Decisión de casos múltiples

ووٹنگ کے متعلق آسٹریلیائی الیکٹورل کمیشن کے اصول

اوور سائٹ بورڈ نے Meta کے دو مختلف Facebook پوسٹوں کو ہٹانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے ان پوسٹوں میں آسٹریلیائی الیکشن کمیشن کی طرف سے X پر پوسٹ کی گئی معلومات کا یکساں سکرین شاٹ شامل ہے، آسٹریلیا کے اینڈیجینس وائس ٹو پارلیمنٹ ریفرنڈم سے قبل۔

2 casos incluidos en el paquete

Confirmado

FB-0TGD816L

Facebook پر نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کی تشہیر کرنے کے متعلق کیس

Plataforma
Facebook
Tema
الیکشنز,حکومتیں,غلط معلومات
Estándar:
نقصان میں تعاون اور جرم کی اشاعت کرنا
Ubicación
آسٹریلیا
Date
Publicado el 9 de mayo de 2024
Confirmado

FB-8ZQ78FZG

Facebook پر نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کی تشہیر کرنے کے متعلق کیس

Plataforma
Facebook
Tema
الیکشنز,حکومتیں,غلط معلومات
Estándar:
نقصان میں تعاون اور جرم کی اشاعت کرنا
Ubicación
آسٹریلیا
Date
Publicado el 9 de mayo de 2024

خلاصہ

اوور سائٹ بورڈ نے Meta کی دو مختلف Facebook پوسٹوں کو ہٹانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے ان پوسٹوں میں اسی معلومات کا سکرین شاٹ شامل ہے جو آسٹریلیا کے اینڈیجینس وائس ٹو پارلیمنٹ ریفرنڈم سے قبل آسٹریلیائی الیکشن کمیشن (AEC) نے X پر پوسٹ کی تھیں۔ دونوں ہی پوسٹوں سے نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس میں ووٹنگ کے پراسس میں غیر قانونی شرکت کے مطالبے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ کیسز بتاتے ہیں کہ کس طرح سیاق و سباق سے باہر کی معلومات لوگوں کے ووٹ دینے کے حق کو متاثر کر سکتی ہیں۔ بورڈ تجویز کرتا ہے کہ Meta "غیر قانونی ووٹنگ" کے متعلق عوامی طور پر اپنی وضاحت فراہم کر کے اپنے ووٹنگ اور/یا مردم شماری میں دھوکہ دہی سے متعلق اصولوں کی وضاحت کرے۔

کیسز کا تعارف

14 اکتوبر 2023 کو، آسٹریلیا نے اپنے "اینڈیجینس وائس ٹو پارلیمنٹ ریفرنڈم" کا انعقاد کیا۔ اس سے کچھ دن پہلے، ایک Facebook صارف نے ایک گروپ میں AEC کے آفیشل اکاؤنٹ کی طرف سے X پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ کا سکرین شاٹ شیئر کیا تھا۔ دکھائی گئی معلومات میں درج ذیل چیزیں شامل تھیں: "اگر کوئی شخص اپنے انتخابی حلقے میں دو مختلف پولنگ کے مقامات پر ووٹ دیتا ہے اور ہر پولنگ کے مقام پر اپنا فارمل ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالتا ہے تو اس کا ووٹ شمار ہوگا۔" اس کے علاوہ اسی X تھریڈ میں کسی صارف کا دوسرا کمنٹ بھی موجود ہے، جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ بیلٹ کی رازداری AEC کو یہ جاننے سے روکتی ہے کہ "کون سا بیلٹ پیپر کس شخص کا ہے،" ساتھ ہی وضاحت کرتی ہے کہ "حاصل ہونے والے ڈبل (دوہرے) ووٹوں کی تعداد بہت حد تک کم ہے۔" تاہم سکرین شاٹ میں AEC کی شیئر کردہ تمام معلومات دکھائی نہیں دے رہی ہیں، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک سے زیادہ بار ووٹ دینا جرم ہے۔ پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا: "جلد ووٹ دیں، کثرت سے ووٹ دیں، اور ووٹ نہ دیں۔"

دوسری پوسٹ کسی اور Facebook صارف نے شیئر کی تھی جس میں وہی سکرین شاٹ شامل تھا لیکن اوورلے کیے گئے متن یہ بیان لکھا ہوا تھا: "تو آپ متعدد بار ووٹ دے سکتے ہیں۔ وہ ہمیں 'دھاندلی' کیلئے تیار کر رہے ہیں … ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑو … یہ نہیں چلے گا، نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔"

وائس ریفرنڈم میں آسٹریلیائی باشندوں سے یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا ایب اوریجنل اینڈ ٹورس سٹریٹ آئی لینڈ کے لوگوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی بڑھانے کیلئے آئین میں تبدیلی کی جائے۔

آسٹریلیا میں ووٹنگ لازمی ہے، AEC کی رپورٹ کے مطابق 1924 کے بعد سے ہر الیکشن اور ریفرنڈم میں تقریباً ‎90% شرکت ہوئی ہے۔ متعدد بار ووٹ دینا غیر قانونی ہے اور یہ ایک قسم کا الیکٹورل فراڈ ہے۔

Meta کے خودکار سسٹمز کے شناخت کرنے کے بعد انسانی جائزہ کاروں نے ان دونوں پوسٹوں کو Meta کی نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ہٹا دیا۔ دونوں صارفین نے اپیل کی۔

اہم نتائج

بورڈ کو معلوم ہوا کہ دونوں ہی پوسٹوں سے نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق اصول کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اس اصول میں ایسے مواد کی ممانعت ہے جو "ووٹنگ یا مردم شماری کے عمل میں غیر قانونی طور پر حصہ لینے کے واضح ارادے کی وکالت کرتا ہو، ہدایات فراہم کرتا ہو یا اس کا مظاہرہ کرتا ہو۔" پہلے کیس میں، اگر متعدد ووٹوں کی گنتی کے بارے میں AEC کی معلومات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ فقرہ "کثرت سے ووٹ دیں،" غیر قانونی ووٹنگ میں مشغول ہونے کا واضح مطالبہ ہے۔ Meta کی داخلی گائیڈ لائنز کے مطابق دو بار ووٹ دینا "غیر قانونی ووٹنگ" کی ایک قسم ہے۔ دوسرے کیس میں، اگر "ووٹنگ سنٹر پر ٹوٹ پڑو" اس فقرے کو اوورلے کیے گئے باقی متن کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ متعدد بار ووٹ دینے کیلئے پولنگ کے مقامات پر بھیڑ لگانے کیلئے لوگوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔ مذمت کرنے، آگاہی بڑھانے، خبروں کی رپورٹنگ یا مزاحیہ یا طنزیہ سیاق و سباق سے متعلق پالیسی کے مستثنیات سے دونوں میں سے کسی بھی پوسٹ کو فائدہ نہیں ہوا۔ خاص طور پر، آگاہی بڑھانے کے حوالے سے، پوسٹیں اس استثناء کے تحت نہیں آتی ہیں کیونکہ یہ AEC کی X پر کی گئی پوسٹ پر تبادلہ خیال کرنے کی بجائے معلومات کو غلط ڈھنگ سے پیش کرتے ہوئے یہ بتاتی ہے کہ AEC کا کہنا ہے کہ ایک سے زیادہ بار ووٹ دینے کی اجازت ہے۔

دوسرے صارفین کو ووٹ سے متعلق کی دھوکہ دہی میں مشغول ہونے کی ترغیب دینے والے صارفین کو روکنا ووٹ دینے کے حق کے تحفظ کا ایک جائز مقصد ہے۔ بورڈ سیاسی مواد کو جمہوری پراسسز کا ایک اہم جزو تسلیم کرتا ہے۔ ان کیسز میں، دونوں صارفین ریفرنڈم کے ذریعے شروع ہونے والی عوامی بحث میں براہ راست حصہ لے رہے تھے لیکن دوسرے صارفین سے غیر قانونی طرز عمل میں مشغول ہونے کے ان کے مطالبات نے آسٹریلیا میں رہنے والے لوگوں کے سیاسی حقوق، خاص طور پر ووٹ دینے کے حق کو متاثر کیا۔ لہذا "ووٹ نہ دیں" کے مطالبات تحفظ یافتہ سیاسی بیان ہیں، لیکن "کثرت سے ووٹ دیں" اور "ووٹنگ سنٹر پر ٹوٹ پڑو" جیسے فقرے ایک مختلف معاملہ ہے۔ بورڈ نے پایا کہ ان مسلسل دعووں کے پیش نظر کہ وائس ریفرنڈم میں دھاندلی کی گئی ہے، Meta درست تھی جو اپنے پلیٹ فارمز پر ووٹ سے متعلق بڑھتی ہوئی دھوکہ دہی کو روک کر جمہوری پراسس کا تحفظ کر رہی تھی۔

بورڈ وائس ریفرینڈم کے متعلق Meta کی کوششوں کو تسلیم کرتا ہے۔ کمپنی نے نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے اور غلط معلومات سے متعلق کمیونٹی کے معیارات کے ووٹنگ میں مداخلت کے اصولوں کے تحت ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کی مستعدی کے ساتھ نشان دہی کی۔ اس کیس میں "دوہرے ووٹ" اور " متعدد بار ووٹ دیں" جیسے فقرے ایسے کلیدی الفاظ تھے جن سے کمپنی کا کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کا سسٹم فعال ہو گیا تھا۔ Meta کے مطابق، سسٹم کو مقامی سیاق و سباق کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ شیئر کردہ معلومات کی بنیاد پر بورڈ نے نوٹ کیا کہ اس طرح کے اقدامات کو دنیا بھر میں جن ملکوں میں الیکشنز ہو رہے ہیں وہاں مسلسل لاگو کیا جانا چاہئے، حالانکہ، کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کتنی موثر ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے کامیاب اعداد و شمار تیار کرنے کیلئے Meta کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

آخرکار بورڈ نے پایا کہ نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کے متعلق کمیونٹی کے معیار کے عوامی اصول واضح نہیں ہیں۔ ان میں وہ چیزیں شامل نہیں ہیں جو جائزہ کاروں کیلئے Meta کی اندرونی گائیڈ لائنز میں دستیاب ہے، یعنی "غیر قانونی ووٹنگ" کی وہ وضاحتیں جو کمپنی نے اپنی گائیڈ لائن میں فراہم کی ہیں۔ چونکہ یہ بہت اہم ہے کہ جمہوری ایونٹس کے متعلق مفاد عامہ کے مسائل پر بات کرنے کیلئے صارفین سوشل میڈیا پر مشغول ہو سکتے ہیں، لہذا Meta کو اصولوں کے بارے میں واضح طور پر صارفین کو مطلع کرنا ہوگا۔

اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ

دونوں ہی کیسز میں اوور سائٹ بورڈ نے Meta کے مواد کو ہٹانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

بورڈ کی تجویز ہے کہ Meta یہ کرے:

  • "غیر قانونی ووٹنگ" کی اصطلاح کی تعریف کو عوام کیلئے دستیاب نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کی پالیسی میں شامل کرے جس میں "ووٹنگ یا مردم شماری کے عمل میں غیر قانونی طور پر حصہ لینے کی حمایت کرنے، ہدایات فراہم کرنے یا واضح ارادے کا مظاہرہ کرنے والے مواد کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، ماسوائے اس کے کہ اسے مذمت کرنے، آگاہی بڑھانے، خبروں کی رپورٹنگ کرنے یا مزاحیہ یا طنزیہ سیاق و سباق میں شیئر کیا گیا ہو۔"

* کیس کے خلاصوں میں کیس کا مجموعی جائزہ فراہم کیا جاتا ہے اور اس میں نظیری قدر نہیں ہوتی۔

کیس کا مکمل فیصلہ

1۔ فیصلے کا خلاصہ

اوور سائٹ بورڈ نے Facebook پر کی گئی دو مختلف پوسٹوں کو ہٹانے کے Meta کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے، ان پوسٹوں میں اس پوسٹ کا سکرین شاٹ شامل ہے جو آسٹریلیائی الیکشن کمیشن (AEC) نے X، جسے پہلے Twitter کے نام سے جانا جاتا تھا، پر شیئر کی تھی۔ Facebook صارفین کی طرف سے پوسٹ کئے گئے AEC کے سکرین شاٹس میں درج ذیل چیزیں بیان کی گئی تھیں: "اگر کوئی شخص اپنے انتخابی حلقے میں دو مختلف پولنگ کے مقامات پر ووٹ دیتا ہے اور ہر پولنگ کے مقام پر اپنا فارمل ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالتا ہے تو اس کا ووٹ شمار ہوگا۔" پہلی Facebook پوسٹ میں، سکرین شاٹ کے ساتھ میں ایک کیپشن شامل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ "جلد ووٹ دیں، کثرت سے ووٹ دیں، اور ووٹ نہ دیں۔" دوسری Facebook پوسٹ میں، سکرین شاٹ میں اوورلے کیا گیا متن شامل تھا جس میں لکھا تھا: "تو آپ متعدد بار ووٹ دے سکتے ہیں … وہ ہمیں 'دھاندلی' کیلئے تیار کر رہے ہیں … ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑو … یہ نہیں چلے گا، نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔" کیپشن میں "آسٹریلیائی الیکٹورل کمیشن" ان الفاظ کے بعد "رک جائیں" ایموجی بھی شامل تھا۔

بورڈ نے پایا کہ دونوں پوسٹوں سے نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اس معیار میں "ووٹنگ یا مردم شماری کے عمل میں غیر قانونی طور پر حصہ لینے کی حمایت کرنے، ہدایات فراہم کرنے یا واضح ارادے کا مظاہرہ کرنے والے مواد کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، ماسوائے اس کے کہ اسے مذمت کرنے، آگاہی بڑھانے، خبروں کی رپورٹنگ کرنے یا مزاحیہ یا طنزیہ سیاق و سباق میں شیئر کیا گیا ہو۔" بورڈ نے پایا کہ کسی بھی استثناء کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔

یہ کیسز الیکشنز اور ریفرنڈا جیسے جمہوری پراسسز کے حوالے سے غیر متعلقہ معلومات شیئر کرنے کے تعلق سے وسیع تر خدشات پیدا کرتے ہیں، جس میں لوگوں کے ووٹ دینے کے حق کو متاثر کرنے کی صلاحیت ہے۔ بورڈ تجویز کرتا ہے کہ Meta نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت ووٹنگ اور/یا مردم شماری میں دھوکہ دہی سے متعلق پالیسی لائنز کی مزید وضاحت کرے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ "ووٹنگ یا مردم شماری کے پراسس میں غیر قانونی شرکت" کیا ہے۔

2۔ کیس کی تفصیل اور پس منظر

14 اکتوبر 2023 کو، آسٹریلیا نے اپنے اینڈیجینس وائس ٹو پارلیمنٹ ریفرنڈم (اس کے بعد "وائس ریفرنڈم" کہا جائے گا) کا انعقاد کیا۔ ووٹ سے کچھ دن پہلے، ایک Facebook صارف نے، جو گروپ کے ایڈمن ہیں، اپنے گروپ میں آسٹریلیائی الیکشن کمیشن (AEC) کے آفیشل اکاؤنٹ سے X پر کی گئی ایک پوسٹ کا سکرین شاٹ شیئر کیا تھا۔ AEC کی طرف سے X پر کی گئی پوسٹ میں درج ذیل چیزیں بیان کی گئیں تھیں: "اگر کوئی شخص اپنے انتخابی حلقے میں دو مختلف پولنگ کے مقامات پر ووٹ دیتا ہے اور ہر پولنگ کے مقام پر اپنا فارمل ووٹ بیلٹ باکس میں ڈالتا ہے تو اس کا ووٹ شمار ہوگا۔" ان سکرین شاٹس میں X پر اسی تھریڈ کا دوسرا کمنٹ بھی دکھائی دے رہا ہے، جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ بیلٹ کی رازداری AEC کو یہ جاننے سے روکتی ہے کہ "کون سا بیلٹ پیپر کس شخص کا ہے،" ساتھ ہی لوگوں کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ "حاصل ہونے والے دوہرے ووٹوں کی تعداد بہت حد تک کم ہے۔" تاہم سکرین شاٹ میں AEC کی شیئر کردہ تمام معلومات دکھائی نہیں دے رہی ہیں، بشمول یہ کہ آسٹریلیا میں ایک سے زیادہ بار ووٹ دینا جرم ہے۔ پہلی Facebook پوسٹ میں ایک کیپشن شامل تھا جس میں کہا گیا تھا کہ "جلد ووٹ دیں، کثرت سے ووٹ دیں، اور ووٹ نہ دیں۔"

دوسری پوسٹ میں X پر کی گئی AEC کی پوسٹ کا وہی سکرین شاٹ شامل تھا، اس پوسٹ کو دوسرے Facebook صارف نے اپنی پروفائل پر ایک دن بعد شیئر کیا تھا۔ اس میں اوورلے کیا گیا متن شامل تھا جس میں لکھا تھا: "تو آپ متعدد بار ووٹ دے سکتے ہیں۔ وہ ہمیں 'دھاندلی' کیلئے تیار کر رہے ہیں … ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑو … یہ نہیں چلے گا، نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔" کیپشن میں "آسٹریلیائی الیکٹورل کمیشن" ان الفاظ کے بعد "رک جائیں" ایموجی بھی شامل تھا۔

دونوں ہی پوسٹوں کی Meta نے مستعدی کے ساتھ شناخت کی۔ اس کیس میں "دوہرے ووٹ" اور " متعدد بار ووٹ دیں" جیسے فقرے ایسے کلیدی الفاظ تھے جن سے کمپنی کا "کلیدی لفظ پر مبنی پائپ لائن کا اقدام" فعال ہو گیا تھا۔ کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کا یہ طرز عمل ایک منظم طریقۂ کار ہے جو Meta کی طرف سے "ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد بشمول لیکن بلا تحدید ووٹر اور مردم شماری میں مداخلت سے متعلق مواد" کی مستعدی کے ساتھ شناخت کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دونوں ہی پوسٹوں کو خودکار طور پر انسانی جائزے کیلئے قطار میں رکھا گیا۔ انسانی جائزہ کے بعد، دونوں ہی پوسٹوں کو نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ہٹا دیا گیا تھا۔ Meta نے دونوں صارفین کی پروفائل پر ایک معیاری سٹرائک اور 30 دن کیلئے فیچر پر پابندی بھی عائد کی، جس سے صارفین کو Facebook گروپس میں پوسٹ کرنے، خبروں کے گروپس بنانے یا Messenger رومز میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا۔

بورڈ نے ان کیسز کے حوالے سے اپنے فیصلے تک پہنچنے میں درج ذیل سیاق و سباق کو نوٹ کیا ہے:

وائس ریفرنڈم میں یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کو تسلیم کرنے کیلئے آسٹریلیا کے آئین میں تبدیلی کر کے "ایب اوریجنل اینڈ ٹورس سٹریٹ آئی لینڈر وائس نامی ایک تنظیم قائم کی جائے"، "جو ایب اوریجنل اینڈ ٹورس سٹریٹ آئی لینڈ کے لوگوں سے متعلق معاملات پر پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو گورنمنٹ آف دی کامن ویلتھ میں نمائندگی کرنے" کے قابل ہو سکتی ہے۔ وائس ریفرنڈم کے بارے میں متعلقہ پس منظر کی معلومات اس حقیقت پر مشتمل ہے کہ آسٹریلیا میں ایب اوریجنل اینڈ ٹورس سٹریٹ آئی لینڈ کے لوگ ملک میں سب سے زیادہ سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ گروپس میں سے ہیں، جو بہت بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، اعلیٰ تعلیم میں ان کی شرکت سب سے کم ہے، ان کی صحت خراب ہے (جسمانی اور ذہنی صحت دونوں)، دیگر آسٹریلوی باشندوں کے مقابلے ان کی متوقع عمر بہت کم ہے اور ان پر بہت زیادہ بندشیں ہیں۔ ایب اوریجنل اینڈ ٹورس سٹریٹ آئی لینڈ کے لوگوں کو بھی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ صنفی اور پولیس کے تشدد سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم اینتھنی البانیز نے آئینی ترمیم کے حق میں مہم چلائی (اس کی حمایت میں "ہاں" کہا)، جبکہ آسٹریلیا کے مرکزی اپوزیشن اتحاد نے اس کے خلاف مہم چلائی (اس کی حمایت "نہیں" کی)۔ اس تجویز کو قومی سطح پر اور تمام چھ ریاستوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا تھا، اس طرح آسٹریلیا کے آئین میں ترمیم کیلئے درکار دوہری اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

آسٹریلیا میں ووٹنگ لازمی ہے اور AEC کی رپورٹ کے مطابق 1924 کے بعد سے ہر عام الیکشن اور ریفرنڈم میں تقریباً ‎90% شرکت ہوئی ہے۔ کامن ویلتھ الیکٹورل ایکٹ 1918 اور ریفرنڈم (مشینری پروویژنز) ایکٹ 1984 کے تحت متعدد بار ووٹ دینا ریاستی اور وفاقی دونوں سطحوں پر ایک قسم کا الیکٹورل فراڈ ہے۔ وائس ریفرنڈم میں متعدد ووٹنگ کے الزامات کے جواب میں، AEC نے X پر ایک لمبا تھریڈ پوسٹ کیا، جس میں کہا گیا کہ ایک سے زیادہ ووٹنگ "بہت کم" ہوئی ہے اور اس عمل کو روکنے کیلئے AEC کیا اقدامات کر رہی ہے اس کا خاکہ پیش کیا گیا۔ AEC نے اپنی ویب سائٹ پر وضاحت کی ہے کہ دوہری ووٹنگ سے بچنے کیلئے، ہر پولنگ کے مقام کے ڈویژن کیلئے تمام ووٹرز کی یکساں مصدقہ لسٹیں جاری کی جاتی ہیں۔ جب الیکٹرز کو بیلٹ پیپرز کا سیٹ جاری کیا جاتا ہے تو اس جاری کرنے کے مقام پر موجود مصدقہ لسٹ سے ان کے نام کو ہٹانے کیلئے نشان لگا دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی الیکٹر ایک اور عام ووٹ دینے کیلئے کسی دوسرے ایشونگ پوائنٹ پر جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس ڈویژن کی مصدقہ لسٹ کی دوسری کاپی پر یہ نشان لگایا جائے گا کہ اس شخص کو بیلٹ پیپرز جاری کر دیے گئے ہیں۔ ووٹنگ کے دن کے فوراً بعد، ہر ڈویژن کی ہر یکساں مصدقہ لسٹ کو سکین کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی نام پر متعدد نشانات کی جانچ کی جا سکے۔ اس کے بعد AEC تحقیق کرتی ہے اور ہر اس الیکٹر کو لکھتی ہے جس پر متعدد ووٹنگ کا شبہ ہو۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے وہ اپنے جواب میں کچھ وجوہات بتاتے ہیں جیسے کہ "پولنگ افسر کی غلطی" یا یہ وضاحت کہ"زبان یا خواندگی کی دشواری" پیش آئی تھی یا یہ کہ وہ شخص "بوڑھے اور الجھن کا شکار تھے اور انہوں نے ایک سے زیادہ بار ووٹ دے دیا کیوں کہ وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ پہلے ہی ووٹ دے چکے ہیں۔" اگر مسئلہ حل نہیں ہو پاتا ہے تو باقی کیسز کی مزید تفتیش AEC کرتی ہے اور ہو سکتا ہے آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کو بھیجا جائے تاکہ ان پر غور کرنے کیا جا سکے۔

2019 میں، AEC نے تصدیق کی تھی کہ متعدد ووٹنگ ایک "بہت چھوٹا مسئلہ" تھا، ‎91.9% شرکت میں سے صرف ‎0.03% کو متعدد ووٹنگ کیلئے نشان زد کیا گیا تھا اور متعدد ووٹنگ کے واقعات میں زیادہ تر ایسے ووٹرز نے غلطیاں کی تھیں جو بوڑھے تھے، کم پڑھے لکھے تھے یا جنہیں الیکٹورل پراسس کی زیادہ سمجھ نہیں تھی۔ بورڈ کو جمع کرائے گئے اپنے عوامی کمنٹ میں AEC نے اعادہ کیا کہ آسٹریلیا میں متعدد ووٹنگ ہونے کی شرح "نہ کے برابر" ہے۔ AEC کے مطابق، 2022 کے وفاقی الیکشن کے سیاق و سباق میں کل 1 کروڑ 55 لاکھ ووٹوں میں سے بظاہر متعدد ووٹنگ کے صرف 13 کیسز مزید تحقیق کیلئے آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کو بھیجے گئے، (PC-25006؛ PC-25007 بھی دیکھیں)۔

بورڈ نے جن ماہرین سے مشورہ کیا ان کے مطابق ‎#StopTheSteal اور ‎#RiggedReferendum ہیش ٹیگز کے ساتھ کی گئیں کچھ پوسٹوں میں وائس ریفرینڈم میں اکثر دھاندلی کے دعوے کیے گئے تھے۔ رپورٹ کرنے والے صحافی نے بھی نمایاں کیا کہ وائس ریفرنڈم کے تناظر میں ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی کے دعوے عام تھے۔ بورڈ نے جن ماہرین سے مشورہ کیا ان کے ذریعے تعینات سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹولز کی بنیاد پر، فروری 2024 تک، X پر AEC کی پوسٹوں کے سکرین شاٹس کو Meta پلیٹ فارمز پر 475 سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا گیا، جن پر ہزاروں ردعمل آئے اور انہیں کم از کم 30,000 بار دیکھا گیا۔

3۔ اوور سائٹ بورڈ اتھارٹی اور دائرۂ کار

جس فرد کا مواد ہٹا دیا گیا ہو اس کی اپیل کے بعد بورڈ کو Meta کے فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار ہے (چارٹر آرٹیکل 2، سیکشن 1؛ خصوصی قوانین آرٹیکل 3، سیکشن 1)۔

بورڈ چاہے تو Meta کے فیصلے کو برقرار رکھے یا کالعدم کر دے (چارٹر آرٹیکل 3، سیکشن 5) اور یہ فیصلہ کمپنی ماننا پڑے گا (چارٹر آرٹیکل 4)۔ Meta کو متوازی سیاق و سباق کے ساتھ یکساں مواد کے سلسلے میں اپنے فیصلے کا اطلاق کرنے کے فائدے کا بھی اندازہ کرنا چاہیے (چارٹر آرٹیکل 4)۔ بورڈ کے فیصلے غیر مشروط تجاویز پر مشتمل ہو سکتے ہیں جن کا Meta کو جواب دینا لازمی ہے (چارٹر آرٹیکل 3، سیکشن 4؛ آرٹیکل 4)۔ جب Meta تجاویز پر عمل کرنے کا عزم کرتی ہے، بورڈ ان تجاویز کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔ جب بورڈ ایسے کیسز کی نشاندہی کرتا ہے جو ملتے جلتے مسائل کو اٹھاتے ہیں تو وہ مل کر سوچنے کیلئے بنڈل کے طور پر ایک پینل کو تفویض کیے جا سکتے ہیں۔ ہر مواد کے حوالے سے ایک واجب التعمیل فیصلہ کیا جائے گا۔

4۔ اتھارٹی کے ذرائع اور رہنمائی

ان کیسز میں بورڈ کا تجزیہ مندرجہ ذیل معیارات اور مثالوں پر مشتمل ہے:

I۔ اوور سائٹ بورڈ کے فیصلے

II۔ Meta کی مواد کی پالیسیاں

Meta کی نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کے متعلق پالیسی کے استدلال میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد "آف لائن نقصان اور نقل کرنے والے رویے کو روکنا ہے، لہذا اس معیار کے تحت مواد میں ایسی مجرمانہ یا نقصان دہ سرگرمیوں کی سہولت فراہم کرنے، اہتمام کرنے، پروموٹ کرنے یا تسلیم کرنے سے منع کیا گیا ہے جن میں افراد، بزنسز، املاک یا جانوروں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔" اس پالیسی میں صارفین کو ایسا مواد پوسٹ کرنے سے روکا گیا ہے جس کا مقصد ووٹنگ یا مردم شماری کے عمل میں غیر قانونی طور پر حصہ لینے کے واضح ارادے کی وکالت کرنا، ہدایات فراہم کرنا، یا اس کا مظاہرہ کرنا ہو، سوائے اس کے کہ اسے مذمت کرنے، آگاہی بڑھانے، خبروں کی رپورٹنگ کرنے یا مزاحیہ یا طنزیہ سیاق و سباق میں پوسٹ کیا گیا ہو۔

ووٹر یا مردم شماری میں مداخلت کرنے والے مواد کی بھی اقسام ہیں جنہیں پالیسی کے تحت ہٹایا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس کے جواز کیلئے اضافی سیاق و سباق موجود ہو۔ ان میں "منظم مداخلت کے ایسے مطالبات شامل ہیں جو کسی فرد کے حکومتی الیکشن یا مردم شماری میں حصہ لینے کی صلاحیت کو متاثر کریں گے" اور ساتھ ہی "ووٹروں یا الیکشن کے عہدیداروں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے یا دیکھنے کیلئے الیکشن کے مقام پر جانے کی دھمکی بھی شامل ہیں اگر یہ دھونس کے عنصر پر بھی مشتمل ہوں۔"

‏Meta کی تشدد اور اشتعال کی پالیسی کا مقصد ایسے "ممکنہ آف لائن نقصان" سے حفاظت کرنا ہے جس کا تعلق Meta کے پلیٹ فارمز پر پوسٹ کردہ مواد سے ہوسکتا ہے۔ اس میں "ایسی دھمکیاں جو موت کا باعث بن سکتی ہیں (اور شدید تشدد کی دیگر اقسام)" کے ساتھ ساتھ "ہتھیار اٹھانے یا کسی مقام " جیسے کہ "پولنگ کے مقامات یا ووٹوں کی گنتی کیلئے یا الیکشن کا انتظام کرنے کیلئے استعمال ہونے والی لوکیشنز پر ہتھیار لانے یا وہاں زبردستی داخل ہونے" کی دھمکیاں دینے کی ممانعت ہے۔ اس میں تشدد کی ایسی دھمکیوں کی بھی ممانعت ہے جو "ووٹنگ، ووٹر رجسٹریشن یا الیکشن کے انتظام یا نتائج سے متعلق ہوں، چاہے ان کا کوئی ہدف نہ ہو۔"

Meta کی غلط معلومات کی پالیسی بیان کیا گیا ہے کہ کمپنی مختلف زمروں کی غلط معلومات سے کیسے نمٹتی ہے۔ ان زمروں میں سے ایک کے تحت، Meta "الیکشن اور مردم شماری کی سالمیت کو پروموٹ کرنے کی کوشش کے تحت"، "ایسی غلط معلومات کو ہٹا دیتی ہے جس سے ان [سیاسی] پراسسز میں لوگوں کی شرکت کی اہلیت میں براہ راست مداخلت کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔" اس میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں، "اس بارے میں غلط معلومات کہ کون ووٹ دے سکتا ہے، ووٹنگ کرنے کی اہلیتیں، آیا ووٹ گنا جائے گا اور کون سی معلومات یا مواد ووٹ دینے کیلئے فراہم کیا جانا لازمی ہیں۔"

III۔ ‏Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں

‏2011 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے توثیق شدہ بزنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے UN کے رہنما اصول (UNGPs) پرائیویٹ بزنسز کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے رضاکارانہ فریم ورک کا قیام کرتے ہیں۔ ‏2021 میں، Meta نے اپنی انسانی حقوق کی کارپوریٹ پالیسی کا اعلان کیا، جس میں اس نے UNGPs کے مطابق انسانی حقوق کا احترام کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کیس میں Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے بارے میں بورڈ کا تجزیہ درج ذیل بین الاقوامی معیارات پر مشتمل ہے:

  • اظہار رائے کی آزادی کا حق: بین الاقوامی عہد کے معاشرتی اور سیاسی حقوق ( ICCPR) کا آرٹیکل 19؛ جنرل کمنٹ نمبر 34، انسانی حقوق کمیٹی، 2011؛ اظہار رائے اور اظہار خیال کی آزادی پر اقوام متحدہ کے خصوصی روداد نویس کی رپورٹس: A/HRC/38/35 (2018) اور A/74/486 (2019)۔
  • ووٹ دینے اور عوامی امور میں شریک ہونے کے حقوق: آرٹیکل 25، ICCPR؛ جنرل کمنٹ نمبر 25، انسانی حقوق کمیٹی، 1996۔

5۔ صارف کی جمع کرائی گئی معلومات

بورڈ کو دیے گئے اپنے بیان میں، دونوں ہی صارفین نے دعویٰ کیا کہ وہ محض AEC کی پوسٹ کردہ معلومات شیئر کر رہے تھے۔ دوسری پوسٹ کرنے والے صارف نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی پوسٹ کا مقصد "دوسروں کو انتباہ" کرنا تھا کہ متعدد ووٹنگ کی اجازت دینے سے "الیکشن میں دھوکہ دہی" ہو سکتی ہے کیوں کہ لوگوں کو ناموں کی لسٹ میں اپنے ناموں کو نشان زد کروانے کیلئے "ID دکھانے کی ضرورت نہیں ہے"۔

6۔ ‏Meta کی جمع کرائی گئی معلومات

Meta نے تعین کیا کہ دونوں ہی پوسٹوں سے نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی پالیسی لائن کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس میں "ووٹنگ یا مردم شماری کے عمل میں غیر قانونی طور پر حصہ لینے کے واضح ارادے کی وکالت کرنا، ہدایات فراہم کرنا یا اس کا مظاہرہ کرنا" منع ہے۔ مواد کا جائزہ لینے والوں کیلئے Meta کی داخلی گائیڈ لائنز کی بنیاد پر، Meta کی ووٹنگ میں مداخلت کی پالیسیاں الیکشنز اور "آفیشل ریفرنڈا جس کا انتظام قومی سطح پر نامزد اتھارٹی کرتی ہیں" دونوں پر لاگو ہوتی ہیں۔ اصطلاح "غیر قانونی ووٹنگ" میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں، "لیکن ان ہی تک محدود نہیں ہیں": "(a) دو بار ووٹ دینا؛ (b) ووٹنگ کی فرضی معلومات بنانا تاکہ آپ ایسی جگہ ووٹ دے سکیں جہاں آپ ووٹ دینے کیلئے اہل نہیں ہیں؛ (c) ووٹنگ کی فرضی اہلیت بنانا؛ اور (d) بیلٹ چوری کرنا۔

پہلی پوسٹ کے حوالے سے، Meta نے اس بات پر زور دیا کہ "کثرت سے ووٹ دیں" اس فقرے کو "عام طور پر الیکشن میں ایک سے زیادہ مرتبہ غیر قانونی طور پر ووٹ دینا سمجھا جاتا ہے۔" کمپنی کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس فقرے کا مقصد مزاح یا طنز نہیں تھا، کیونکہ صارف لوگوں سے ووٹ "نہیں" دینے کا مطالبہ کر رہا تھا، جو Meta کی نظر میں صارف کی سیاسی ترجیح کو پروموٹ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ کمپنی نے بورڈ کو یہ بھی بتایا کہ الیکشن کے متعلق مواد کا بڑے پیمانے پر جائزہ لیتے وقت، ممکنہ طنز پوسٹ کرنے والے صارفین کے ارادے کا اندازہ لگانا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا ہے۔

دوسری پوسٹ کے حوالے سے Meta نے "ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑو" فقرے کو خلاف ورزی کرنے والا پایا۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ صارف کا مطالبہ "ڈپلیکیٹ ووٹنگ کے ذریعے الیکشن کو برباد کرنے کی وکالت کرنے کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے،" جس کی "ووٹنگ یا مردم شماری کے عمل میں غیر قانونی طور پر حصہ لینے کے واضح ارادے کی وکالت کرنے …" کے متعلق نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کی پالیسی لائن کے تحت ممانعت ہے۔

Meta کے مطابق، اگر ووٹنگ سنٹر کی عمارتوں کو تباہ کرنے کے مطالبے کو لفظی معنی میں لیا جائے، تو اس فقرے سے تشدد اور اشتعال سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی ہوگی، اس بات کے پیش نظر کہ پالیسی میں درج ذیل کی ممانعت ہے : (i) کسی عمارت کے خلاف انتہائی شدید تشدد کی دھمکیاں جن کے نتیجے میں ہدف بنائے گئے مقام پر موجود کسی شخص کی موت ہو سکتی ہے یا شدید چوٹ لگ سکتی ہے؛ اور (ii) تشدد کی دھمکیاں جو "ووٹنگ، ووٹر رجسٹریشن یا انتظامیہ یا الیکشن کے نتائج سے متعلق ہوں؛ چاہے ان کا کوئی ہدف نہ ہو۔" مواد کا جائزہ لینے والوں کیلئے Meta کی داخلی گائیڈ کی بنیاد پر، مقامات کے حوالے سے دی جانے والی دھمکیوں میں "واضح الفاظ" شامل ہونے چاہئیں، جیسے کہ "اڑا دیں،" "جلا ڈالیں،" "شوٹ کر دیں" اور عام اصطلاحات جیسے "حملہ،" "گھات لگانا" اور "تباہ کرنا" تاکہ مواد کو اس پالیسی کے مطابق خلاف ورزی کرنے والا سمجھا جا سکے۔

Meta نے وائس ریفرنڈم کیلئے کمپنی کی سالمیت کی کوششوں کو جولائی 2023 میں ایک بلاگ پوسٹ میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ Meta نے بورڈ کو یہ بتایا کہ اس نے اپریل 2023 میں ریفرنڈم کی تیاری شروع کرنے کیلئے ایک کراس فنکشنل ٹیم تیار کی تھی۔ قومی الیکشنز کے معیاری عمل کے مطابق یہ ٹیم ایشیا پیسیفک میں مقیم ٹیموں پر مشتمل تھی۔ Meta نے ووٹنگ سے پہلے الیکشن کمپین کے آخری ہفتے کے دوران ایک ورچوئل انٹیگریٹی پراڈکٹ آپریشنز سنٹر (IPOC) بھی تشکیل دیا تاکہ ممکنہ تناؤ کے دوران ریفرنڈم پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ ووٹنگ کے دن سے پہلے تک کیے جانے والے ایسکیلیشز اور شدید خطرات کا فوری جواب دینے کیلئے IPOC میں اضافی آپریشنل ٹیمیں شامل تھیں۔ Meta نے وائس ریفرنڈم کیلئے کرائسز پالیسی پروٹوکول یا کسی دیگر پالیسی لیور(حکمت عملی) کا اطلاق نہیں کیا۔

Meta نے کمپنی کے "کلیدی لفظ پر مبنی پائپ لائن کے اقدام" کی بھی وضاحت کی، جو کلیدی الفاظ پر مشتمل ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کی نشاندہی کرتا ہے، چاہے وہ متن ہو یا سکرین شاٹس جیسی تصاویر، اور اسے خودکار طور پر "ایک خصوصی ڈیجیٹل پائپ لائن کے ذریعے جو مخصوص کلیدی الفاظ کو سکین کرتی ہے"، انسانی جائزہ کیلئے قطار میں رکھ دیتا ہے۔ Meta نے بورڈ کو بتایا کہ لسٹ میں بہت سے الفاظ اور فقرے شامل ہیں جو Meta کی غلط معلومات اور علاقائی مسائل پر کام کرنے والی ٹیموں نے تیار کیے ہیں۔ کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کے اس سسٹم کا بنیادی کام "متعلقہ مواد کی منظم طریقے سے شناخت کرنا اور دستی طور پر جائزہ لے کر" الیکشنز اور ریفرنڈا کی "سالمیت کو یقینی بنانا" ہے۔ اس کیس میں، وائس ریفرینڈم کیلئے سیٹ اپ کردہ ورچوئل IPOC کی وجہ سے کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کے سسٹم کو فعال کر دیا گیا تھا۔ Meta نے اس اقدام کو عالمی پیمانے پر نافذ کیا ہے۔ یہ مخصوص ممالک یا علاقوں تک محدود نہیں ہے لیکن اسے مقامی سیاق و سباق کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے۔ Meta کے مطابق، کلیدی الفاظ کی لسٹ "ڈائنامک" ہے، تبدیلی کے تابع ہے اور "ہر واقعہ کی نوعیت کیلئے مخصوص ہے۔"

یہ اقدام Meta کے کمیونٹی کے معیارات کے درج ذیل شعبوں کو فعال طور پر نافذ کرتا ہے: (i) نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق پالیسی جس میں "ووٹنگ اور/یا مردم شماری میں دھوکہ دہی، بشمول نقد تحائف کے ساتھ ووٹ خریدنے یا بیچنے کی پیشکشیں، اور ووٹنگ یا مردم شماری کے پراسس میں غیر قانونی شرکت کی حمایت کرنے یا ہدایات دینے والے بیانات سے متعلق مسئلے کو حل کیا جاتا ہے؛" اور (ii) غلط معلومات سے متعلق پالیسی جس کی توجہ ووٹنگ یا مردم شماری میں مداخلت پر مرکوز ہوتی ہے، اس میں "ووٹ دینے یا مردم شماری کی تاریخوں، مقامات، اوقات، طریقے، ووٹر کی اہلیت، ووٹ کی گنتی اور ووٹنگ کے ضروری مواد کے بارے میں غلط معلومات" شامل ہیں۔ وائس ریفرنڈم کیلئے کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کا سسٹم الیکشنز یا ووٹنگ سے متعلق دیگر مواد کی پالیسیوں کو فعال طور پر نافذ کرنے کیلئے نہیں بنایا گیا تھا، جیسے کہ وہ پالیسیاں جو تشدد اور اشتعال سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت آتی ہیں۔ تاہم، اگر اس اقدام کے ذریعے فلیگ کئے گئے مواد سے کمیونٹی کے دیگر معیارات کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ بھی انسانی جائزے کے بعد نفاذ کے تابع ہوگا۔

اس کیس کے مواد کے تعلق سے، "دوہرے ووٹ" اور " متعدد بار ووٹ دیں" کے فقرے ایسے کلیدی الفاظ تھے جن سے Meta کا شناخت کا سسٹم فعال ہو گیا تھا۔ "دوہرے ووٹ" کی اصطلاح Facebook پوسٹوں میں براہ راست استعمال نہیں کی گئی تھی لیکن یہ X پر AEC کی پوسٹ کے سکرین شاٹ میں نظر آئی۔ ان کلیدی الفاظ پر مشتمل کوئی بھی مواد، چاہے وہ متن کے طور پر ہو یا سکرین شاٹس جیسی تصاویر میں ہوں، یہ "خودکار طور پر فلیگ ہو جاتا ہے اور انسانی جائزے کی قطار میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ ووٹ دبانے سے متعلق تقریر کی مستعدی کے ساتھ نگرانی ہو سکے۔"

بورڈ نے Meta سے تحریری شکل میں 12 سوالات پوچھے۔ Meta کی ووٹنگ میں مداخلت کے مواد سے متعلق پالیسیوں، کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کا سسٹم اور ایسے پروٹوکولز جو Meta نے وائس ریفرنڈم سے متعلق مواد کو ماڈریٹ کرنے کیلئے اپنائے تھے ان کے متعلق سوالات۔ ‏Meta نے تمام سوالات کے جواب دیے۔

7۔ پبلک کمنٹس

اوور سائٹ بورڈ کو پانچ پبلک کمنٹس موصول ہوئے جو جمع کرائی گئی معلومات کی شرائط کے مطابق ہیں۔ تین کمنٹس ایشیاء پیسیفک اور اوشیانا کے علاقے سے (تمام آسٹریلیا سے)، ایک کمنٹ امریکہ اور کینیڈا سے اور ایک یورپ سے ارسال کیا گیا تھا۔ شائع کرنے کی رضامندی کے ساتھ جمع کرائے گئے پبلک کمنٹس پڑھنے کیلئے، براہ کرم یہاں کلک کریں۔

جمع کرائی گئی معلومات میں درج ذیل موضوعات کو شامل کیا گیا ہے: وائس ریفرنڈم کی وجہ بننے والے سماجی اور تاریخی حالات، آسٹریلیا میں ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی کی تاریخ، وائس ریفرنڈم کے دوران گمراہ کن اور غیر متعلقہ معلومات کا پھیلاؤ، اور Meta کی مواد کی پالیسیاں اور عام طور پر غلط معلومات پر عمل درآمد کے طریقے۔

8۔ اوور سائٹ بورڈ کا تجزیہ

Meta کی مواد کی پالیسیوں، انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور اقدار کا تجزیہ کر کے بورڈ نے جائزہ لیا کہ آیا ان پوسٹوں کو ہٹایا جانا چاہیے۔ بورڈ نے مواد کے نظم و ضبط کے حوالے سے Meta کے وسیع تر نقطہ نظر کیلئے اس کیس کے مضمرات کا بھی جائزہ لیا۔

2024 میں ہونے والے الیکشنز کی بڑی تعداد کے پیش نظر، بورڈ نے ان کیسز کا انتخاب ووٹنگ کی گمراہ کن یا غیر متعلقہ معلومات یا ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی کے حوالے سے Meta کی مواد کی ماڈریشن سے متعلق پالیسیوں اور نفاذ کے طرز عمل کی جانچ کرنے کیلئے کیا تھا۔ یہ کیسز بورڈ کی الیکشنز اور سِوِک سپیس کی حکمت عملی پر مبنی ترجیح میں شمار ہوتے ہیں۔

8.1 ‏Meta کے مواد کی پالیسیوں کی تعمیل

I۔ مواد کے اصول

بورڈ نے پایا کہ دونوں ہی پوسٹوں سے نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس میں ووٹنگ یا مردم شماری کے پراسس میں غیر قانونی شرکت کی حمایت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ پہلی پوسٹ میں یہ فقرہ "کثرت سے ووٹ دیں،" متعدد ووٹوں کی گنتی کے بارے میں AEC کی X پر کی گئی پوسٹ کے ساتھ شیئر کئے جانے پر، اس طرح کے عمل میں شامل ہونے کا واضح مطالبہ ہے۔ مواد کا جائزہ لینے والوں کیلئے Meta کی داخلی گائیڈ لائنز کے مطابق دوبارہ ووٹ دینا "غیر قانونی ووٹنگ" کی ایک قسم ہے۔

دوسری پوسٹ سے بھی نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کی پالیسی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس میں X کی ایک پوسٹ کا سکرین شاٹ شامل تھا اور اس میں اوورلے کیا گیا متن تھا جس میں کہا گیا تھا، "تو آپ متعدد بار ووٹ دے سکتے ہیں۔" اس میں لوگوں سے "ووٹنگ سنٹر پر ٹوٹ پڑنے" کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے لوگوں کو ممکنہ طور پر "متعدد بار ووٹ دینے" کی اجازت دینے کی وجہ سے صارف محض AEC کے ساتھ اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ تاہم، اس فقرے کو، جب سکرین شاٹ پر اوورلے کیے گئے باقی متن کے ساتھ پڑھا جاتا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ AEC متعدد ووٹنگ کی چشم پوشی کر رہا ہے اور اس پر لوگوں کو "دھاندلی" کیلئے تیار کرنے کا الزام لگا رہا ہے، اسے معقول طور لوگوں سے متعدد ووٹ دینے کیلئے پولنگ کے مقامات کو بھر دینے کی وکالت کرنے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیائی الیکشنز کے تناظر میں، جہاں ووٹنگ لازمی ہے اور شرکت ‎90% سے زیادہ ہے، "ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑنے" کی یوں تشریح کرنا مناسب نہیں ہے کہ لوگوں سے ایک بار ووٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، خاص طور پر جب بعد میں اس مطالبے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگ "متعدد بار ووٹ دے سکتے ہیں۔" صارف کی لوگوں سے بار بار ووٹ "نہیں" ("نہیں، نہیں، نہیں ،نہیں نہیں") دینے کی درخواست سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔ اگر پورا اور آسٹریلیائی الیکشن کے تناظر میں پڑھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوسٹ میں دو بار ووٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کا مطلب "غیر قانونی ووٹنگ" ہے اور نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق پالیسی میں اس کی ممانعت ہے۔

بورڈ نے تسلیم کیا ہے کہ اگرچہ یہ امکان ہے کہ پوسٹوں کو طنز کرنے کیلئے بنایا گیا ہو، لیکن ان کا طنزیہ ارادہ واضح نہیں ہے۔ کیپشنز کی زبان اور تصاویر پر اوورلے کیے گئے متن کو زیر غور لاتے ہوئے بورڈ اس بات پر یقین نہیں رکھتا ہے کہ پوسٹوں کا مقصد واضح طور پر طنز کرنا تھا۔ اگرچہ دونوں پوسٹوں میں مختلف طریقے سے کسی عمل کو انجام دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن دونوں میں متعدد یعنی "غیر قانونی" ووٹنگ میں ملوث ہونے کی درخواست کی گئی ہے۔ الیکشن کے تناظر میں ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی کی کوششوں سے وابستہ خطرات کے پیش نظر، بورڈ کا خیال ہے کہ Meta کی مزاحیہ یا طنزیہ استثناء کا اطلاق، ایسے حالات میں، صرف ایسے مواد پر ہونا چاہئے جو واضح طور پر مزاحیہ ہو۔ لہذا، کوئی بھی پوسٹ اس استثناء کیلئے اہل نہیں ہوئی۔

یہ پوسٹیں نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق پالیسی کے تحت آگاہی بڑھانے کے استثناء کیلئے بھی اہل نہیں ہیں۔ یہ سکرین شاٹس اور زیادہ تر صارف کے تخلیق کردہ مواد کو AEC کے بیان کی بنیاد پر ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی کے امکان کی طرف توجہ دلانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے اس سے آگے بڑھ کر سرگرمی کے ساتھ دوسروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ X پر AEC کی پوسٹوں پر صرف بحث کرنے کی بجائے متعدد ووٹنگ کے ذریعے وائس ریفرنڈم میں غیر قانونی طور پر حصہ لیں۔ X پر اسی تھریڈ میں، پوسٹوں میں AEC کا فراہم کردہ اضافی سیاق و سباق نہیں تھا کہ آسٹریلیا میں متعدد بار ووٹ دینا جرم ہے۔ لہذا، متعدد ووٹنگ کے امکان کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی بجائے، دونوں پوسٹوں میں AEC کی مواصلات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ AEC کے مطابق ایک سے زیادہ ووٹ ڈالنا جائز ہے۔

Meta کے برعکس، بورڈ نہیں مانتا ہے کہ اس کیس میں لفظ "کچل ڈالیں" (جس کا مطلب عمارتوں کی تباہی) کا زیادہ لفظی معنی قابل اطلاق ہے، اس سمت اشارہ کرنے والے ثبوتوں کی کمی کے پیش نظر (مثال کے طور پر، براہ راست تشدد بھڑکانے والے مواد کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے ساتھ تنازعات یا بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تناظر)۔ لہذا بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ دوسری پوسٹ سے Meta کی تشدد اور اشتعال سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ہے۔

بورڈ نے بھی Meta کی غلط معلومات سے متعلق پالیسی کے مطابق دونوں مواد کی تشخیص کی، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دونوں مواد میں AEC کی مواصلت کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس کیس میں نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق کمیونٹی کا معیار قابل اطلاق پالیسی ہے کیوں کہ دونوں ہی صارفین دوسروں کو ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی میں مشغول ہونے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

II۔ نفاذ کا عمل

بورڈ وائس ریفرنڈم کیلئے Meta کی سالمیت کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی ستائش کرتا ہے کہ Meta نے کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کے سسٹم کو عمل میں لایا ہے۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ سسٹم کو نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے اور غلط معلومات سے متعلق کمیونٹی کے معیارات کے ووٹنگ میں مداخلت کی پالیسی لائن کے تحت ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کی مستعدی کے ساتھ نشان دہی کرنے کیلئے تعینات کیا گیا تھا۔ Meta کے مطابق، کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کے سسٹم کو مقامی سیاق و سباق کے مطابق ڈھالا گیا ہے اور اس میں مارکیٹ کی مخصوص اصطلاحات شامل ہیں۔ اقدام کے طریقۂ کار کے متعلق Meta نے بورڈ کے ساتھ جو معلومات شیئر کی ہیں، بورڈ اس بات کی تعریف کرتا ہے کہ کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کے سسٹم کو تعینات کیا گیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ یہ اس کیس میں کارگر رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات کو دنیا بھر میں جن ملکوں میں الیکشنز اور دیگر جمہوری پراسس ہو رہے ہیں وہاں مسلسل لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ بورڈ کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس اقدام میں تشدد اور اشتعال سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت ووٹنگ میں مداخلت اور متعلقہ پالیسیوں کو شامل کرنا چاہئے۔

نقصان دہ مواد کا پتہ لگانے کیلئے کلیدی لفظ پر مبنی نقطہ نظر کی حدود کے پیش نظر، بورڈ الیکشن سے متعلقہ دیگر کیسز میں Meta کے سسٹم کی افادیت کا جائزہ لینا جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں، بورڈ Meta کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اس بات کا اندازہ لگانے کیلئے کامیابی کے اعداد و شمار تیار کرے کہ الیکشن سے متعلقہ پالیسیوں کے تحت ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کی شناخت میں الیکشن کی سالمیت کی دیگر کوششوں کے ساتھ کلیدی لفظ پر مبنی شناخت کرنے کا سسٹم کتنا مؤثر ہے۔ یہ Meta کیلئے "کمپنی کی الیکشن کی سالمیت کی کوششوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک فریم ورک تیار کرنے" کیلئے برازیل کے جنرل کی تقریر کیس کے فیصلے میں بورڈ کی تجاویز کے مطابق ہوگا۔

8.2 ‏Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی تعمیل

اظہار رائے کی آزادی (آرٹیکل 19 ICCPR)

بین الاقوامی عہد کے معاشرتی اور سیاسی حقوق (ICCPR) کے آرٹیکل 19 میں "ہر قسم" کے اظہار خیال کیلئے بڑے پیمانے پر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس حق میں "ہر قسم کی معلومات اور خیالات طلب کرنے، موصول کرنے اور فراہم کرنے کی آزادی" شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ سیاسی مسائل، امیدواروں یا منتخب نمائندوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے وقت اظہار خیال کی اہمیت خاصی زیادہ ہوتی ہے (جنرل کمنٹ نمبر 34، پیراگراف 13)۔ اس میں وہ اظہار شامل ہے جو "شدید نا گوار"، عوامی اداروں پر تنقید اور غلط رائے ہو سکتی ہے (جنرل کنٹ نمبر 34، پیراگراف 11، 38 اور 49)۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی امور کی انجام دہی اور ووٹ دینے کے حق کے مؤثر استعمال کیلئے اظہار خیال کی آزادی ضروری ہے (جنرل کمنٹ نمبر 34، پیراگراف 20) کمیٹی نے مزید بتایا کہ عوامی امور کے انعقاد میں حصہ لینے کے حق اور ووٹ دینے کے حق کا فائدہ اٹھانے کیلئے شہریوں کے درمیان عوامی اور سیاسی مسائل کے بارے میں معلومات اور خیالات کا آزادانہ ابلاغ ضروری ہے، آرٹیکل 25 ICCPR (جنرل کمنٹ نمبر 25، پیراگراف 25)۔ اس کیس میں، دونوں صارفین اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے کہ نتیجہ کیا ہونا چاہیے ریفرنڈم یعنی مفاد عامہ کے معاملہ میں مشغول تھے، اس لیے ریفرنڈم پراسس سے شروع ہونے والی عوامی بحث میں براہ راست حصہ لے رہے تھے۔

جب ریاست کی طرف سے اظہار رائے پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو ان کا قانونی حیثیت، جائز مقصد اور ضرورت اور تناسب کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہو جاتا ہے (آرٹیکل 19، پیراگراف 3، ICCPR)۔ ان تقاضوں کو اکثر "تین حصوں کا ٹیسٹ" کہا جاتا ہے۔ بورڈ اس فریم ورک کو Meta کے رضاکارانہ انسانی حقوق کے عزم کی تشریح کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے، جائزے کے تحت مواد کے انفرادی فیصلے اور مواد کی نگرانی کے سلسلے میں Meta کے وسیع تر نقطہ نظر کے بارے اپنی رائے، دونوں کیلئے استعمال کرتا ہے۔ جیسا کہ پچھلے معاملات میں (مثال کے طور پر، آذربائیجان میں آرمینیائی، جنگی قیدیوں کے آرمینیائی ویڈیو)، بورڈ آزادی اظہار پر UN کے خصوصی روداد نویس سے متفق ہے جو کہ اگرچہ "کمپنیوں کے پاس حکومتوں کی ذمہ داریاں نہیں ہوتی ہیں، ان کا اثر اس طرح کا ہے جس میں ان سے اپنے صارفین کی اظہار رائے کی آزادی کے حق کے تحفظ کے بارے میں ایک ہی قسم کے سوالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے" (A/74/486، پیراگراف 41)۔ ایسا کرتے ہوئے، بورڈ ان طریقوں سے حساس ہونے کی کوشش کرتا ہے جس میں ایک نجی سوشل میڈیا کمپنی کی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو نافذ کرنے والی حکومت سے مختلف ہو سکتی ہیں۔

I۔ قانونی حیثیت (اصولوں کی وضاحت اور ان تک رسائی)

اظہار خیال پر پابندی لگانے والے اصولوں کو واضح طور پر بیان کیا جانا چاہیے اور ان سے آگاہ کیا جانا چاہیے، ان دونوں کیلئے جو ان اصولوں کو نافذ کرتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں (جنرل کمنٹ نمبر 34، پیراگراف 25)۔ صارفین کو Facebook اور Instagram پر مواد پوسٹ کرنے کے نتائج کا اندازہ لگانے کا اہل ہونا چاہیے۔ اظہار رائے کی آزادی پر اقوام متحدہ کے خصوصی روداد نویس نے مواد ماڈریشن کی پالیسیوں میں "وضاحت اور خصوصیت" کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے (A/HRC/38/35، پیراگراف 46)۔

نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کے متعلق کمیونٹی کے معیار کی عوامی زبان صارف کیلئے واضح نہیں ہے۔ جمہوری ایونٹس کے تناظر میں مفاد عامہ کے مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے صارفین کے سوشل میڈیا پر مشغول ہونے کی اہمیت کے پیش نظر، Meta کیلئے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ صارفین قابل اطلاق قوانین سے واضح طور پر آگاہ ہیں۔ اس سے صارفین کو یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ وہ جو مواد پوسٹ کر رہے ہیں آیا وہ ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والا ہے۔ اس سلسلے میں، بورڈ نے پایا کہ داخلی گائیڈ لائنز میں موجود "غیر قانونی ووٹنگ" کی وضاحت کو عوامی طور پر نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کے کمیونٹی معیار میں شامل کیا جانا چاہیے۔

II۔ جائز مقصد

اظہار خیال کی آزادی پر پابندیوں کا ایک جائز مقصد ہونا چاہیے (آرٹیکل 19، ICCPR کا پیراگراف 3) جس میں "عوامی نظم و نسق" اور "دوسروں کے حقوق" شامل ہیں۔

نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کے متعلق پالیسی کا مقصد "ایسی مجرمانہ یا نقصان دہ سرگرمیوں کی سہولت فراہم کرنے، اہتمام کرنے، پروموٹ کرنے یا تسلیم کرنے والے مواد کو ہٹا کر آف لائن نقصان اور نقل کرنے والے طرز عمل کو روکنا ہے۔"

ووٹ دینے اور عوامی امور میں شرکت کے حق کا تحفظ ایک ایسا مقصد ہے جسے Meta کی نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے کی پالیسی قانونی طور پر عمل میں لا سکتی ہے، خصوصاً الیکشن کے تناظر میں (آرٹیکل 25، ICCPR)۔ بورڈ نے پایا کہ دوسرے صارفین کو ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی میں مشغول ہونے کا مطالبہ کرنے والے صارفین کو روکنا ووٹ دینے کے حق کے تحفظ کا ایک جائز مقصد ہے۔ ووٹ دینے کے حق سے متعلق جنرل کمنٹ نمبر 25 میں بیان کیا گیا ہے کہ "ووٹ دینے اور گنتی کے پراسس کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے" تاکہ "الیکٹرز کو بیلٹ کی سیکورٹی اور ووٹوں کی گنتی پر اعتماد ہو،" (پیراگراف 20)۔ مزید برآں، "ایک شخص، ایک ووٹ کے اصول اطلاق ہونا چاہئے،"، جس کا مطلب ہے کہ "ایک الیکٹر کا ووٹ دوسرے الیکٹر کے ووٹ کے برابر ہونا چاہئے" (پیراگراف 21)۔ بورڈ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ پالیسی پولنگ کے مقامات اور جمہوری پراسس کو ووٹر کی مداخلت سے زیادہ وسیع پیمانے پر تحفظ دے کر "عوامی نظم و نسق" کے تحفظ میں مدد کرتی ہے۔

III۔ ضرورت اور تناسب

ICCPR کے آرٹیکل 19، پیراگراف 3 کے تحت ضرورت اور تناسب کا اصول اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ اظہار رائے پر پابندیاں "اپنے حفاظتی فنکشن کو حاصل کرنے کیلئے مناسب ہونی چاہئیں؛ انہیں محفوظ کیے جانے والے مفاد کے متناسب ہونا چاہئے،" ( جنرل کمنٹ نمبر 34، پیراگراف 34)۔ انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے تحت، سوشل میڈیا کمپنیوں کو پریشان کن مواد کو ڈیلیٹ کرنے سے آگے بڑھ کر ممکنہ ردعمل کی وسیع تعداد پر غور کرنا چاہئے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پابندیوں کو باریکی سے تیار کیا گیا ہے ( A/74/486 پیراگراف 51)۔

اس کیس میں، بورڈ نے پایا کہ Facebook سے دونوں پوسٹوں کو ہٹانے کا Meta کا عمل ضرورت اور تناسب کے تقاضوں کے مطابق تھا۔ بورڈ نے پایا کہ یہ مواد متوقع ریفرنڈم سے کچھ دن پہلے پوسٹ کیا گیا تھا جسے آسٹریلیا میں خاص طور پر ایب اوریجنل اینڈ ٹورس سٹریٹ آئی لینڈ کے لوگوں کیلئے ایک اہم آئینی لمحہ قرار دیا گیا تھا۔ ایک طرف، سیاسی تقریر جمہوری پراسس کا ایک اہم جزو ہے اور دونوں صارفین ریفرنڈم کے ذریعے شروع ہونے والی عوامی بحث میں براہ راست حصہ لے رہے تھے۔ دوسری طرف، ریفرنڈم کے تناظر میں غیر قانونی طرز عمل میں مشغول ہونے کے صارفین کے مطالبات نے آسٹریلیا میں رہنے والے لوگوں کے سیاسی حقوق، خاص طور پر ووٹ دینے اور عوامی امور کے انعقاد میں حصہ لینے کے حق کو متاثر کیا۔

کیس کے مواد پر ان معیارات کا اطلاق کرتے ہوئے، دونوں پوسٹوں میں "ووٹ نہ دیں" کا مطالبہ واضح طور پر تحفظ یافتہ سیاسی تقریر ہے۔ تاہم، پہلی پوسٹ کا فقرہ "کثرت سے ووٹ دیں" اور دوسری پوسٹ کا فقرہ "ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑو" دونوں الگ الگ معاملے ہیں، اس حقیقت کے پیش نظر کہ انہوں نے متعدد ووٹنگ کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے وائس ریفرنڈم میں شرکت کرنے کیلئے سرگرمی کے ساتھ دوسروں کی حوصلہ افزائی کی ہے، جیسا کہ اوپر سیکشن 8.1 میں مزید تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بورڈ نے جن ماہرین سے مشورہ کیا انہوں نے نوٹ کیا کہ ریفرینڈم میں اکثر دھاندلی کے دعوے کیے گئے تھے، جبکہ صحافتی رپورٹنگ نے اس بات کو نمایاں کیا کہ ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی کے دعوے عام تھے۔ لہذا بورڈ نے پایا کہ Meta درست تھی جو جمہوری پراسسز کی حفاظت کرنے کیلئے اپنے پلیٹ فارمز پر ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی کی کوششوں کو پھیلنے سے روکنے رہی تھی ( جنرل کمنٹ نمبر 25)۔ ووٹر کی دھوکہ دہی سے متعلق مواد کے پھیلنے سے ایک ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جس میں الیکٹورل پراسس کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے۔ تاہم، "اظہار اور دھمکی کے درمیان براہ راست اور فوری تعلق" قائم کرنے میں Meta کی ناکامی کے پیش نظر، بورڈ کی ایک اقلیت نے پایا کہ لوگوں سے "ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑو" کا مطالبہ کرنے والی پوسٹ کو ہٹانا ضرورت اور تناسب کے ٹیسٹ کے مطابق نہیں ہے، (جنرل کمنٹ نمبر 34، پیراگراف 35)۔ اس اقلیت کے مطابق، اس حقیقت کے پیش نظر کہ صارف کا لوگوں سے "ووٹنگ سنٹر پر ٹوٹ پڑو" کا مطالبہ یعنی متعدد بار ووٹ دینے کا مطالبہ مبہم ہے، اس کا ووٹر کی دھوکہ دہی کے خطرے سے براہ راست اور فوری تعلق نہیں تھا۔

بورڈ کا ماننا ہے کہ مستثنیات کا نفاذ کرتے وقت صارفین سے وضاحت کی توقع کرنے کا Meta کا نقطۂ نظر یہ جائزہ لینے کیلئے معقول ہے کہ آیا مواد کو مذمت کرنے، آگاہی بڑھانے، خبروں کی رپورٹنگ یا مزاحیہ یا طنزیہ سیاق و سباق میں شیئر کیا گیا تھا۔ بورڈ کی زیر جائزہ پوسٹوں میں کوئی واضح اشارہ نہیں تھا کہ "کثرت سے ووٹ دیں" اور "ووٹنگ سنٹرز پر ٹوٹ پڑو" کے فقرے متعدد ووٹنگ کی واضح طور پر حمایت کرنے کے بجائے بیان بازی سے متعلق تھے – متعدد ووٹنگ ایک ایسا عمل جس سے وائس ریفرینڈم کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔ لہذا، Meta کا دونوں پوسٹوں کو ہٹانے کا رد عمل ضروری اور متناسب تھا۔

مزید برآں، بورڈ کی ایک اقلیت اس بات کے قائل نہیں ہے کہ ووٹر کی دھوکہ دہی سے متعلق مواد کا مسئلہ حل کرنے کیلئے مواد کو ہٹانا Meta کیلئے دستیاب کم پریشان کُن ذریعہ ہے، اور یہ پایا کہ Meta کی دوسری صورت میں مظاہرہ کرنے میں ناکامی ضرورت اور تناسب کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی ہے۔ خصوصی روداد نویس نے یہ کہا ہے کہ "جس طرح ریاستوں کو اس بات کا اندازہ لگانا چاہیے کہ آیا تقریر پر پابندی کم سے کم پابندی والا نقطۂ نظر ہے، اسی طرح کمپنیوں کو بھی اس قسم کی تشخیص کرنی چاہئے۔ اور تشخیص کو انجام دینے میں، کمپنیوں کو عوامی طور پر ضرورت اور تناسب کا مظاہرہ کرنے کا بوجھ اٹھانا چاہئے۔" (A/74/486، پیراگراف 51)۔ اس اقلیت کیلئے، Meta کو عوامی طور پر یہ وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ اس طرح کی پوسٹوں کو ہٹانا ان بہت سے ٹولز میں سے سب سے کم پریشان کُن ذریعہ کیوں ہے جو اس کے پاس دستیاب ہیں تاکہ ممکنہ فوری نقصانات، جیسے کہ ووٹر سے متعلق دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔ اگر وہ ایسا کوئی جواز فراہم نہیں کر سکتی، تو Meta کو شفافیت کے ساتھ یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ اس کے تقریر کے اصول اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے معیارات سے مختلف ہیں اور ایسا کرنے کیلے عوامی طور پر جواز فراہم کرنا چاہیے۔ اقلیت کا ماننا ہے کہ اس کے بعد بورڈ کو Meta کے عوامی جواز پر غور کرنے کیلئے تیار کیا جائے گا اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے موجودہ معیارات کو مسخ کیے بغیر عوامی مکالمے کا آغاز ہوگا۔

9۔ اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ

اوور سائٹ بورڈ نے مواد کے دونوں حصوں کو ہٹانے کے Meta کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے۔

10۔ تجاویز

مواد کی پالیسی

1۔ یہ یقینی بنانے کیلئے کہ نقصان پہنچانے میں مدد کرنے یا جرم کو پروموٹ کرنے کے کمیونٹی معیار کے "ووٹنگ اور/یا مردم شماری میں دھوکہ دہی" سیکشن کے تحت ممنوع مواد کی اقسام کے بارے میں صارفین کو مکمل طور پر آگاہ کیا گیا ہے، Meta کو "غیر قانونی ووٹنگ" کی اصطلاح کی تعریف کو عوام کیلئے دستیاب پالیسی میں شامل کرنا چاہئے جس میں "ووٹنگ یا مردم شماری کے عمل میں غیر قانونی طور پر حصہ لینے کی حمایت کرنے، ہدایات فراہم کرنے یا واضح ارادے کا مظاہرہ کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، ماسوائے اس کے کہ اسے مذمت کرنے، آگاہی بڑھانے، خبروں کی رپورٹنگ کرنے یا مزاحیہ یا طنزیہ سیاق و سباق میں شیئر کیا گیا ہو۔"

بورڈ کی نظر میں اس تجویز کا نفاذ اس وقت ہوگا جب Meta تبدیلی کی عکاسی کرنے کیلئے اپنے عوامی طور پر دستیاب نقصان پہنچانے میں مدد کرنے اور جرم کو پروموٹ کرنے سے متعلق کمیونٹی کے معیار کو اپ ڈیٹ کرے گی۔

*طریقہ کار کا نوٹ:

اوور سائٹ بورڈ کے فیصلے پانچ رکنی پینلز تیار کرتے ہیں اور اسے بورڈ کی اکثریت منظور کرتی ہے۔ ضروری نہیں کہ بورڈ کے فیصلے تمام ممبروں کے ذاتی خیالات کی نمائندگی کر رہے ہوں۔

اس کیس کے فیصلے کیلئے بورڈ کی جانب سے تحقیق کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔ Duco ایڈوائزرز نے بورڈ کی مدد کی، جو کہ ایک مشاورتی ادارہ ہے جو جیو پولیٹکس کے سنگم، اعتماد، حفاظت اور ٹیکنالوجی پر مرکوز ہے۔ ‏Memetica، ایک ایسی تنظیم ہے جو سوشل میڈیا کے ٹرینڈز پر اوپن سورس ریسرچ میں مشغول ہے، اس تنظیم نے بھی تجزیہ فراہم کیا ہے۔

Volver a Decisiones de casos y opiniones consultivas sobre políticas