ان افراد اور تنظیموں یا کم از کم ان گروپس یا افراد کی مثالوں کی بھی فہرست فراہم کرنے میں ناکام ہے جو خطرناک قرار دیے گئے ہیں۔ آخر میں، پالیسی اس بات کی وضاحت کرنے میں ناکام ہوتی ہے کہ وہ صارف کے ارادے کی تصدیق کیسے کرتی ہے، جس سے صارفین کو یہ اندازہ کرنا کہ یہ پالیسی کب اور کہاں لاگو ہوگی اور اس کے مطابق عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

b. جائز مقصد

آرٹیکل 19، پیرا 3 میں کہا گیا ہے کہ جائز مقاصد میں دوسروں کے حقوق یا وقار کے احترام کے ساتھ ساتھ قومی سیکورٹی، عوامی نظم یا پبلک ہیلتھ یا اخلاقیات کا تحفظ شامل ہے۔ Facebook کی دلائل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطرناک افراد اور تنظیموں کی پالیسی کا مقصد "نفرت انگیز تنظیموں" کی حیثیت سے دوسروں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ بورڈ مطمئن ہے کہ "نفرت انگیز تنظیموں" کے بارے میں مخصوص دفعات کا مقصد افراد کو امتیازی سلوک سے بچانا اور انہیں زندگی پر حملوں یا ممکنہ جان بوجھ کر کی جانے والی حرکت سے بچانا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی یا ذہنی چوٹ پہنچتی ہے۔

c. ضرورت اور تناسب

کوئی بھی پابندی ”اپنے حفاظتی فنکشن کو حاصل کرنے کیلئے مناسب ہونا چاہیے؛ جو ان کے حفاظتی فنکشن کو حاصل کر سکتے ہیں انہیں کم از کم مداخلت والے آلات ہونا لازمی ہے؛ انہیں مفاد کے مطابق متناسب ہونا چاہئے“۔ (جنرل کمنٹ 34 پیرا 34)۔

سیاق و سباق ضرورت اور تناسب کو جانچنے کی کلید ہے۔ بورڈ نے نوٹ کیا ہے کہ نیو نازی نظریہ کی حمایت اور قبولیت میں مبینہ طور پر عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور Facebook کو پلیٹ فارم پر "نفرت انگیز تنظیموں" کی موجودگی پر پابندی لگانے کا چیلنج درپیش ہے (رپورٹ A/HRC/38/53, 2018)۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ خطرناک تنظیموں کے بارے میں پیمانہ پر مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے، ضروری ہے کہ جہاں ناکافی سیاق و سباق ہو ان پوسٹوں کو ہٹایا جائے۔ اس کیس میں، الیکشن کمپین کے دوران اقتباس کا مواد اور اس کے بارے میں دوسرے صارفین کے جواب، صارف کی لوکیشن اور پوسٹ کیے جانے کا وقت یہ سبھی چیزیں متعلقہ ہیں۔ Facebook کے اس نقطہ نظر کے نتیجے میں مواد کے ماڈریٹرز کو ان متعلقہ اشاروں کی پرواہ کیے بغیر مواد کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں اظہار خیال پر غیر ضروری اور غیر متنازعہ پابندی عائد ہوتی ہے۔

d. مساوات اور عدم امتیاز

اظہار پر کسی پابندی کو مساوات اور عدم امتیاز کی بنیاد کا احترام لازمی ہے (جنرل کمنٹ 34 پیراز۔ 26 اور 32)۔ بورڈ پلیٹ فارم پر نازی نظریے کا مقابلہ کرنے کی Facebook کی اہمیت، خاص طور پر دنیا بھر میں اس طرح کے نظریات اور یہودیت کے خلاف ہونے کی حمایت میں دستاویزی اضافہ کے تناظر کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم، کسی ایسے مواد کو ہٹانا جس کا مقصد کسی سیاستدان کے طرز حکمرانی کا موازنہ نازی نظریہ کے معماروں سے ہوتا ہو تو یہ مساوات اور عدم تفریق کو فروغ نہیں دیتا ہے۔

9. اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ

9.1 مواد کا فیصلہ

اوور سائٹ بورڈ نے Facebook کے مواد کو ہٹانے کے فیصلے کو بدل دیا ہے اور پوسٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

9.2 پالیسی کا مشاورتی بیان

بورڈ تجویز کرتا ہے کہ Facebook یہ کرے:

  • یہ یقینی بنائے کہ صارفین کو کمیونٹی معیارات کو ان کے خلاف نافذ کرنے کی وجوہات کے بارے میں ہمیشہ مطلع کیا جاتا ہے، جن میں وہ خصوصی اصول شامل ہے جو Facebook نافذ کر رہی ہے (مثلاً کسی نفرت آمیز تنظیم کو سپورٹ کرنے کیلئے)۔
  • خطرناک افراد اور تنظیموں کی پالیسی میں استعمال کلیدی شرائط کے اطلاق کی مثالیں پیش کرے، جس میں "تعریف"، "مدد" اور "نمائندگی" کے معنی بھی شامل ہیں۔ یہ Facebook کے داخلی عمل درآمد کے معیارات میں استعمال ہونے والی تعریفوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ کمیونٹی معیاری کو صارفین کیلئے واضح طور پر رہنمائی فراہم کرنی چاہئے کہ خطرناک کے طور پر نامزد افراد یا تنظیموں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ان کے ارادے کو کیسے واضح کیا جائے۔
  • خطرناک افراد اور تنظیموں کے کمیونٹی معیارات کے تحت نامزد "خطرناک" تنظیموں اور افراد کی ایک عوامی فہرست فراہم کریں۔ کم از کم تصویری مثالیں فراہم کی جانی چاہئے۔ اس سے صارفین کو پالیسی کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے میں مدد ملے گی۔

*طریقۂ کار کا نوٹ:

اوور سائٹ بورڈ کے فیصلے پانچ لوگوں کی پینل تیار کرتی ہے اور اس کی اکثریت سے اتفاق کرنا لازمی ہے۔ ضروری نہیں کہ بورڈ کے فیصلے تمام ممبرز کے ذاتی خیالات کی نمائندگی کرتے ہوں۔

मामले के निर्णयों और नीति सलाहकार राय पर लौटें