Anulado
عربی الفاظ کو بروئے کار لانا
13 de Junho de 2022
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کی کسی Instagram پوسٹ کو ہٹانے کے ابتدائی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے، صارف کے مطابق اس پوسٹ میں عربی الفاظ پر مشتمل تصاویر دکھائی گئی تھیں جن کا استعمال "زن صفت" مردوں کیلئے توہین آمیز انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کی کسی Instagram پوسٹ کو ہٹانے کے ابتدائی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے، صارف کے مطابق اس پوسٹ میں عربی الفاظ پر مشتمل تصاویر دکھائی گئی تھیں جن کا استعمال "زن صفت" مردوں کیلئے توہین آمیز انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ مواد Meta کی 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے استثناء میں آ رہا تھا اور اسے ہٹایا نہیں جانا چاہیے تھا۔
کیس کا تعارف
نومبر 2021 میں کسی پبلک Instagram اکاؤنٹ نے، جو خود کو عربی ثقافت میں ہم جنسی حکایات پر بحث کرنے کا مقام بتاتا ہے، ایک کیروسیل میں (واحد Instagram پوسٹ جس میں ایک ہی کیپشن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 10 تصاویر شامل ہو سکتی ہیں) تصاویر کا ایک سلسلہ پوسٹ کیا۔ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھے ہوئے اس کیپشن میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہر تصویر میں ایک الگ لفظ دکھایا گیا ہے جس کا استعمال عربی دنیا میں "زن صفت" مردوں کیلئے توہین آمیز انداز میں کیا جا سکتا ہے، جس میں "zamel،" "foufou،" اور "tante/tanta" شامل ہیں۔ صارف نے کہا کہ پوسٹ کا مقصد "اس طرح کے اذیت رساں الفاظ کی طاقت کو بروئے کار لانا تھا۔"
ابتداءً Meta نے اپنی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر مواد کو ہٹا دیا تھا لیکن صارف کے اپیل کرنے کے بعد اسے بحال کر دیا۔ دوسرے صارف کی طرف سے رپورٹ کیے جانے کے بعد Meta نے نفرت انگیز مواد کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر مواد کو دوبارہ ہٹا دیا۔ Meta کے مطابق بورڈ کی جانب سے اس کیس کو منتخب کرنے سے پہلے، مواد کو اضافی داخلی جائزے کیلئے آگے بڑھایا گیا تھا جس میں یہ طے ہوا کہ اس سے در حقیقت کمپنی کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ Meta نے پھر اس مواد کو Instagram پر بحال کر دیا۔ Meta نے وضاحت کی کہ مواد کو ہٹانے کے اس کے ابتدائی فیصلے "z***l" اور "t***e/t***a" الفاظ پر مشتمل تصاویر کے جائزوں پر مبنی تھے۔
کلیدی نتائج
بورڈ کو اس مواد کا ہٹایا جانا ایک واضح غلطی معلوم ہوتی ہے جو کہ Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے بر خلاف تھا۔ اگرچہ پوسٹ میں گالی کے الفاظ شامل ہیں لیکن مواد میں ایسے بیان کیلئے ایک استثناء شامل ہے جو "خود حوالہ کے طور پر یا بااختیار بنانے کے طریقے سے استعمال کیا گیا ہو،" اور ساتھ ہی ایک استثناء جو نفرت انگیز مواد کے اقتباس کو "اس کی مذمت کرنے یا آگاہی بڑھانے" کیلئے اجازت دیتا ہے۔ صارف کے بیانات کہ انہوں نے زیر بحث گالی کے الفاظ کے "استعمال کی نہ مذمت کی اور نہ ہی اس کی ترغیب دلائی"، اور یہ کہ ان کا مقصد "اس طرح کے اذیت رساں الفاظ کی طاقت کو بروئے کار لانا" تھا، سے ماڈریٹر کو اس امکان سے آگاہ ہو جانا چاہیے تھا کہ کسی استثناء کا اطلاق ہو سکتا ہے۔
وہ ممالک جہاں اپنا اظہار خیال کرنے کی وجہ سے LGBTQIA+ لوگوں پر جرمانہ عائد ہوتا ہے، ان کیلئے سوشل میڈیا اکثر، آزادانہ طور پر اظہار خیال کرنے کا ایک واحد ذریعہ ہوتا ہے۔ مظلوم اقلیتی گروپس کے صارفین کی طرف سے بیان میں حد سے زیادہ ماڈریشن ان کی آزادی اظہار خیال کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ویسے بورڈ اس بارے میں فکرمند ہے کہ Meta نفرت انگیز مواد کی پالیسی میں مستثنیات کو یکساں طور پر لاگو نہیں کر رہی ہے تاکہ پسماندہ گروپس کی جانب سے اظہار خیال بھی شامل ہو جائے۔
اس کیس میں ہونے والی غلطیاں، جس میں اس بات کا تعین کرنے والے تین الگ الگ ماڈریٹر شامل تھے کہ مواد سے 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ توہین آمیز الفاظ کے حوالہ جات کا جائزہ لینے والے ماڈریٹرز کیلئے Meta کی رہنمائی ناکافی ہو سکتی ہے۔ بورڈ اس بارے میں فکرمند ہے کہ شاید جائزہ کاروں کے پاس گنجائش یا ٹریننگ کے لحاظ سے کافی وسائل نہیں ہیں جن سے اس کیس میں نظر آنے والی غلطی کو روکا جا سکے۔
ماڈریٹرز کو انگریزی میں اس بات کی رہنمائی فراہم کرنا کہ غیر انگریزی زبانوں میں مواد کا جائزہ کیسے لیا جائے، جیسا کہ Meta فی الحال کرتی ہے، فطری طور پر چیلنجنگ ہے۔ ماڈریٹرز کو اس بات کی بہتر تشخیص کرنے میں مدد کرنے کی خاطر کہ گالیوں پر مشتمل مواد کیلئے مستثنیات کا اطلاق کب کرنا چاہیے، بورڈ تجویز کرتا ہے کہ Meta اپنی داخلی رہنمائی کا اپنے ماڈریٹرز کے ذریعے استعمال ہونے والی عربی بولیوں میں ترجمہ کرے۔
بورڈ کا یہ بھی ماننا ہے کہ گالی کے الفاظ کی ممتاز لسٹ تیار کرنے اور ماڈریٹرز کو گالی کے الفاظ سے متعلق اپنی پالیسی میں مستثنیات کے اطلاق کے بارے میں مناسب رہنمائی فراہم کرنے کیلئے Meta کو ملک اور ثقافت کے لحاظ سے مخصوص سطح پر گالیوں کا نشانہ بننے والی اقلیتوں سے باقاعدگی سے معلومات لینی چاہیے۔ Meta کو اس بارے میں بھی زیادہ شفاف ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ کیسے بناتی، نافذ کرتی اور اس کا محاسبہ کرتی ہے۔
اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کے مواد کو ہٹانے کے ابتدائی فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے۔
پالیسی کے مشاورتی بیان کے طور پر، بورڈ تجویز کرتا ہے کہ Meta:
- اپنے مواد کے ماڈریٹرز کے ذریعے استعمال کی جانے والی عربی بولیوں میں داخلی نفاذ کے معیارات اور معلوم سوالات کا ترجمہ کرے۔ ایسا کرنے سے ماڈریٹرز کو اس بات کی بہتر تشخیص کرنے میں مدد کر کے کہ گالیوں پر مشتمل مواد کے مستثنیات کب ضروری ہوں گے، عربی زبان کا استعمال کرنے والے خطوں میں ضرورت سے زیادہ نفاذ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
- اس بات کی صاف طور پر وضاحت شائع کرے کہ وہ کس طرح اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ بناتی ہے۔ اس وضاحت میں یہ متعین کرنے کیلئے طریقہ کار اور معیار شامل ہونے چاہئیں کہ کون سی گالیوں اور ممالک کو ہر مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص لسٹ میں تفویض کیا گیا ہے۔
- اس بات کی صاف طور پر وضاحت شائع کرے کہ وہ کس طرح اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ نافذ کرتی ہے۔ اس وضاحت میں یہ درست طریقے سے متعین کرنے کیلئے طریقہ کار اور معیار شامل ہونے چاہئیں کہ گالیوں کی ممانعت کب اور کہاں نافذ کی جائے گی، خواہ جغرافیائی طور پر زیر بحث علاقے سے شروع ہونے والی پوسٹوں کے سلسلے میں ہو یا باہر سے شروع ہوئی ہو لیکن زیر بحث علاقے سے متعلق ہو، اور/یا پوسٹ کے جغرافیائی نقطہ آغاز سے قطع نظر زیر بحث علاقے کے تمام صارفین سے متعلق ہو۔
- اس بات کی صاف طور پر وضاحت شائع کرے کہ وہ کس طرح اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ کا محاسبہ کرتی ہے۔ اس وضاحت میں Meta کی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص لسٹ سے گالیوں کو ہٹانے یا ان کو اس میں برقرار رکھنے کیلئے طریقہ کار اور معیار شامل ہونے چاہئیں۔
*کیس کے خلاصے میں کیس کا عمومی جائزہ فراہم کیا جاتا ہے اور اس میں نظیری قدر نہیں ہوتی ہے۔
کیس کا مکمل فیصلہ
1.فیصلے کا خلاصہ
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کی کسی ایسی Instagram پوسٹ کو ہٹانے کے ابتدائی فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے جو کسی ایسے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تھی جس میں "عربی تاریخ اور مقبول ثقافت میں ہم جنسی حکایات" کو دریافت کیا جاتا ہے۔ یہ مواد Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے تحت استثناء کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس میں دوسروں کی جانب سے ہم جنس پرستی مخالف گالیوں کے منفی استعمال کی رپورٹ، مذمت اور تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور انہیں واضح طور پر مثبت تناظر میں استعمال کیا گیا ہے۔
2۔ کیس کی تفصیل اور پس منظر
نومبر 2021 میں کسی پبلک Instagram اکاؤنٹ نے، جو خود کی شناخت اس طور پر کرتا ہے کہ وہ عربی ثقافت میں ہم جنسی حکایات پر بحث کرنے کا مقام ہے، ایک کیروسیل میں (واحد Instagram پوسٹ جس میں ایک ہی کیپشن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 10 تصاویر شامل ہو سکتی ہیں) تصاویر کا ایک سلسلہ پوسٹ کیا۔ اس کیپشن میں، جسے صارف نے عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھا، وضاحت کی گئی ہے کہ ہر تصویر میں ایک الگ لفظ دکھایا گیا ہے جس کا استعمال عربی دنیا میں "زن صفت" مردوں کیلئے توہین آمیز انداز میں کیا جا سکتا ہے، جس میں "zamel،" "foufou،" اور "tante"/"tanta" شامل ہیں۔ اس کیپشن میں صارف نے بتایا کہ انہوں نے "اِن الفاظ کے استعمال کی نہ مذمت کی اور نہ ہی اس کی ترغیب دلائی"، البتہ یہ وضاحت کی کہ اس سے پہلے اِن میں سے کسی گالی کے ذریعے ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی اور یہ کہ اس پوسٹ کا مقصد "اس طرح کے اذیت رساں الفاظ کی طاقت کو بروئے کار لانا" تھا۔ بورڈ کے خارجی ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی کہ مواد میں جو الفاظ درج کیے گئے ہیں وہ اکثر گالی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
اس مواد کو تقریباً 9,000 مرتبہ دیکھا گیا اور 30 کے آس پاس کمنٹس اور لگ بھگ 2,000 ردعمل موصول ہوئے۔ مواد پوسٹ کیے جانے کے تین گھنٹے کے اندر ہی کسی صارف نے "بالغوں کی عریانیت یا جنسی سرگرمی" کیلئے اس کی رپورٹ کی اور دوسرے صارف نے "جنسی ترغیب" کے طور پر اس کی رپورٹ کی۔ ہر رپورٹ پر مختلف انسانی ماڈریٹرز نے علیحدہ طور پر اقدامات کیے۔ پہلی رپورٹ کا جائزہ لینے والے ماڈریٹر کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن دوسری رپورٹ کا جائزہ لینے والے ماڈریٹر نے Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کی خلاف ورزی پر مواد کو ہٹا دیا۔ صارف نے اس ہٹائے جانے پر اپیل کی اور ایک تیسرے ماڈریٹر نے اس مواد کو پلیٹ فارم پر بحال کر دیا۔ مواد کو بحال کرنے کے بعد کسی اور صارف نے "نفرت انگیز مواد" کے طور پر اس کی رپورٹ کی اور دوسرے ماڈریٹر نے چوتھی مرتبہ جائزہ لیا اور مواد کو دوبارہ ہٹا دیا۔ صارف نے دوبارہ اپیل کی اور پانچویں جائزے کے بعد کسی اور ماڈریٹر نے مواد ہٹانے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ جب Meta نے صارف کو اُس فیصلے کے بارے میں نوٹیفائی کیا تو صارف نے اوور سائٹ بورڈ کو ایک اپیل ارسال کی۔ Meta نے بعد میں تصدیق کی کہ مواد کا جائزہ لینے والے تمام ماڈریٹرز عربی بولنے میں رواں تھے۔
Meta نے وضاحت کی کہ مواد ہٹانے کے ابتدائی فیصلے "z***l" اور "t***e/t***a" الفاظ پر مشتمل تصاویر کے جائزوں پر مبنی تھے۔ بورڈ کے کسی سوال کے جواب میں Meta نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کمپنی مواد میں استعمال ہونے والے ایک اور لفظ "moukhanath" کو گالی سمجھتی ہے۔
Meta کے مطابق، صارف کا بورڈ کو اپیل کرنے کے بعد اور بورڈ کا اس کیس کو منتخب کرنے سے پہلے، مواد کو اضافی داخلی جائزے کیلئے جداگانہ طور پر آگے بڑھایا گیا تھا، جس میں یہ طے ہوا کہ اس سے 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ اس مواد کو بعد میں پلیٹ فارم پر بحال کر دیا گیا۔
3۔ اوور سائٹ بورڈ کی اتھارٹی اور دائرۂ کار
جس صارف کا مواد ہٹا دیا گیا ہو اس کی اپیل کے سلسلے میں بورڈ کو Meta کے فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار ہے (چارٹر آرٹیکل 2، سیکشن 1؛ خصوصی قوانین آرٹیکل 3، سیکشن 1)۔
بورڈ Meta کے فیصلے کو برقرار رکھ یا کالعدم کر سکتا ہے (چارٹر آرٹیکل 3، سیکشن 5)، اور یہ فیصلہ کمپنی پر لازم ہے (چارٹر آرٹیکل 4)۔ Meta کو متوازی سیاق و سباق کے ساتھ یکساں مواد کے سلسلے میں اپنے فیصلے کا اطلاق کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لینا چاہیے (چارٹر آرٹیکل 4)۔ بورڈ کے فیصلے غیر مشروط تجاویز کے ساتھ پالیسی کے مشاورتی بیانات پر مشتمل ہو سکتے ہیں جن کا Meta کو جواب دینا لازمی ہے (چارٹر آرٹیکل 3، سیکشن 4؛ آرٹیکل 4)۔
جب بورڈ اس طرح کے کیسز منتخب کرتا ہے جن میں Meta اپنی غلطی قبول کر لیتی ہے تو بورڈ پھر ابتدائی فیصلے کا جائزہ لیتا ہے تاکہ اس بات کی تفہیم میں اضافہ کرے کہ غلطیاں کیوں سرزد ہوتی ہیں، اور تاکہ ایسے مشاہدات یا تجاویز پیش کرے جو غلطیوں کو کم کرنے اور واجبی عمل کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکیں۔
4.اتھارٹی کے مآخذ
اوور سائٹ بورڈ نے درج ذیل باتوں کو اتھارٹی کے مآخذ سمجھا ہے:
I۔اوور سائٹ بورڈ کے فیصلے:
بورڈ کے اِس کیس سے انتہائی متعلقہ فیصلے یہ ہیں:
- "ویمپم بیلٹ کا فیصلہ" (2021-012-FB-UA): اس فیصلے میں بورڈ نے پسماندہ گروپس کے اظہار خیال کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے، اس بات پر توجہ دلاتے ہوئے کہ Meta کو لازماً یقینی بنانا چاہیے کہ وہ ایسے مواد کو نہ ہٹائے جو 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے استثناء کے زمرے میں آتا ہو۔
- "جنوبی افریقہ کا گالیوں سے متعلق فیصلہ" (2021-011-FB-UA): اس فیصلے میں بورڈ نے پایا کہ Meta کو لازماً اپنی گالیوں کی لسٹ تیار کرنے کیلئے استعمال کیے جانے والے طریقہ کار اور معیار پر زیادہ شفاف ہونا چاہیے۔ بورڈ نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ Meta 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے اپنے نفاذ میں طریقہ کار کی انصاف پسندی کو بہتر بنانے کو ترجیح دے تاکہ صارفین بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ مواد کیوں ہٹایا جاتا ہے۔
- "میانمار بوٹ کا فیصلہ" (2021-007-FB-UA): اس فیصلے میں بورڈ نے اس بات کا جائزہ لینے کیلئے سیاق و سباق کی اہمیت پر زور دیا کہ آیا مواد 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے مستثنیات کے زمرے میں آتا ہے۔
بورڈ درج ذیل فیصلوں میں پیش کردہ تجاویز کا بھی حوالہ دیتا ہے: "Ocalan کی قید تنہائی کا فیصلہ" (2021-006-IG-UA)، "دو بٹنز میم کا فیصلہ" (2021-005-FB-UA) اور "چھاتی کے سرطان کی علامات اور عریانیت کا فیصلہ" (2020-004-IG-UA)۔
II۔ Meta کی مواد کی پالیسیاں:
اس کیس میں Instagram کی کمیونٹی گائیڈ لائنز اور Facebook کے کمیونٹی کے معیارات شامل ہیں۔ Meta کا ٹرانسپرنسی سنٹر بیان کرتا ہے کہ "Facebook اور Instagram مواد کی پالیسیاں مشترک ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی مواد کو Facebook پر خلاف ورزی کرنے والا سمجھا جاتا ہے تو اسے Instagram پر بھی خلاف ورزی کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔"
Instagram کی کمیونٹی گائیڈ لائنز بیان کرتی ہیں کہ:
ہم ایک مثبت اور متنوع کمیونٹی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ہم ایسے مواد کو ہٹا دیتے ہیں جو قابل یقین دھمکیوں یا نفرت انگیز بیان پر مشتمل ہوتا ہے… نسل، قومیت، قومی نژاد، صنف، جنس، جنسی شناخت، جنسی رجحان ، مذہبی وابستگی، معذوری یا بیماریوں کی بنیاد پر تشدد کی ترغیب دینا یا کسی پر حملہ کرنا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ اگر کسی نفرت انگیز مواد کو اسے للکارنے یا اس کی آگاہی بڑھانے کیلئے شیئر کیا جا رہا ہو تو ہم اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ صاف طور پر اپنا ارادہ ظاہر کریں۔
Facebook کے کمیونٹی کے معیارات نفرت انگیز مواد کی وضاحت "نسل، قومیت، قومی نژاد، مذہبی وابستگی، جنسی رجحان، ذات پات، صنف، جنس، جنسی شناخت، اور سنگین بیماری یا معذوری – جنہیں ہم تحفظ یافتہ خصوصیات کہتے ہیں، کی بنیاد پر لوگوں پر براہ راست حملہ" کے طور پر کرتے ہیں۔ Meta حملوں کو تین ٹائروں میں تقسیم کرتی ہے۔ نفرت انگیز مواد کی پالیسی میں گالیوں کے سیکشن میں ایسے مواد سے منع کیا جاتا ہے "جس میں لوگوں کو گالیوں سے مخاطب کیا جا رہا ہو یا اس کے ذریعے انہیں منفی انداز میں ہدف بنایا جا رہا ہو، یہاں گالیوں کو ایسے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے جو فطری طور پر ناگوار ہوں اور درج بالا خصوصیات کیلئے توہین آمیز الزامات کے طور پر استعمال ہوتے ہوں۔" تیسرے درجہ کے بقیہ حصے میں ایسے مواد سے منع کیا جاتا ہے جس میں لوگوں کی تفریق یا بائیکاٹ کرنے کیلئے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہو۔
پالیسی استدلال کے جُز کے طور پر Meta وضاحت کرتی ہے کہ:
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض اوقات لوگ مذمت کرنے یا آگاہی بڑھانے کیلئے کسی اور کا نفرت انگیز بیان پر مشتمل مواد شیئر کرتے ہیں۔ دیگر معاملات میں، ہمارے معیارات کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کا استعمال خود کے حوالے سے یا با اختیار بنانے کے مقصد سے کیا جا سکتا ہے۔ ہماری پالیسیوں میں اس طرح کے کلام کی اجازت دی گئی ہے لیکن ہم لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ واضح طور پر اپنے ارادے ظاہر کریں۔ اگر ارادہ غیر واضح ہوتا ہے تو ہم مواد کو ہٹا سکتے ہیں۔
III۔ Meta کی اقدار:
Meta کی اقدار کا خاکہ Facebook کمیونٹی کے معیارات کے تعارف میں پیش کیا گیا ہے جس میں "اظہار رائے" کی قدر کو "اعلیٰ" بتایا گیا ہے۔
لوگوں کیلئے اظہار خیال اور لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کیلئے ایک جگہ بنانا ہماری کمیونٹی کے معیارات کا ہمیشہ سے ہدف رہا ہے۔ […] ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اہم معاملات کے بارے میں کھل کر بات کریں، چاہے کچھ لوگ اس سے متفق نہ ہوں یا اس پر اعتراض ہی کیوں نہ کریں۔
Meta "اظہار رائے" کو چار اقدار کی خدمت میں محدود کرتی ہے، جن میں سے دو یہاں متعلقہ ہیں:
"تحفظ": ہم Facebook کو ایک محفوظ مقام بنانے کیلئے پُر عظم ہیں۔ Facebook پر ایسے اظہار خیال کی اجازت نہیں ہے جس میں لوگوں کو ڈرانے، خارج کرنے یا خاموش کرنے کی دھمکی دی جائے۔
"عظمت و وقار": ہمارا ماننا ہے کہ عظمت اور حقوق کے لحاظ سے تمام لوگ برابر ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ لوگ دوسروں کی عظمت کا احترام کریں گے اور دوسروں کو ہراساں یا رسوا نہیں کریں گے۔
IV. انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات:
بزنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ انسانی حقوق کاؤنسل کی حمایت یافتہ اقوام متحدہ رہنمائی کے اصول (UNGPs) نے 2011 میں پرائیویٹ بزنسز کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے رضاکارانہ فریم ورک کا قیام کیا۔ 2021 میں Meta نے اپنی انسانی حقوق کی کارپوریٹ پالیسی کا اعلان کیا، جس میں اس نے UNGPs کی مطابقت میں انسانی حقوق کا احترام کرنے کے اپنے عزم کا دوبارہ عہد کیا ہے۔ اس کیس میں Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے بارے میں بورڈ کا تجزیہ انسانی حقوق کے درج ذیل معیارات کے مطابق کیا گیا ہے جو اس فیصلے کے سیکشن 8 میں لاگو کیے گئے:
- آزادی اظہار رائے و خیال کے حقوق: آرٹیکل 19، سول اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی عہد (ICCPR)، جنرل کمنٹ نمبر 34، انسانی حقوق کمیٹی، 2011؛ کمیونیکیشن نمبر 488/1992، Toonen v. آسٹریلیا، انسانی حقوق کمیٹی، 1992؛ ریزولیوشن نمبر 32/2، انسانی حقوق کونسل، 2016؛ اظہار رائے اور اظہار خیال کی آزادی کیلئے UN کا خصوصی روداد نویس، رپورٹس: A/HRC/38/35 (2018) اور A/74/486 (2019)؛ UN کے اعلیٰ کمشنر برائے انسانی حقوق، رپورٹ نمبر: A/HRC/19/41 (2011)۔
- غیر امتیازی سلوک کا حق: ICCPR، آرٹیکل 2، پیرا۔ 1 اور آرٹیکل 26۔
5. صارف کی جمع کرائی گئی معلومات
بورڈ کو اپنے بیان میں صارف نے اپنے اکاؤنٹ کو "ہم جنسی عربی ثقافت کے احترام" کرنے کا ایک مقام بتایا۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ حالانکہ یہ ایک "محفوظ جگہ" ہے لیکن جیسے اس کے فالوورز بڑھے ہیں، اسے ہم جنس پرستی مخالف لوگوں کی جانب سے تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جو بے ہودہ کمنٹس لکھتے ہیں اور بڑے پیمانے پر مواد کی رپورٹ کرتے ہیں۔
صارف نے وضاحت کی کہ اس مواد کو پوسٹ کرنے کا ان کا مقصد عرب معاشرے میں زن صفت مردوں اور لڑکوں کے زنانہ پن کا احترام کرنا تھا جنہیں اکثر، پوسٹ میں نمایاں توہین آمیز زبان کے ذریعے ذلیل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ وہ اپنے خلاف استعمال کیے گئے اِن توہین آمیز الفاظ کو قوّت مزاحمت اور عطائے اختیار کی ایک شکل کے طور پر بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے تھے، اور دلیل دی کہ انہوں نے پوسٹ کے مواد میں واضح کیا ہے کہ وہ تصاویر میں موجود الفاظ کو گالی گلوچ کے طور پر استعمال کرنے کی نہ مذمت کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی ترغیب دلاتے ہیں۔ صارف نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کا مواد Meta کی مواد کی پالیسیوں کی تعمیل کرتا ہے جن میں خاص طور پر بصورت دیگر ممنوعہ الفاظ کے استعمال کی اجازت ہے جب انہیں بطور خود حوالہ یا بااختیار بنانے کے طریقے سے استعمال کیا جائے۔
6۔ Meta کی جمع کرائی گئی معلومات
Meta نے اپنے استدلال میں وضاحت کی کہ مواد کو اصل میں اس کی نفرت انگیز بیان کی پالیسی کے تحت ہٹا دیا گیا تھا کیونکہ مواد Meta کی گالیوں کی لسٹ میں موجود ایک ممنوعہ لفظ پر مشتمل ہے جو کہ "ہم جنس پرستوں کیلئے توہین آمیز لفظ ہے۔" Meta نے بالآخر اپنا ابتدائی فیصلہ واپس لے لیا اور مواد کو بحال کر دیا کیونکہ زیر تشویش لفظ کا استعمال Meta کے مستثنیات کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ ایسے مواد کیلئے ہے "جس میں کسی گالی یا نفرت انگیز بیان کی مذمت ہو، گالیوں کے استعمال پر بحث و مباحثہ ہو بشمول اُن مواقع کی رپورٹس جہاں ان کا استعمال کیا گیا ہو، یا اس بارے میں مذاکرہ ہو کہ آیا وہ استعمال کیلئے قابل قبول ہیں یا نہیں۔" Meta نے قبول کیا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارف لفظ کی تکلیف دہ نوعیت کی طرف توجہ مبذول کر رہا تھا اور اس لیے اس سے خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہے۔
بورڈ کے سوالات کے جواب میں کہ Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے استثناء کے اطلاق میں سیاق و سباق کس طرح متعلقہ ہے، Meta نے کہا کہ "نفرت انگیز مواد اور گالی کے الفاظ کی اس وقت اجازت ہے" جب ان کا مذاق اڑایا جائے، ان کی مذمت کی جائے، ان پر بحث کی جائے، ان کی رپورٹ کی جائے یا بطور خود حوالہ ان کا استعمال کیا جائے اور یہ کہ صارف کی ذمہ داری ہے کہ وہ گالی کا ذکر کرتے وقت اپنے ارادے کو واضح کرے۔
بورڈ کے کسی اور سوال کے جواب میں Meta نے کہا کہ انہوں نے "غور نہیں کیا" کہ مواد کو غلطی سے کیوں ہٹایا گیا کیونکہ اس کے مواد کے جائزہ کار اپنے فیصلوں کی وجوہات ضبط تحریر میں نہیں لاتے۔
بورڈ نے Meta سے کُل 17 سوالات پوچھے، جن میں سے 16 کا مکمل اور 1 کا جواب جزوی طور پر دیا گیا۔
7۔ پبلک کمنٹس
بورڈ کو اس کیس سے متعلق تین پبلک کمنٹس موصول ہوئے۔ کمنٹس میں سے ایک امریکہ اور کینیڈا سے، ایک مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے اور ایک لاطینی امریکہ اور کیریبین سے جمع کرایا گیا۔
جمع کرائی گئی معلومات میں درج ذیل موضوعات شامل تھے: بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر LGBT کا تحفظ، نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے نفاذ میں مقامی سیاق و سباق پر غور، اور عربی الفاظ کے بدلتے معانی۔
اس کیس کیلئے جمع کیے گئے پبلک کمنٹس پڑھنے کی خاطر براہ کرم یہاں کلک کریں۔
اس کے علاوہ، سٹیک ہولڈر کی انگیجمنٹ کی جاری کوششوں میں بورڈ کے ممبرز نے ان تنظیموں کے ساتھ معلوماتی اور افزودہ مباحثے کیے جو آزادی اظہار خیال اور LGBTQIA+ لوگوں کے حقوق پر کام کرتی ہیں، جن میں عربی بولنے والے بھی شامل ہیں۔ اس مباحثے میں خدشات پر روشنی ڈالی گئی جن میں یہ بھی شامل ہیں: جب کچھ ناظرین زیر بحث اصطلاح کو مقرر کے ارادے سے قطع نظر مسلسل سنتے رہتے ہوں تو ایسی صورت میں کسی گالی کے بارے میں واضح طور پر یہ اعلان کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کے معنی صاف ہیں اور ان میں کوئی ناگوار بات نہیں کہی گئی ہے، مواد کی پالیسی میں LGBTQIA+ ایڈووکیسی گروپس اور انگریزی کا استعمال نہ کرنے والی کمیونٹیز کی کم رائے سے ہونے والی پریشانیاں اور سیاق و سباق کے لحاظ سے ناکافی حساسیت پر مشتمل مواد کے ماڈریشن کے خطرات۔
8.اوور سائٹ بورڈ کا تجزیہ
بورڈ تین طریقوں سے اس کا تعین کرنا چاہتا ہے کہ آیا اس مواد کو بحال کیا جانا چاہیے: Meta کے مواد کی پالیسیاں، کمپنی کی اقدار، اور اس کی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں۔
بورڈ نے اس کیس کو منتخب کیا کیونکہ مظلوم اقلیتی گروپس کے صارفین کی طرف سے بیان میں حد سے زیادہ ماڈریشن ان کی آزادی اظہار خیال کیلئے ایک سنگین اور بڑا خطرہ ہے۔ اظہار خیال کیلئے آن لائن جگہیں خاص طور پر ان گروپس کیلئے اہم ہیں جنہیں ظلم و ستم کا سامنا ہوتا ہے اور ان کے حقوق کو سوشل میڈیا کمپنیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کیس اقلیتوں کو نفرت انگیز مواد سے بچانے کی خاطر Meta پر تناؤ کو بھی ظاہر کرتا ہے، جبکہ ایک ایسی جگہ بنانے کی کوشش بھی ہے جہاں اقلیتیں اپنے خیالات کو مکمل طور پر ظاہر کر سکیں، جن میں نفرت آمیز گالیوں کو بروئے کار لانا بھی شامل ہے۔
8.1 Meta کی مواد کی پالیسیوں کی تعمیل
I۔مواد کے اصول
بورڈ نے پایا کہ اگرچہ گالی کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں لیکن مواد نفرت انگیز بیان نہیں ہے کیونکہ وہ "بطور خود حوالہ یا بااختیار بنانے کے طریقے سے استعمال کیے گئے" گالی کے الفاظ کی 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے استثناء کے زمرے میں آتا ہے، نیز "اس کی مذمت کرنے یا آگاہی بڑھانے" کیلئے نفرت انگیز مواد کا حوالہ دینے کے استثناء کے زمرے میں بھی آتا ہے۔
"ویمپم بیلٹ" اور "دو بٹنز میم" کے فیصلوں میں بورڈ نے نوٹ کیا کہ کسی صارف کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے استثناء کے تقاضوں کو پورا کرنے کی خاطر کسی پوسٹ میں اپنے ارادے کو واضح طور پر بیان کرے۔ پوسٹ کے تناظر میں صارف کیلئے اتنا واضح ہونا کافی ہے کہ وہ نفرت انگیز مواد کی اصطلاحات اس طریقے سے استعمال کر رہے ہیں جس کی پالیسی میں اجازت ہے۔
تاہم، اس کیس کے مواد میں صارف کے بیانات شامل تھے کہ انہوں نے زیر بحث الفاظ کے ناگوار استعمال کی "نہ مذمت کی تھی اور نہ ہی ترغیب دلائی تھی"، بلکہ یہ کہ پوسٹ "غالبانہ حکایت کے خلاف مزاحمت اور اسے للکارنے" اور "ایسے اذیت رساں الفاظ کی طاقت کو بروئے کار لانے" کی ایک کوشش تھی۔ اگرچہ نفرت انگیز مواد کے استعمال یا حوالے کو جائز قرار دیے جانے کیلئے ہمیشہ ارادے کے واضح بیانات ضروری یا کافی نہیں ہوں گے لیکن ان سے ایک ماڈریٹر کو اس امکان سے آگاہ ہو جانا چاہیے کہ استثناء کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ اس کیس میں بورڈ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ بیانِ ارادہ مع سیاق و سباق سے واضح ہوتا ہے کہ مواد غیر مبہم طور پر استثناء کے زمرے میں آتا ہے۔
اس کے باوجود، Meta نے ابتداءً مواد کو ہٹا دیا تھا، چونکہ تین علیحدہ ماڈریٹرز نے اس بات کا تعین کیا تھا کہ مواد سے نفرت انگیز بیان کی پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ویسے بہت سی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں کہ کس طرح متعدد ماڈریٹرز مواد کی درست درجہ بندی کرنے میں ناکام رہے، اس کے باوجود Meta غلطی کی مخصوص وضاحت فراہم کرنے سے قاصر تھی کیونکہ کمپنی ماڈریٹرز سے اپنے فیصلوں کے استدلال ریکارڈ کرنے کا تقاضہ نہیں کرتی ہے۔ جیسا کہ "ویمپم بیلٹ" کے فیصلے میں دیکھا گیا ہے، غلطیوں کی اقسام اور ان کا بوجھ اٹھانے والے افراد یا کمیونٹیز پلیٹ فارم پر نفاذ کے سسٹمز کی ایسی منتخبہ ڈیزائنوں کی عکاسی کرتے ہیں جن سے مظلوم گروپس کے ممبرز کے آزادی اظہار خیال کے حقوق کو نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جب Meta کسی مظلوم یا پسماندہ گروپ سے متعلقہ مواد میں مسلسل ضرورت سے زیادہ نفاذ کے پیٹرن کا مشاہدہ کرتی ہے، جیسا کہ اس کیس میں، تو یہ مناسب ہوگا کہ نفاذ کے فیصلوں کے پیچھے کار فرما وجہ کی چھان بین کی جائے اور اس بات پر غور کیا جائے کہ ماڈریشن کے اصولوں میں کس طرح کی ترامیم، یا موجودہ اصولوں کے حوالے سے کیسی اضافی ٹریننگ یا نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ جذباتی نفاذ سے بچا جائے جس سے ان گروپس کے ممبرز پر بوجھ پڑتا ہے جن کے حقوقِ اظہار خیال کو خاص خطرہ لاحق ہے۔
II۔نفاذ کی کارروائی
بورڈ کے سوالات کے جواب میں، Meta نے وضاحت کی کہ مواد کو پلیٹ فارم پر صرف اس لئے بحال کیا گیا تھا کیونکہ اسے Meta کے کسی ملازم نے اضافی درجے کے جائزہ کیلئے فلیگ کیا تھا۔ "اضافی درجے کا جائزہ" کا مطلب یہ ہے کہ فیصلے کا دوبارہ بڑے پیمانے پر جائزہ لینے کی بجائے، جو کہ اکثر باہر کیا جاتا ہے، Meta کی اندرونی ٹیم اس کا جائزہ لیتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کیلئے Meta کے ملازم پر ضروری تھا کہ وہ مواد کے ہٹائے جانے کا نوٹس لے، پھر اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کیلئے کوئی اندرونی ویب فارم پُر کر کے جمع کرائے۔ ممکنہ موقع کے علاوہ اس طرح کے سسٹمز سے صرف ایسے مواد میں غلطیوں کی شناخت کی جا سکتی ہے جس سے Meta کا عملہ ذاتی طور پر واقف ہو۔ اس کے مطابق، وہ مواد جو انگریزی میں نہیں ہے، یا وہ مواد جو ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے پوسٹ نہ کیا گیا ہو جن کے زیادہ فالوورز امریکہ میں رہتے ہوں، یا وہ مواد جو ایسے گروپس کیلئے اور ان ہی کے ذریعے بنایا گیا ہو جن کی Meta میں اچھی طرح سے نمائندگی نہ کی گئی ہو، ایسے مواد کو نوٹس کیے جانے، فلیگ کیے جانے اور اس پر اضافی توجہ دیے جانے کا امکان بہت کم ہے۔
اپنی رسائی کے حصے کے طور پر، بورڈ کو اسٹیک ہولڈرز کے خدشات سے آگاہ کیا گیا تھا کہ 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے مستثنیات کے درست نفاذ کیلئے موضوع کی مہارت اور مقامی معلومات کی ضرورت ہوتی ہے جس کی Meta کے پاس یا تو کمی ہو سکتی ہے یا وہ اسے ہمیشہ لاگو کرنے سے قاصر ہو سکتی ہے۔ بورڈ ان خدشات کا اظہار کرتا ہے کہ جب تک کہ Meta ملک کے لحاظ سے مخصوص سطح پر گالیوں کا نشانہ بنائے جانے والے اقلیتی گروپس سے باقاعدگی سے معلومات حاصل نہیں کرتی ہے، تب تک وہ گالی کے نامزد الفاظ کی ممتاز لسٹس تیار کرنے سے قاصر رہے گی اور اپنے ماڈریٹرز کو اس بارے میں مناسب رہنمائی فراہم نہیں کر سکے گی کہ گالیوں کی پالیسی میں مستثنیات کو کس طرح لاگو کیا جانا چاہیے۔
8.2 Meta کی اقدار کی تعمیل
بورڈ کو معلوم ہوا ہے کہ اس مواد کو ہٹانے کا ابتدائی فیصلہ Meta کی ''اظہار رائے'' اور ''عظمت و وقار'' کی اقدار کے مطابق نہیں تھا اور ''تحفظ'' کی قدر کے تقاضوں پر پورا نہیں اترا تھا۔ جب کہ اپنے پلیٹ فارمز پر لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کیلئے گالیوں کے استعمال کو روکنے کی خاطر یہ بات Meta کی اقدار کے مطابق ہے لیکن بورڈ کو تشویش ہے کہ Meta پالیسی میں موجود مستثنیات کا یکساں طور پر اطلاق پسماندہ گروپس کے اظہار خیال پر نہیں کر رہی ہے۔
اس کیس کے تناظر میں، "اظہار رائے" جو کہ کسی پسماندہ گروپ کے ممبرز کی طرف سے آزادانہ اظہار خیال کو فروغ دینے کی کوشش ہے، انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ Meta ان کے اہداف کو بدنام کرنے اور دھمکانے کیلئے گالیوں کے استعمال کو محدود کرنے کی کوشش میں حق بجانب ہے، اور اُن الفاظ سے ان کے منفی اثرات کو ختم کرنے کی نیک کوششوں کی اجازت دینے میں بھی درست ہے۔
بورڈ تسلیم کرتا ہے کہ گالیوں کو پھیلانا "عظمت و وقار" کو متاثر کرتا ہے۔ جب اس طرح کے الفاظ، خصوصاً ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے استعمال کیے گئے ہوں یا وہ سیاق و سباق کے ایسے اشاروں سے عاری ہوں جن سے واضح ہوتا ہو کہ وہ ٹھیس پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیے جا رہے ہیں، گالی کے الفاظ کے ساتھ اتفاقاً آ جانے سے صارفین کو ایسے طریقوں سے ڈرایا جا سکتا، پریشان کیا جا سکتا یا ٹھیس پہنچائی جا سکتی ہے جو آن لائن اظہار خیال میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ جہاں سیاق و سباق کے واضح اشارے ہوتے ہیں کہ گالی کا ذکر اس کی مذمت کرنے یا آگاہی بڑھانے کیلئے کیا گیا ہے، یا بطور خود حوالہ یا عطائے اختیار کے طریقے سے اس کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں "عظمت و وقار" کی قدر اس بات کا حکم نہیں دیتی ہے کہ اس لفظ کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے۔ اس کے برعکس، حد سے زیادہ نفاذ جو مستثنیات کو نظر انداز کرتا ہے اقلیتی اور پسماندہ گروپس کو خاص طور پر متاثر کرتا ہے۔ جیسا کہ بورڈ نے "دو بٹنز میم" کے فیصلے میں تجویز کیا ہے، Meta کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے ماڈریٹرز کو کافی وسائل اور تعاون حاصل ہے تاکہ متعلقہ سیاق و سباق کی صحیح طرح تشخیص کی جا سکے۔ یہ ضروری ہے کہ اپنے صارفین کی "اظہار رائے" اور "عظمت و وقار" کی حفاظت کیلئے خاص طور پر وہ جن کا تعلق پسماندہ کمیونٹیز سے ہے، ماڈریٹرز گالیوں کے جائز حوالہ جات اور گالیوں کے ناجائز استعمال کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہوں۔
چونکہ پسماندہ کمیونٹیز کی "عظمت و وقار" اور "تحفظ" سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خطرے کی بلند ترین سطح پر ہیں، اس لئے ان پلیٹ فارمز پر ان کی حفاظت کی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ بورڈ پہلے ہی "ویمپم بیلٹ" کے فیصلے میں تجویز کر چکا ہے کہ Meta کو 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے مستثنیات کا اطلاق کرنے پر درستگی کے جائزے لینے چاہیے۔ ماڈریٹرز کو اس طرح ٹرین کر کے درستگی بہتر بنائی جا سکتی ہے کہ وہ امتیازی سلوک کی جانے والی کمیونٹیز پر مشتمل مواد کی شناخت کر سکیں اور اس بات کی بغور تشخیص کرنے کیلئے ہدایات حاصل کر سکیں کہ آیا 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی میں استثناء لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔ مواد کی تشخیص، معاون سیاق و سباق کے اشاروں کے ساتھ، ان مستثنیات کے اطلاق کیلئے محرک عنصر ہونا چاہیے۔
"تحفظ" کے حوالے سے، بورڈ محفوظ آن لائن جگہوں اور پسماندہ اور خطرے سے دوچار کمیونٹیز کیلئے محتاط ماڈریشن دونوں کی خاص اہمیت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ خاص طور پر MENA کے علاقے میں LGBTQIA+ عربی بولنے والوں کو کھل کر آن لائن اظہار خیال کرنے پر خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ Meta کو اس اظہار خیال کیلئے معاون میدان فراہم کرنے کی ضرورت میں توازن رکھنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ حد سے زیادہ ماڈریشن کر کے ان لوگوں کو خاموش نہ کرے جو پہلے سے ہی رکاوٹ اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالانکہ بورڈ اس شعبے میں، خصوصاً بڑے پیمانے پر، ماڈریشن کی پیچیدگی کو تسلیم کرتا ہے، یہ ضروری ہے کہ پلیٹ فارمز اسے صحیح طریقے سے انجام دینے کیلئے درکار وسائل کی سرمایہ کاری کریں۔
8.3 Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی تعمیل
بورڈ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ مواد کو ہٹانے کا Meta کا ابتدائی فیصلہ بطور بزنس انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق نہیں تھا۔ بزنس اور انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں ( UNGPs) کے تحت Meta نے انسانی حقوق کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے۔ Facebook کی انسانی حقوق کی کارپوریٹ پالیسی میں بیان کیا گیا ہے کہ اِس میں سول اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی عہد (ICCPR) شامل ہے۔
1۔ آزادی اظہار رائے (آرٹیکل 19 ICCPR)
ICCPR کا آرٹیکل 19 اظہار رائے کا وسیع تحفظ فراہم کرتا ہے، جس میں انسانی حقوق اور اظہار خیال کی بحث بھی شامل ہے جسے "شدید ناگوار" سمجھا جا سکتا ہے ( جنرل کمنٹ نمبر 34، پیرا۔ 11)۔ آزادی اظہار رائے کا حق "صنف" یا "دیگر سٹیٹس" کے امتیاز کے بغیر تمام لوگوں کو حاصل ہے (آرٹیکل 2، پیرا۔ 1، ICCPR)۔ اس میں جنسی رجحان اور جنسی شناخت شامل ہے ( Toonen v. آسٹریلیا (1992)؛ A/HRC/19/41، پیرا۔ 7)۔
اس پوسٹ کا تعلق LGBTQIA+ لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کے اہم سماجی مسائل سے ہے۔ UN کے اعلیٰ کمشنر برائے انسانی حقوق نے LGBTQIA+ کے حقوق کی وکالت پر امتیازی حد بندیوں سے پیدا ہونے والی آزادی اظہار خیال پر پابندیوں کے حوالے سے خدشات ظاہر کیا ہے (A/HRC/19/41، پیرا۔ 65)۔
آرٹیکل 19 کا تقاضہ ہے کہ جہاں کسی ریاست کی طرف سے اظہار خیال پر پابندیاں عائد ہوں انہیں قانونی حیثیت، جائز مقصد اور ضرورت و تناسب کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے (آرٹیکل 19، پیرا۔ 3، ICCPR)۔ UNGPs کے فریم ورک پر انحصار کرتے ہوئے، آزادی اظہار رائے و خیال کیلئے UN کے خصوصی روداد نویس نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کے مواد کے اصول آرٹیکل 19، پیرا۔ 3، ICCPR ( A/HRC/38/35، پیرا۔ 45 اور 70) کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔
I۔ قانونی حیثیت (اصول کی وضاحت اور رسائی پذیری)
قانونی حیثیت کا تقاضہ ہے کہ آزادی اظہار خیال پر کوئی بھی پابندی اتنی قابل رسائی اور واضح ہونی چاہیے کہ وہ اس بارے میں رہنمائی فراہم کر سکے کہ کس چیز کی اجازت ہے اور کس چیز کی اجازت نہیں ہے۔
"چھاتی کے سرطان کی علامات اور عریانیت" کے کیس (2020-004-IG-UA، تجویز نمبر 9)، "Ocalan کی قید تنہائی" کے کیس (2021-006-IG-UA، تجویز نمبر 10) اور نجی رہائشی معلومات کے حوالے سے پالیسی کی مشاورتی رائے (تجویز نمبر 9) میں بورڈ نے تجویز پیش کی کہ Meta کو Instagram کے صارفین پر واضح کرنا چاہیے کہ Facebook کے کمیونٹی کے معیارات کچھ استثناء کے ساتھ Instagram پر اسی طرح لاگو ہوتے ہیں جس طرح وہ Facebook پر لاگو ہوتے ہیں۔ پالیسی کی مشاورتی رائے میں، بورڈ نے تجویز پیش کی کہ Meta اسے 90 دنوں کے اندر مکمل کرے۔ بورڈ نے پالیسی کی مشاورتی رائے پر Meta کے جواب کو نوٹ کیا کہ، حالانکہ یہ تجویز پوری طرح نافذ کی جائے گی، Meta ابھی بھی Facebook کمیونٹی کے معیارات کے ساتھ اپنے تعلقات کو واضح کرنے کیلئے مزید جامع Instagram کمیونٹی گائیڈ لائنز بنانے پر کام کر رہی ہے اور 90 دن کی ڈیڈ لائن کی پابند نہیں ہو سکتی۔ متعدد مواقع پر اس تجویز کو دہرانے کے بعد، بورڈ یقین رکھتا ہے کہ Meta کو ان تبدیلیوں کی تیاری کیلئے کافی وقت مل چکا ہے۔ Instagram کمیونٹی گائیڈ لائنز اور Facebook کمیونٹی کے معیارات کے درمیان غیر واضح تعلق Meta کے پلیٹ فارمز کے صارفین کیلئے مسلسل الجھن کا باعث ہے۔ حالانکہ فی الحال Instagram کمیونٹی گائیڈ لائنز میں 'نفرت انگیز مواد' سے متعلق Facebook کمیونٹی کے معیار کا ایک لنک موجود ہے لیکن صارف کو یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ 'نفرت انگیز مواد' سے متعلق Facebook کمیونٹی کا پورا معیار، بشمول گالیوں کی ممانعت اور مستثنیات، Instagram پر لاگو ہوتا ہے۔ Instagram کمیونٹی گائیڈ لائنز کی بروقت اور جامع اپ ڈیٹس بورڈ کی اولین ترجیح بنی ہوئی ہیں۔
گالیوں کی لسٹ تیار کرنے کے حوالے سے، بورڈ "جنوبی افریقہ کی گالیوں" کے کیس (2021-011-FB-UA) میں مذکورہ بات کو دہراتا ہے کہ Meta کو لسٹ تیار کرنے میں طریقہ کار اور معیار پر زیادہ شفاف ہونا چاہیے۔ اس کیس میں، Meta نے وضاحت کی کہ وہ "متعلقہ اندرونی پارٹنرز جیسے پراسس، مارکیٹس، اور مواد کی پالیسی کی ٹیموں کے تجزیے اور جانچ" کی بنیاد پر ہر قائم شدہ مارکیٹ کیلئے گالی کی لسٹس کی تعبیر کرتی ہے۔ Meta نے یہ بھی بتایا کہ اس کے ماہرینِ مارکیٹ گالی کی لسٹ کا سالانہ محاسبہ کرتے ہیں، جس میں ہر لفظ کی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے تشخیص کی جاتی ہے، اُن الفاظ میں فرق کرتے ہوئے "جو فطرتاً ناگوار ہوتے ہیں، چاہے خود ہی لکھے گئے ہوں، اور وہ جو فطرتاً ناگوار نہیں ہوتے ہیں۔" بورڈ پر یہ واضح نہیں ہے کہ جب یہ سالانہ جائزہ ہوتا ہے، لیکن بورڈ کے اس کیس کو منتخب کرنے کے بعد، Meta نے لفظ "z***l" کے استعمال کا محاسبہ کیا۔ اس محاسبے کے بعد، لفظ کو "عربی" گالی کی لسٹ سے ہٹا دیا گیا جبکہ "مغربی مارکیٹ" کیلئے بنائی گئی گالی کی لسٹ میں موجود رہا۔ بورڈ کو معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ محاسبہ باقاعدہ طریقہ کار کا حصہ تھا یا بورڈ کے اس کیس کے انتخاب کے جواب میں کوئی ہنگامی جائزہ تھا۔ عمومی طور پر، بورڈ پر یہ عیاں نہیں ہوتا ہے کہ سالانہ جائزوں میں کیفیت اور کمیت کی تشخیص میں کیا شامل ہے۔
گالی کی لسٹ تیار کرنے اور مارکیٹ کے تعین کے طریقہ کار و معیار کے بارے میں معلومات، خاص طور پر اس حوالے سے کہ لسانی اور جغرافیائی مارکیٹس میں کیسے فرق کیا جاتا ہے، صارفین کیلئے دستیاب نہیں ہیں۔ اس معلومات کے بغیر، صارفین کو اس بات کی تشخیص کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے کہ کون سے الفاظ گالی سمجھے جا سکتے ہیں، جو کہ گالیوں کی محض اس وضاحت پر مبنی ہے جو 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی میں کی گئی ہے جو فطری ناگواری اور توہین آمیز نوعیت جیسے موضوعی تصورات پر منحصر ہے ( A/74/486، پیرا۔ 46؛ یہ بھی دیکھیں A/HRC/38/35، پیرا۔ 26)۔
گالی کی لسٹ کس طرح نافذ کی جاتی ہے اس حوالے سے، Meta نے "جنوبی افریقہ کی گالیوں" کے کیس ( 2021-011-FB-UA) میں بتایا کہ اس کی "گالیوں کے خلاف ممانعت عالمی ہے، البتہ گالیوں کا تعین مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص ہے۔" اس نے وضاحت کی کہ "اگر کوئی لفظ کسی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ میں نظر آتا ہے تو نفرت انگیز مواد کی پالیسی اُس مارکیٹ میں اس کے استعمال سے روکتی ہے۔" Meta کی وضاحت الجھاؤ کُن ہے کہ آیا اس کے طرزِ نفاذ، جو کہ دائرہ کار میں عالمی ہو سکتے ہیں، کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ کے لحاظ سے متعینہ گالیاں بھی عالمی سطح پر ممنوع ہیں۔ Meta نے وضاحت کی کہ اس نے مارکیٹ کی تعریف اس طور پر کی ہے کہ وہ "ملک (ملکوں) اور زبان (زبانوں)/بولی (بولیوں) کا مجموعہ" ہے اور یہ کہ "…مارکیٹ [مارکیٹس] کے درمیان تقسیم بنیادی طور پر مواد کی زبان/بولی اور ملک کے مجموعے پر مبنی ہے۔" Meta کے مواد کے جائزہ کاروں کو "ان کی لسانی اہلیت اور ثقافتی اور مارکیٹ کی معلومات کی بنیاد پر ان کی مارکیٹ کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔" Meta کے مطابق، یہ مواد گالی کی لسٹ میں موجود عربی اور مغربی مارکیٹس پر مشتمل تھا۔ "مواد میں معلوم کردہ لوکیشن، زبان اور بولی، مواد کی قسم اور رپورٹ کی قسم جیسے متعدد اشاروں کے مجموعے کی بنیاد پر" اِن مارکیٹس کی طرف اس کی نسبت کی گئی تھی۔ بورڈ کو یہ بات کافی حد تک واضح نہیں ہے کہ متعدد اشارے مل کر اس بات کا تعین کرنے کیلئے کس طرح کام کرتے ہیں کہ مواد کا ایک جُز کن مارکیٹوں کو انگیج کرے گا، اور آیا کسی ایسے لفظ پر مشتمل مواد کو، جسے کسی زیر بحث مارکیٹ میں گالی سمجھا جاتا ہے، صرف اسی صورت میں ہٹایا جائے گا جب کہ مواد اُس مارکیٹ سے متعلق ہو، یا پھر اسے عالمی سطح پر ہٹایا جائے گا۔ خود کمیونٹی کے معیار میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
Meta کو اس بات کی ایک جامع وضاحت جاری کرنی چاہیے کہ پلیٹ فارم پر گالیاں کیسے نافذ کی جاتی ہیں۔ موجودہ پالیسی میں متعدد شعبے مبہم ہیں، بشمول اس کے کہ آیا مخصوص علاقوں کیلئے نامزد گالیوں کو پلیٹ فارم سے صرف اس وقت ہٹایا جاتا ہے جب انہیں اُن علاقوں میں پوسٹ کیا جاتا ہے یا جب اُن علاقوں میں دیکھا جاتا ہے، یا اس بات سے قطع نظر کہ انہیں کہاں پوسٹ کیا یا دیکھا جاتا ہے۔ Meta کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ ان الفاظ کو کیسے ہینڈل کرتی ہے جنہیں کچھ صورتوں میں گالی سمجھا جاتا ہے لیکن کسی اور صورت میں ان کا معنی بالکل مختلف ہوتا ہے، ایسا کہ جو Meta کی کسی بھی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔
نفرت انگیز مواد سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی ساخت بھی الجھن کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ گالیوں کی ممانعت تیسرے درجے کے نفرت انگیز مواد کے عنوان کے تحت معلوم ہوتی ہے لیکن بورڈ کو یہ واضح نہیں ہو رہا ہے کہ آیا یہ ممانعت واقعی تیسرے درجے سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ گالیوں سے لوگوں کو علیحدگی یا بائیکاٹ کا نشانہ بنایا جا رہا ہو، جو کہ اُس درجے کے بقیہ حصے کا نقطہ ارتکاز ہے۔
II۔جائز مقصد
اظہار رائے پر کسی بھی طرح کی پابندی کے وقت ICCPR میں درج جائز مقاصد میں سے ایک پر عمل ہونا چاہیے، جس میں "دوسروں کے حقوق" شامل ہیں۔ اس کیس کی زیر بحث پالیسی میں مساوات، تشدد کے خلاف تحفظ، اور جنسی رجحان و جنسی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے متعلق دوسروں کے حقوق ( جنرل کمنٹ نمبر 34، پیرا۔ 28) کے تحفظ کے جائز مقصد پر عمل ہوا ہے (آرٹیکل 2، پیرا۔ 1، آرٹیکل 26 ICCPR؛ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی، Toonen v. آسٹریلیا (1992)؛ جنسی رجحان و جنسی شناخت پر مبنی تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ریزولیوشن 32/2)۔
III۔ ضرورت اور تناسب
ضرورت اور تناسب کا اصول اس بات کو لازمی قرار دیتا ہے کہ اظہار رائے پر کوئی بھی پابندی "اپنے حفاظتی فعل کو حاصل کرنے کیلئے مناسب ہونی چاہیے؛ ایسی ہونی چاہیے کہ اپنے حفاظتی فعل کو حاصل کرنے والی دیگر پابندیوں کے مقابلے کم از کم مداخلت کرتی ہو؛ [اور] زیر تحفظ مفاد کے تناسب میں ہونی چاہیے" ( جنرل کمنٹ نمبر 34، پیرا۔ 34)۔
اس کیس میں مواد کو ہٹانا ضروری نہیں تھا کیونکہ ہٹانا ایک واضح غلطی تھی جو کہ Meta کی 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسیوں کے استثناء کے مطابق نہیں تھا۔ جائز مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہٹانا پریشان کُن اقدام بھی نہیں تھا، کیونکہ ہٹانے کا باعث بننے والے ہر جائزے میں صرف ایک تصویر میں پالیسی کی مبینہ خلاف ورزیوں کیلئے 10 تصاویر پر مشتمل پورے کیروسیل کو ہٹایا گیا تھا۔ اگر کیروسیل میں استثناء کے زمرے میں نہ آنے والی ناجائز گالیوں پر مشتمل ایک ہی تصویر ہوتی، تب بھی پورے کیروسیل کو ہٹانا تناسب والا ردعمل نہیں ہوگا۔
Meta نے بورڈ کو وضاحت کی کہ "پوسٹ اس وقت خلاف ورزی کرنے والی سمجھی جاتی ہے جب کوئی بھی تصویر کمیونٹی کے معیارات کی خلاف ورزی پر مشتمل ہو" اور "Meta کیلئے Facebook کے برخلاف، Instagram کی متعدد تصاویر والی پوسٹ سے ایک تصویر کو ہٹانا ممکن نہیں ہے۔" Meta نے بتایا کہ مواد کے جائزے کے ٹول میں ایک اپ ڈیٹ اس مقصد کے ساتھ تجویز کی گئی تھی کہ جائزہ کار کیروسیل میں موجود صرف خلاف ورزی کرنے والی تصویر کو ہٹا سکیں لیکن اپ ڈیٹ کو ترجیح نہیں دی گئی تھی۔ بورڈ کو یہ بیان واضح معلوم نہیں ہوتا ہے، اور اس کا خیال ہے کہ اپ ڈیٹ کو ترجیح نہ دینا سسٹم کے حد سے زیادہ نفاذ کا باعث بن سکتا ہے جس میں پورے کیروسیل کو ہٹا دیا جاتا ہے حالانکہ اس کے صرف کچھ حصوں کو خلاف ورزی کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ بورڈ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ، جہاں کوئی صارف Facebook اور Instagram پر تصاویر کی وہی سیریز پوسٹ کرتا ہے تو دونوں پلیٹ فارمز پر اس قسم کے مواد کے ساتھ مختلف برتاؤ سے غیر یکساں نتائج سامنے آئیں گے جو کہ کوئی بھی معنی خیز پالیسی کا فرق اس کو جائز قرار نہیں دیتا: اگر ان میں سے ایک تصویر خلاف ورزی کر رہی ہے تو اس کی وجہ سے Instagram پر پورے کیروسیل کو ہٹایا جائے گا لیکن Facebook پر نہیں۔
2.غیر امتیازی سلوک
امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والے LGBTQIA+ لوگوں کیلئے توہین آمیز الفاظ کو بروئے کار لانے کی اہمیت کے پیش نظر، بورڈ Meta سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس کیس کے مواد اور Facebook و Instagram پر اس سے ملتے جلتے مواد کے ناجائز طریقے سے ہٹائے جانے کے امکان کے بارے میں خاص طور پر حساس رہے۔ جیسا کہ بورڈ نے "ویمپم بیلٹ" فیصلے (2021-012-FB-UA) میں مقامی افراد کے فنکارانہ اظہار خیال کے حوالے سے نوٹ کیا، Meta کے Facebook کی 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے نفاذ کی کارکردگی کی کلی طور پر قدر پیمائی کرنے کیلئے وہ کافی نہیں ہے – خاص پسماندہ گروپس پر اثرات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ UNGPs کے تحت، "کاروباری اداروں کو ان گروپس یا آبادیوں کے افراد پر، جو کمزوری یا پسماندگی کے زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، انسانی حقوق کے خاص اثرات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے" (UNGPs، اصول 18 اور 20)۔ وہ ممالک جہاں اپنا اظہار خیال کرنے کی وجہ سے LGBTQIA+ لوگوں پر جرمانہ عائد ہوتا ہے، ان کیلئے سوشل میڈیا اکثر ایک واحد ذریعہ ہوتا ہے جس سے وہ اب بھی آزادانہ طور پر اظہار خیال کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال خصوصاً Instagram کیلئے ہے، جہاں کمیونٹی گائیڈ لائنز صارفین کو اپنا اصلی نام استعمال نہ کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ بورڈ نوٹ کرتا ہے کہ کمیونٹی کے معیارات میں Facebook کے صارفین کو وہی آزادی فراہم نہیں کی گئی ہے۔ Meta کیلئے یہ ظاہر کرنا اہم ہوگا کہ اس نے انسانی حقوق کیلئے مستعدی سے کام لیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے سسٹمز منصفانہ طریقے سے کام کر رہے ہیں اور امتیازی سلوک میں حصہ نہیں لے رہے ہیں (UNGPs، اصول 17)۔ بورڈ نوٹ کرتا ہے کہ Meta نفرت انگیز مواد سے نمٹنے میں اپنے نفاذ کے سسٹمز کی درستگی کا معمول کے مطابق قدر پیمائی کرتی ہے ("ویمپم بیلٹ" کا فیصلہ)۔ تاہم اِن جائزوں کو درستگی کی اُن قدر پیمائشوں میں تقسیم نہیں کیا گیا ہے جو ناجائز نفرت انگیز مواد کو توہین آمیز الفاظ کو بروئے کار لانے کی کوشش کرنے والے جائز مواد سے ممتاز کرنے کی Meta کی صلاحیت کی خاص طور پر پیمائش کرتی ہیں۔
اس کیس میں غلطیاں بتاتی ہیں کہ توہین آمیز الفاظ کے حوالہ جات کی تشخیص کرنے والے ماڈریٹرز کیلئے Meta کی رہنمائی ناکافی ہو سکتی ہے۔ بورڈ اس بارے میں فکرمند ہے کہ شاید جائزہ کاروں کے پاس گنجائش یا ٹریننگ کے لحاظ سے کافی وسائل نہیں ہیں جن سے اس کیس میں نظر آنے والی غلطی کو روکا جا سکے، خاص طور پر پالیسی کے مستثنیات کے زمرے میں منظور شدہ مواد کے سلسلے میں۔ اس کیس میں، Meta نے بورڈ کو مطلع کیا کہ معلوم سوالات اور داخلی نفاذ کے معیارات صرف انگریزی میں دستیاب ہیں تاکہ اس کی پالیسیوں کے "معیاری عالمی نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے"، اور یہ کہ "اس کے تمام مواد کے ماڈریٹرز انگریزی میں رواں ہیں۔" "میانمار بوٹ" کے فیصلے (2021-007-FB-UA) میں، بورڈ نے تجویز پیش کی کہ Meta کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے داخلی نفاذ کے معیارات اس زبان میں دستیاب ہوں جس میں مواد کے ماڈریٹر مواد کا جائزہ لیتے ہیں۔ Meta نے اس تجویز پر مزید کوئی کارروائی نہیں کی اور اسی طرح کا جواب دیا کہ اس کے مواد کے ماڈریٹرز انگریزی میں رواں ہیں۔ بورڈ دیکھتا ہے کہ جائزہ کاروں کو انگریزی میں اس بات کی رہنمائی فراہم کرنا کہ غیر انگریزی زبانوں میں مواد کو کیسے ماڈریٹ کیا جائے، فطری طور پر چیلنجنگ ہے۔ داخلی نفاذ کے معیارات اور معلوم سوالات اکثر امریکی-انگریزی زبان کی ایسی ترکیبوں پر مبنی ہوتے ہیں جن کا عربی جیسی دوسری زبانوں پر اطلاق نہیں ہو سکتا ہے۔
"ویمپم بیلٹ" کے فیصلے (2021-012-FB-UA، تجویز نمبر 3) میں، بورڈ نے تجویز پیش کی کہ Meta درستگی کے جائزے منعقد کرے جو 'نفرت انگیز مواد' کی پالیسی کے مستثنیات پر مرکوز ہوں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اظہار خیال کو شامل کرتے ہوں (مثلاً مذمت کرنا، آگاہی بڑھانا، استعمال بطور خود حوالہ، بااختیار بنانے کیلئے استعمال)، اور یہ کہ Meta کو تشخیص کے نتائج شیئر کرنے چاہیے، بشمول اس کے کہ یہ نتائج کس طرح نفاذ کی کارروائیوں اور پالیسی کی تیاری میں بہتری لا سکیں گے۔ بورڈ نے یہ تجویز اس فہم کی بنیاد پر جاری کی کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اظہار خیال کے ضرورت سے زیادہ ہٹائے جانے کے اخراجات خاص طور پر بہت زیادہ ہیں۔ عمل پذیری کی تشخیص کرنے میں تجویز کرتے ہوئے بورڈ Meta کے خدشات کو نوٹ کرتا ہے، بشمول (ا) انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے شعبوں کیلئے مستثنیات پر اپنی پالیسیوں میں مخصوص زمروں کی کمی، اور (ب) 'نفرت انگیز مواد' کے مستثنیات کے زمرے میں آنے والے مواد کے بآسانی قابل شناخت نمونے کی کمی۔ بورڈ یقین رکھتا ہے کہ ان چیلنجوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، کیونکہ Meta نفرت انگیز مواد کے موجودہ مستثنیات کے تجزیے پر توجہ مرکوز کر سکتی ہے اور مواد کے نمونوں کی شناخت کو ترجیح دے سکتی ہے۔ بورڈ Meta کو ترغیب دلاتا ہے کہ وہ "ویمپم بیلٹ" کیس (2021-012-FB-UA) میں دی گئی تجویز کو نافذ کرنے کا عہد کرے اور اپنی اگلی سہ ماہی رپورٹ میں Meta کی جانب سے اپ ڈیٹس کا خیر مقدم کرتا ہے۔
9. اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ
اوور سائٹ بورڈ نے مواد کو ہٹانے کے Meta کے اصل فیصلے کو کالعدم کر دیا۔
10۔ پالیسی کا مشاورتی بیان
نفاذ
1. Meta کو داخلی نفاذ کے معیارات اور معلوم سوالات کا جدید معیاری عربی میں ترجمہ کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے ماڈریٹرز کو اس بات کی بہتر تشخیص کرنے میں مدد کر کے کہ گالیوں پر مشتمل مواد کے مستثنیات کب ضروری ہوں گے، عربی زبان کا استعمال کرنے والے خطوں میں ضرورت سے زیادہ نفاذ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بورڈ نوٹ کرتا ہے کہ Meta نے "میانمار بوٹ" کیس (2021-007-FB-UA) میں اس تجویز کے جواب میں مزید کوئی کارروائی نہیں کی ہے کہ Meta کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کے داخلی نفاذ کے معیارات اس زبان میں دستیاب ہوں جس میں مواد کے ماڈریٹرز مواد کا جائزہ لیتے ہیں۔ بورڈ اس تجویز پر عمل درآمدی کو اس وقت معتبر سمجھے گا جب Meta بورڈ کو مطلع کرے کہ جدید معیاری عربی میں ترجمہ مکمل ہو گیا ہے۔
شفافیت
2. Meta کو اس بات کی صاف طور پر وضاحت شائع کرنی چاہیے کہ وہ کس طرح اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ بناتی ہے۔ اس وضاحت میں یہ متعین کرنے کیلئے طریقہ کار اور معیار شامل ہونے چاہئیں کہ کون سی گالیوں اور ممالک کو ہر مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص لسٹ میں تفویض کیا گیا ہے۔ بورڈ کی نظر میں اس کا نفاذ اس وقت ہوگا جب معلومات ٹرانسپرنسی سنٹر میں شائع کر دی جائے۔
3. Meta کو اس بات کی صاف طور پر وضاحت شائع کرنی چاہیے کہ وہ کس طرح اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ نافذ کرتی ہے۔ اس وضاحت میں یہ درست طریقے سے متعین کرنے کیلئے طریقہ کار اور معیار شامل ہونے چاہئیں کہ گالیوں کی ممانعت کب اور کہاں نافذ کی جائے گی، خواہ جغرافیائی طور پر زیر بحث علاقے سے شروع ہونے والی پوسٹوں کے سلسلے میں ہو یا باہر سے شروع ہوئی ہو لیکن زیر بحث علاقے سے متعلق ہو، اور/یا پوسٹ کے جغرافیائی نقطہ آغاز سے قطع نظر زیر بحث علاقے کے تمام صارفین سے متعلق ہو۔ بورڈ کی نظر میں اس تجویز کا نفاذ اس وقت ہوگا جب معلومات Meta کے ٹرانسپرنسی سنٹر میں شائع کر دی جائے۔
4. Meta کو اس بات کی صاف طور پر وضاحت شائع کرنی چاہیے کہ وہ کس طرح اپنی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص گالیوں کی لسٹ کا محاسبہ کرتی ہے۔ اس وضاحت میں Meta کی مارکیٹ کے لحاظ سے مخصوص لسٹ سے گالیوں کو ہٹانے یا ان کو اس میں برقرار رکھنے کیلئے طریقہ کار اور معیار شامل ہونے چاہئیں۔ بورڈ کی نظر میں اس تجویز کا نفاذ اس وقت ہوگا جب معلومات Meta کے ٹرانسپرنسی سنٹر میں شائع کر دی جائے۔
*طریقہ کار کا نوٹ:
اوور سائٹ بورڈ کے فیصلے پانچ ممبروں کی پینلز تیار کرتی ہیں اور اسے بورڈ کی اکثریت منظور کرتی ہے۔ ضروری نہیں کہ بورڈ کے فیصلے تمام ممبرز کے ذاتی خیالات کی نمائندگی کرتے ہوں۔
اس کیس کے فیصلے کیلئے بورڈ کی جانب سے آزاد تحقیق کا آغاز کیا گیا تھا۔ گوتھینبرگ یونیورسٹی میں واقع ایک آزاد تحقیقی ادارہ اور اس میں چھ براعظموں کے 50 سے زائد سماجی سائنس دانوں کی ٹیم کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک سے 3200 سے زائد ماہرین شامل ہیں۔ بورڈ کو Duco Advisors نے بھی مدد فراہم کی، جو کہ ایک مشاورتی کمپنی ہے جو جغرافیائی سیاست، بھروسہ و تحفظ اور ٹیکنالوجی کے مقام انقطاع پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ Lionbridge Technologies, LLC کمپنی نے، جس کے ماہرین 350 سے زیادہ زبانوں میں روانی رکھتے ہیں اور دنیا بھر کے 5,000 شہروں سے کام کرتے ہیں، لسانی مہارت فراہم کی۔
Voltar para Decisões de Casos e Pareceres Consultivos sobre Políticas