Anulado
کیوبا میں خواتین سے احتجاج کا مطالبہ
3 de Outubro de 2023
اوور سائٹ بورڈ نے Instagram پر کیوبا کے ایک نیوز پلیٹ فارم کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کو ہٹانے کے Meta کے فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے، اس ویڈیو میں ایک عورت حکومت کے خلاف احتجاج کا مطالبہ کر رہی ہے۔
کیس کا خلاصہ
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کا Instagram سے ویڈیو پوسٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم کر دیا ہے، یہ ویڈیو کیوبا کے نیوز پلیٹ فارم نے پوسٹ کی تھی جس میں ایک خاتون کیوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے، دیگر عورتوں کو سڑکوں پر نکل کر احتجاج میں شامل ہونے کیلئے کہہ رہی ہے اور مردوں پر تنقید کر رہی ہیں، اور مردوں کا عقلی لحاظ سے یا جسمانی طور پر کمتر مانے جانے والے جانوروں سے موازنہ کر رہی ہے، کیوں کہ یہ مرد ان لوگوں کا دفاع کرنے میں ناکام ہو گئے جن پر جبر کیا جا رہا ہے۔ بورڈ کے مطابق ویڈیو میں موجود کلام رویہ پر مبنی ایک تفصیلی بیان ہے جس کی Meta کے نفرت انگیز مواد کے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، جن ممالک میں لوگوں کے اظہار خیال کی آزادی اور پُرامن اجتماع کے حقوق پر سخت پابندیاں ہیں، یہ بات اہم ہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین کی اظہار رائے کا تحفظ ہو، خاص طور پر سیاسی احتجاج کے وقت۔
کیس کا تعارف
جولائی 2022 میں خود کو کیوبا کی حکومت کے ناقد کہنے والے ایک نیوز پلیٹ فارم نے اپنے توثیق شدہ Instagram اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ اس ویڈیو میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک عورت دیگر عورتوں کو حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے کو سڑکوں پر نکلنے کو کہہ رہی ہے۔ ایک موقع پر وہ کیوبا کے مردوں کو "چوہے" اور پیشاب پاخانہ لاد کر لے جانے والی "گھوڑیاں" کہہ رہی ہے کیوں کہ ان پر اس معاملے میں بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے استحصال کے شکار لوگوں کا دفاع کریں گے۔ ویڈیو کے ساتھ ہسپانوی زبان میں موجود کیپشن میں کیوبا کے "نظام حکومت" اور "آمریت" کا حوالہ دینے والے ہیش ٹیگز شامل ہیں، اور #SOSCuba کا استعمال کر کے ملک کی صورتحال پر بین الاقوامی توجہ دلائی گئی ہے۔
یہ ویڈیو جولائی 2021 میں ملکی سطح پر ہوئے احتجاج کی پہلی سالگرہ کے موقع پر شیئر کی گئی تھی جہاں کیوبا کے لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔ اس کے جواب میں ریاست کی طرف سے جبر میں اضافہ ہوا جو 2022 تک جاری رہا۔ پوسٹ کا وقت بھی اس لیے اہم تھا کیونکہ اس پوسٹ کو کیوبا کے ایک نوجوان کے پولیس کی وجہ سے ہلاک ہونے کے واقعہ کے چند دنوں بعد شیئر کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں ایک خاتون اسی حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہہ رہی ہے کہ "ہم اپنے بیٹوں کے قتل کی مزید اجازت نہیں دیں گے"۔ ویڈیو کے اوورلے متن میں سیاسی تبدیلی کو خواتین کے احتجاج سے جوڑا گیا ہے۔
ویڈیو کو 90,000 سے زیادہ بار پلے کیا گیا اور 1,000 سے کچھ کم بار شیئر کیا گیا۔
اسے پوسٹ کرنے کے سات دن بعد ناگوار بیان کے کلاسیفائر نے اس کی نشاندہی ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کے طور پر کی اور اسے انسانی جائزہ کیلئے بھیج دیا۔ اگرچہ انسانی ماڈریٹر نے اس پوسٹ کو Meta کی نفرت انگیز مواد کے متعلق پالیسی کے خلاف پایا، لیکن یہ مواد آن لائن برقرار رہا کیوں کہ کراس چیک سسٹم کے تحت اس مواد کو مزید انسانی جائزے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ ان جائزوں کے درمیان سات مہینوں کا فاصلہ تھا یعنی اس پوسٹ کو فروری 2023 میں ہٹایا گیا تھا۔ فروری میں اسی دن ویڈیو شیئر کرنے والے صارف نے Meta کے فیصلے کے خلاف اپیل کی۔ Meta نے مواد کو پالیسی یا نفس مضمون کے ماہرین کو بھیجے بغیر اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔ Instagram اکاؤنٹ پر معیاری سٹرائک کا اطلاق کیا گیا لیکن فیچر کے استعمال پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
اہم نتائج
پوسٹ کو تفصیل کے ساتھ پڑھنے پر بورڈ کو یہ محسوس ہوا کہ اس پوسٹ کا مقصد مردوں کو ان کے جنس کی وجہ سے حقیر بتانا، ان کے خلاف تشدد بھڑکانا یا کیوبا کے احتجاج کی گفتگو سے ان کا بائیکاٹ کرنا نہیں ہے۔ پوسٹ کا واضح مقصد جولائی 2021 میں شروع ہونے والے تاریخی مظاہروں کے تناظر میں کیوبا کے مردوں کے رویے کے بارے میں اس خاتون کی رائے کی طرف توجہ دلانا ہے۔ خاتون نے اپنی باتوں میں "چوہے" اور "گھوڑیاں" جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے وہ اس مخصوص تناظر میں مردوں کو بزدل ظاہر کرنے کیلئے اور ان کے رویے پر اپنے ذاتی غصے کا اظہار کرنے کیلئے کیا ہے، مقامی ماہرین نے اور پبلک کمنٹس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ پوسٹ کیوبا کے مردوں کیلئے کوئی قدم اٹھانے کا اشارہ ہے۔
اگر سیاق و سباق کو مدنظر نہ رکھا جائے اور اس کا لغوی معنی دیکھا جائے تو مردوں کا موازنہ عقلی لحاظ سے یا جسمانی طور پر کمتر مانے جانے والے جانوروں سے کیا گیا ہے جو کہ Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، جب پوسٹ کو تفصیل کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد تمام مردوں کو حقیر ثابت کرنا نہیں ہے لیکن اس کے بجائے یہ رویہ پر مبنی ایک تفصیلی بیان ہے اور پالیسی کے تحت اس کی اجازت ہے۔ نتیجتاً، بورڈ نے یہ محسوس کیا کہ مواد کو ہٹانے کا عمل Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے مطابق نہیں ہے۔
اس کے علاوہ بیرونی ماہرین ہیش ٹیگ #SOSCuba کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو کسی صارف نے کیوبا کے لوگوں کے سامنے درپیش معاشی، سیاسی اور فلاحی بحران کی طرف توجہ دلانے کیلئے پوسٹ کیا ہے، ان احتجاج کو تاریخی واقعات کے ایک اہم نکتے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ بورڈ اس بات کیلئے فکرمند ہے کہ ایسے مواد کیلئے جسے اضافی انسانی جائزہ سے استفادہ ہوتا ہے، Meta کے فیصلوں میں سیاق و سباق پر مبنی معلومات کو کس طرح زیر غور لایا جاتا ہے۔ اس کیس میں، یہاں تک کہ مواد کو اضافی جائزے کیلئے بھی بھیجا گیا تھا، یہ ایسا پراسس ہے جو بہتر نتائج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، پھر بھی Meta صحیح فیصلہ کرنے میں ناکام رہی۔
Meta کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ اس کے خودکار سسٹمز اور مواد کے جائزہ کاران دونوں ہی اپنی فیصلہ سازی کے عمل میں سیاق و سباق پر مبنی معلومات کو زیر غور لانے کے قابل ہیں۔
اس کیس میں یہ خاص طور پر مواد کے تحفظ کیلئے اہم تھا۔ کیوبا ایسی جگہ ہے جہاں سخت پابندیاں ہیں، لہذا مخالفت سے وابستہ خطرات زیادہ ہیں، اور انٹرنیٹ تک رسائی پر سخت پابندیاں ہیں۔ اس کیس میں ہو سکتا ہے کہ ایسکیلیشن پراسس میں متعلقہ سیاق و سباق کو مناسب طریقے سے زیر غور نہیں لایا گیا ہو۔ Meta کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سیاق و سباق کا اس کی پالیسیوں پر اور ان کے نفاذ کے طریقوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کے پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے۔
اگرچہ بورڈ نے اس کیس میں کوئی نئی تجویز پیش نہیں کی ہے، لیکن گزشتہ فیصلوں میں دی گئی متعلقہ تجاویز کو دہرایا ہے کہ Meta ان پر دھیان سے عمل کرے:
- Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق اظہار کی حفاظت کیلئے فہرست پر مبنی حد سے زیادہ نفاذ سے بچاؤ کا پروگرام بنائے، جو کہ Meta کی طرف سے کاروباری ترجیح کے طور پر دیکھے جانے والے اظہار کی حفاظت کرنے والے پروگرام سے الگ ہونا چاہیے (کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجویز نمبر 1۔) یہ الگ سسٹم اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ Meta دیگر سمیت انسانی حقوق کے محافظین کی طرف سے پوسٹ کردہ مواد کے اضافی جائزے کا اہتمام کرتی ہے۔
- حد سے زیادہ نفاذ سے بچاؤ کی لسٹس بنانے کیلئے خاص عملے کا استعمال کرے جس میں مقامی افراد کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے (کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجویز نمبر 8)۔
- اس میں بہتری لائے کہ اس کا workflow جو اپنی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے وقف ہے، خاص طور پر فیصلہ سازی کے کاموں میں کس طرح بہتر جائزہ لینے کیلئے سیاق و سباق اور زبان کے ماہرین کو شامل کرتا ہے (کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجویز نمبر 3)۔
- اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ مواد کا جائزہ لینے کیلئے سیاق و سباق کو مناسب طور پر زیر غور لایا گیا ہے، بڑے پیمانے پر اپنے ماڈریٹرز کو اہلیت کے اصولوں پر خصوصی توجہ دلانے کیلئے اپنی رہنمائی اپ ڈیٹ کرے، کیوں کہ موجودہ رہنمائی عملی طور پر ماڈریٹرز کیلئے صحیح فیصلے کرنا ناممکن بنا رہی ہے (کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجویز نمبر 2)۔
* کیس کے خلاصے میں کیس کا مجموعی جائزہ فراہم کیا جاتا ہے اور اس میں نظیری قدر نہیں ہوتی ہے۔
کیس کا مکمل فیصلہ
1۔ فیصلے کا خلاصہ
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کے Instagram پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے یہ پوسٹ کیوبا میں جولائی 2021 میں ہوئے ملک بھر میں ہوئے تاریخی احتجاج کی پہلی سالگرہ کے موقع پر شائع کی گئی تھی۔ پوسٹ میں ایک خاتون حکومت کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور کیوبا کے مردوں کا موازنہ عقلی لحاظ سے یا جسمانی طور پر کمتر مانے جانے والے جانوروں سے کر رہی ہے۔ وہ اس بات پر زور دینے کیلئے ایسا کر رہی ہے کہ کیوبا کے مردوں پر بھروسہ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ انہوں نے ان تشدد کے شکار لوگوں کے دفاع کیلئے اپنی طاقت کا استعمال کر کے کوئی مطلوبہ کارروائی نہیں کی۔ پوسٹ میں خواتین سے یہ مانگ کی جا رہی ہے کہ وہ "اپنے بیٹوں" کی زندگیاں بچانے خاطر ان کا دفاع کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں۔ Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے تحت یہ رویہ پر مبنی ایک تفصیلی بیان ہے، اور اس طرح کے بیان کی اجازت ہونی چاہیے۔ جن ممالک میں لوگوں کے اظہار خیال کی آزادی اور پُرامن اجتماع کے حقوق پر سخت پابندیاں ہیں، یہ بات اہم ہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین کی اظہار رائے کا تحفظ ہو، خاص طور پر سیاسی احتجاج کے وقت۔
2۔ کیس کی تفصیل اور پس منظر
جولائی 2022 میں خود کو کیوبا کی حکومت کے ناقد کہنے والے ایک نیوز پلیٹ فارم کے توثیق شدہ Instagram اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں ایک خاتون دیگر عورتوں کو سڑکوں پر نکل کر احتجاج میں شامل ہونے کیلئے کہہ رہی ہے۔ ہسپانوی زبان میں موجود کیپشن میں ویڈیو کے اقوال شامل ہیں، کیوبا کے "نظام حکومت" اور "آمریت" کا حوالہ دینے والے ہیش ٹیگز شامل ہیں، اور #SOSCuba کا استعمال کر کے ملک کی فلاحی صورتحال پر بین الاقوامی توجہ دلائی گئی ہے۔ ویڈیو میں ایک جگہ خاتون کہتی ہیں کہ کیوبا کے مرد "بزدل" ہیں کیوں کہ ان پر اس معاملے میں بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے استحصال کے شکار لوگوں کا دفاع کریں گے۔ ایک اور موقع پر وہ کہتی ہے کہ کیوبا کے مرد "خصی" اور زمین پر بوجھ ہیں۔ ویڈیو کے اوورلے متن میں سیاسی تبدیلی کو خواتین کے احتجاج سے جوڑا گیا ہے۔ ویڈیو کو 90,000 سے زیادہ بار پلے کیا گیا اور 1,000 سے کچھ کم بار شیئر کیا گیا۔
بورڈ کو پبلک کمنٹس میں اور علاقے سے واقف ماہرین کے ساتھ مشورہ کرنے پر یہ معلوم ہوا کہ کیوبا میں ہسپانوی بولنے والے افراد بول چال کی زبان میں ان الفاظ کا مطلب بزدل کے طور پر سمجھتے ہیں۔ ایک پبلک کمنٹ میں (PC-13012) کہا گیا کہ یہ اصطلاحات، اگرچہ توہین آمیز ہیں، "انہیں متشدد یا غیر مہذب کلام سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔" بیرونی ماہرین نے کہا کہ "خصی" کی اصطلاح اکثر ہم جنس پرست سے نفرت کرنے والے کی توہین کرنے یا لوگوں کو بے عقل کہنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ تاہم، زمین پر بوجھ کے حوالے سے دیکھا جائے تو ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جملے کا یہ مفہوم نکلتا ہے کہ مرد بے کار ہیں اور یہاں اس کا استعمال یہ دکھانے کیلئے کیا گیا ہے کہ خواتین مرد شخصیات سے مطمئن نہیں ہیں" کیوں کہ سیاسی احتجاج کے دوران مردوں نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ اس لحاظ سے پبلک کمنٹس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ خاتون "چوہے" یا "گھوڑیاں" جیسے الفاظ کا استعمال کر کے مردوں کی تذلیل نہیں کر رہی ہے بلکہ اس زبان کا استعمال کر کے وہ اپنے ملک کے مردوں کو متحرک کرنا چاہتی ہے۔ ان کمنٹس کے مطابق مرد اس کے دشمن نہیں ہیں: وہ صرف مردوں کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ پوسٹ کیوبا میں جولائی 2021 میں ہوئے ملک بھر میں ہوئے تاریخی احتجاج کی پہلی سالگرہ کے موقع پر شیئر کی گئی تھی جب کیوبا کے لوگ سڑکوں پر نکل کر مظاہر کر رہے تھے جس کی وضاحت بین امریکی کمیشن برائے انسانی حقوق (IACHR) "اپنی شہری آزادیوں کا دعویٰ کرنے اور ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے کیلئے ایک پُرامن احتجاج" کے طور پر کرتی ہے۔ IACHR نے یہ اطلاع دی کہ کیوبا کے لوگ خاص طور پر غذا اور دوائیوں کی کمی کی وجہ سے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی احتجاج کر رہے تھے اور COVID-19 کی عالمی وبا کے اثرات کے بارے میں بتا رہے تھے۔ سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں مثلاً یورپی پارلیمینٹ کے مطابق 11 جولائی کا زبردست احتجاج کیوبا کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑے مظاہروں میں سے تھا۔ ان مظاہروں کی وجہ سے ریاست میں مظاہرین کے خلاف فوری طور پر ردعمل کیا ہے " (بین امریکی کمیشن برائے انسانی حقوق، 2022 سالانہ رپورٹ، پیراگراف 43)۔ جولائی 2021 سے لے کر پورے 2022 تک ریاست کی طرف سے جبر میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہ پوسٹ اس اہم سماجی تناؤ کے تناظر میں شائع کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، اس پوسٹ کو کیوبا کے ایک نوجوان کے پولیس کی وجہ سے ہلاک ہونے کے واقعہ کے چند دنوں بعد شیئر کیا گیا تھا۔ اس حادثے کا کچھ حصہ سوشل میڈیا پر ریکارڈ کیا گیا تھا، اور ویڈیو میں موجود خاتون اس بات کا حوالہ دیتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ "ہم اپنے بیٹوں کے قتل کی مزید اجازت نہیں دیں گے"۔ سوشل میڈیا کے ردعمل کا جائزہ لینے والے بیرونی ماہرین نے دیکھا کہ صارفین حکومت پر تنقید کرنے اور شہریوں سے کارروائی کا مطالبہ کرنے کے ایک طریقے کے طور پر نوجوان کے قتل کو بڑے پیمانے پر حوالے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں: Instagram کی سب سے بڑی پوسٹوں کے کمنٹ سیکشنز میں ہونے والی بات چیت کا دار و مدار آمریت، پولیس کی بے رحمی، اور تماشائیوں کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہونے کے متعلق ایک عام تھیم پر مرکوز ہے۔"
علاقے سے واقف بیرونی ماہرین نے سوشل میڈیا کمپینز کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے جن میں کیوبا کے لوگوں کے سامنے درپیش معاشی، سیاسی اور فلاحی بحران کے بارے میں آگاہی بڑھانے کیلئے #SOSCuba جیسے ہیش ٹیگز کا استعمال کیا گیا ہے۔ 2021 کے مظاہروں کے تناظر میں، حکومت نے تقریباً تمام قسم کے اختلاف اور عوامی تنقید پر سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ IACHR نے کیوبا کی ریاست کی جانب سے ہونے والے جبر کی آٹھ قسموں کو ریکارڈ کیا ہے "(1) طاقت کا استعمال کر کے ڈرانا اور دھمکانا اور لوگوں کی ساخت کو نقصان پہچانے کی مہمات چلانا؛ (2) من مانی گرفتاریاں، بدسلوکی، اور قید خانے میں تشدد؛ (3) مظاہرین کی مجرمانہ کارروائی، غیر منصفانہ عدالتی نظام اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزیاں؛ (4) نئے سماجی مظاہروں کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے ظلم و زبردستی سے جمہوری فورمز پر بندش؛ (5) مسلسل قید، قانونی ضمانت کے پراسس کے بغیر سنوائی، اور سخت سزائیں؛ (6) قانون سازی میں ایسی تجاویز جن کا مقصد حکومت کی مخالفت اور تنقید کو کم کرنا، نگرانی کرنا اور سزا دینا اور آزاد سول سوسائٹی تنظیموں کے اقدامات کو مجرمانہ سرگرمی ثابت کرنا ہے؛ (7) احتجاج میں حصہ لینے پر حراست میں لیے گئے افراد کے رشتہ داروں کو ہراساں کرنا اور ان پر الزامات لگانا؛ اور (8) انٹرنیٹ تک رسائی پر جان بوجھ کر پابندی عائد کرنا" (IACHR، 2022 کی سالانہ رپورٹ، پیراگراف 44)۔ IACHR نے یہ نوٹ کیا کہ اگرچہ جبر کا سلسلہ 2021 کے دوسرے حصے میں شروع ہوا، جو کہ 2022 میں جاری رہا، اور پولیس نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کر کے درجنوں لوگوں کو زخمی کیا (IACHR، 2022 کی سالانہ رپورٹ، پیراگراف 46)۔ 11 جولائی 2022 کو IACHR اور اس کے خصوصی روداد نویس نے 2022 میں ریاست کی جانب سے ہونے والے مسلسل جبر کی مذمت کی جو کہ 2021 کے مظاہروں کے ردعمل میں واقع ہوئے تھے۔
جولائی 2021 کے احتجاج کے ردعمل میں ایسے قانون بھی بنائے گئے جن میں آن لائن اظہار خیال کو زیادہ سے زیادہ مجرمانہ سرگرمی ثابت کیا گیا بشمول نئے تعزیری ضوابط قائم کیے گئے جن میں سوشل میڈیا پر، یا آن لائن یا آف لائن میڈیا کے ذریعے "جھوٹی معلومات" پھیلانا، یا کسی کی "عزت نفس" کو ٹھیس پہنچانا جیسے مبینہ جرائم پر سخت سزائیں عائد کی گئیں۔ یہ تعزیری ضابطے کی موجودہ شرائط کا ضمیمہ ہے جس میں "بدنظمی،" "مزاحمت" اور "توہین" شامل ہیں، اور ان کا استعمال اختلاف رائے کو دبانے اور احتجاج کو مجرمانہ سرگرمی ثابت کرنے کیلئے ہوتا آیا ہے۔ IACHR کے مطابق "نئے متن میں سخت ترین سزائیں نافذ کی گئی ہیں اور بغاوت اور آئینی حکم کے خلاف جرائم جیسے جرائم کی وضاحت کیلئے بڑے پیمانے پر مبہم زبان کا استعمال کیا گیا ہے" (IACHR، 2022 کی سالانہ رپورٹ، پیراگراف 97)۔ جولائی 2021 کے بعد حکومت کی جانب سے کی جانے والی سختی اور قانونی کارروائیوں کے باوجود، علاقے سے واقفیت رکھنے والے بیرونی ماہرین نے حکومت کے خلاف مقامی سطح پر احتجاج کرنے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن انہیں اس طرح کے احتجاج میں شرکت کیلئے نمایاں خطرات درپیش تھے۔
سنسرشپ، مواصلات میں رکاوٹ، اور انٹرنیٹ کی مہنگائی،کے علاوہ کیوبا میں انٹرنیٹ کے تکنیکی انفراسٹرکچر پر حکومت کا قریب قریب مکمل کنٹرول، "کیوبا کے کچھ لوگوں کے علاوہ باقی تمام افراد کو آزادانہ نیوز کی ویب سائٹس اور بلاگز پڑھنے سے روکتا ہے" (IACHR، 2022 کی سالانہ رپورٹ، پیراگراف 69)۔ بورڈ نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ حکومت سے جڑے نیٹ ورکس، جن کی Meta نے مخالف خطرہ کے حوالے سے اپنی فروری 2023 کی رپورٹ میں وضاحت کی ہے، بہت سے انٹرنیٹ پلیٹ فارمز پر کیوبا کی حکومت کیلئے بڑے پیمانے پر حمایت کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان پلیٹ فارمز میں Facebook، Instagram، Telegram، Twitter، YouTube اور کیوبا کا سوشل نیٹ ورک Picta شامل ہیں۔ Meta کے مطابق، کمپنی نے اپنی تحقیق سے یہ معلوم کیا کہ کیوبا کی حکومت اور 363 Facebook اکاؤنٹس، 270 پیجز، 229 گروپس اور Instagram پر 72 اکاؤنٹس رکھنے والے لوگوں کے درمیان تعلق ہے، اور انہوں نے منظم غیر اخلاقی طرز عمل کے حوالے سے Meta کی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔
جولائی 2022 میں Instagram اکاؤنٹ پر ویڈیو پوسٹ کرنے کے سات دن بعد ناگوار بیان کے کلاسیفائر نے اس کی نشاندہی ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کے طور پر کی اور اسے انسانی جائزہ کیلئے بھیج دیا۔ اس کے بعد انسانی ماڈریٹر نے مواد کا جائزہ لیا اور یہ محسوس کیا کہ یہ پوسٹ نفرت انگیز مواد کے متعلق Meta کی پالیسی کے خلاف ہے۔ Meta نے ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کو عوامی شخصیت نہیں مانا ہے۔ اس کیس میں اکاؤنٹ کے کراس چیک کے سٹیٹس کی بنیاد پر بعد میں مواد کو ثانوی جائزہ کیلئے بھیجا گیا تھا۔ 12 جولائی 2022 کو ثانوی جائزہ لینے والے پہلے ماڈریٹر نے اس مواد کو خلاف ورزی کرنے والا پایا۔ دوسرے ماڈریٹر نے 24 فروری 2023 کو مواد کی درجہ بندی خلاف ورزی کرنے والے مواد کے طور پر کی۔ اس کے بعد Meta نے اسی دن یعنی شروعات میں کمپنی کے خودکار سسٹمز کی طرف سے فلیگ کرنے کے تقریباً سات سے زیادہ مہینوں بعد Instagram سے اس مواد کو ہٹا دیا۔ کراس چیک سسٹم کے تحت Meta کے جائزے کی قطار میں کافی کیسز باقی ہونے کی وجہ سے اس کا جائزے لینے میں تاخیر ہوئی۔
جس دن مواد کو ہٹایا گیا اسی دن ویڈیو شیئر کرنے والے صارف نے Meta کے فیصلے کے خلاف اپیل کی۔ کسی ماڈریٹر نے 26 فروری 2023 کو دوبارہ اس مواد کا جائزہ لیا اور مواد کو ہٹانے کے ابتدائی فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس بار مواد کو اضافی جائزہ کیلئے پالیسی یا نفس مضمون کے ماہرین کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ Meta کے مطابق صارف کے اکاؤنٹ پر معیاری سٹرائک لاگو کی گئی تھی۔ تاہم، Meta کے اکاؤنٹ پر پابندی کے پروٹوکولز کے مطابق اکاؤنٹ پر فیچر کے استعمال کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔ اس کے بعد صارف نے اس کیس کے حوالے سے بورڈ سے اپیل کی۔
3۔ اوور سائٹ بورڈ کی اتھارٹی اور دائرۂ کار
جس فرد کا مواد ہٹا دیا گیا ہو اس کی اپیل کے سلسلے میں بورڈ کو Meta کے فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار ہے (چارٹر آرٹیکل 2، سیکشن 1؛ خصوصی قوانین آرٹیکل 3، سیکشن 1)۔
بورڈ چاہے تو Meta کے فیصلے کو برقرار رکھے یا کالعدم کر دے (چارٹر آرٹیکل 3، سیکشن 5) اور کمپنی کو یہ فیصلہ ماننا ہوگا (چارٹر آرٹیکل 4)۔ Meta کو اس طرح کے سیاق و سباق سے ملتے جلتے مواد پر بورڈ کے فیصلے کا اطلاق کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لینا چاہیے (چارٹر آرٹیکل 4)۔ بورڈ کے فیصلے غیر مشروط تجاویز پر مشتمل ہو سکتے ہیں جن کا Meta کو جواب دینا لازمی ہے (چارٹر آرٹیکل 3، سیکشن 4؛ آرٹیکل 4)۔ جب Meta تجاویز پر عمل کرنے کا عزم کرتی ہے، بورڈ ان تجاویز کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے۔
4۔ اتھارٹی کے ذرائع اور رہنمائی
اس کیس میں بورڈ کا تجزیہ مندرجہ ذیل معیارات اور مثالوں پر مشتمل ہے:
I۔ اوور سائٹ بورڈ کے فیصلے
اوور سائٹ بورڈ کے سب سے زیادہ متعلقہ گزشتہ فیصلوں میں درج ذیل شامل ہیں:
- خواتین کے خلاف تشدد کیسز (2023-002-IG-UA؛ 2023-005-IG-UA)
- ایران کا احتجاجی نعرہ کیس (2022-013-FB-UA)
- Knin کارٹون کیس (2022-001-FB-UA)
- جنوبی افریقہ کی گالیاں کیس (2021-011-FB-UA)
- کولمبیا کے احتجاج کیس (2021-010-FB-UA)
- روس میں نوالنی کی حمایت میں ہونے والے احتجاجات کیس (2021-004-FB-UA)
- زوارٹ پیٹ کی عکاسی کیس (2021-002-FB-UA)
- Meta کے کراس چیک پروگرام (PAO-2021-02)
II۔ Meta کے مواد کی پالیسیاں
Instagram کمیونٹی گائیڈ لائنز میں بیان کیا گیا ہے کہ نفرت انگیز کلام پر مشتمل مواد کو ہٹا دیا جائے گا۔ "Instagram کمیونٹی کے دوسروں ممبروں کا احترام کریں" عنوان کے تحت گائیڈ لائنز میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ "نسل، قومیت، قومی نژاد، صنف، جنس، جنسی شناخت، جنسی رجحان، مذہبی وابستگی، معذوری یا بیماریوں کی بنیاد پر تشدد کی ترغیب دینا یا کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔" اس کے بعد Instagram کمیونٹی گائیڈ لائنز میں "نفرت انگیز مواد" کے الفاظ کو Facebook کے نفرت انگیز مواد کے متعلق کمیونٹی کے معیار سے جوڑ دیا گیا۔
نفرت انگیز مواد کا پالیسی کا استدلال ہے کہ نفرت انگیز مواد تحفظ یافتہ خصوصیات بشمول جنس، صنف، اور قومی نژاد کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف براہ راست حملہ ہے۔ Meta اپنے پلیٹ فارم پر نفرت انگیز مواد کی اجازت نہیں دیتی ہے کیوں کہ اس سے "ڈر اور بائیکاٹ کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات آف لائن تشدد کو فروغ مل سکتا ہے"۔ اصول کے تحت ان خصوصیات کی بنیاد پر لوگوں بشمول مردوں کے خلاف "تشدد" یا "غیر مہذب" کلام کی ممانعت ہے۔
نفرت انگیز مواد کے متعلق پالیسی کے درجہ 1 میں "عام جانوروں یا ثقافتی طور پر عقلی اعتبار سے یا جسمانی طور پر کمتر سمجھے جانے والے خصوصی اقسام کے جانوروں سے موازنہ، ان کے بارے میں عام تصورات یا رویے پر مبنی غیر تفصیلی بیانات (تحریری یا بصری شکل) کی شکل میں غیر مہذب تشبیہ والے بیان یا منظر کشی" [...] کے ذریعے نشانہ بنانے والے مواد کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ اس کے علاوہ مواد کے جائزہ کاروں کیلئے پالیسی کے اطلاق کرنے کے طریقے کے متعلق Meta کی اندرونی گائیڈ لائنز میں رویے پر مبنی "تفصیلی" اور "غیر تفصیلی" بیانات کی وضاحت کی گئی ہے اور مثالیں فراہم کی گئی ہے۔ ان گائیڈ لائنز کے تحت، "تفصیلی بیانات" پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں جبکہ "غیر تفصیلی بیانات" خلاف ورزی کرتے ہیں اور انہیں ہٹا دیا جاتا ہے۔ Meta کا کہنا ہے کہ رویہ پر مبنی تفصیلی بیانات اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں، افراد کا حوالہ دیتے ہیں یا براہ راست تجربے کی وضاحت کرتے ہیں۔ Meta کا یہ بھی کہنا ہے کہ نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے تحت کمپنی لوگوں کو تحفظ یافتہ خصوصیت والے گروپس کے متعلق رویے پر مبنی تفصیلی بیانات پر مشتمل مواد پوسٹ کرنے کی اجازت تب دیتی ہے جب بیان میں کسی مخصوص تاریخی واقعے کے بارے میں بات کی جا رہی ہو (مثال کے طور پر اعداد و شمار یا پیٹرنز کا حوالہ دے کر)۔ Meta کے مطابق، رویے پر مبنی غیر تفصیلی بیانات "کسی رویے کو تحفظ یافتہ خاصیت والے تمام لوگوں یا زیادہ تر لوگوں سے واضح طور پر منسوب کرتے ہیں۔"
بورڈ نے Meta کے "اظہار رائے" کے عزم جسے کمپنی "بہت اہم" کے طور پر بیان کرتی ہے اور اس کے "تحفظ" اور "عظمت و وقار" کی اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا ہے۔
III۔ Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں
2011 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی حمایت یافتہ بزنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے رہنما اصول (UNGPs) نے پرائیویٹ بزنسز کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے رضاکارانہ فریم ورک کا قیام کیا۔ 2021 میں Meta نے اپنی انسانی حقوق کی کارپوریٹ پالیسی کا اعلان کیا جس میں اس نے UNGPs کی مطابقت میں انسانی حقوق کا احترام کرنے کے اپنے عزم کا دوبارہ عہد کیا۔
اس کیس میں Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے بارے میں بورڈ کا تجزیہ درج ذیل بین الاقوامی معیارات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے:
- اظہار رائے اور اظہار خیال کی آزادی کے حقوق: شہری اور سیاسی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی معاہدے ( ICCPR) کا آرٹیکل 19 اور 20؛ عمومی تبصرہ نمبر 34، انسانی حقوق کمیٹی، 2011۔ اظہار رائے اور اظہار خیال کی آزادی پر اقوام متحدہ کے خصوصی روداد نویس (UNSR) رپورٹ کرتا ہے: A/HRC/38/35 (2018), A/74/486 (2019), A/76/258 (2021)؛ اور رباط پلان آف ایکشن، اقوام متحدہ کی کمیشنر عالی برائے انسانی حقوق کی رپورٹ: A/HRC/22/17/Add.4 (2013)۔
- پُرامن اسمبلی کی آزادی کا حق: آرٹیکل 21، ICCPR؛ جنرل کمنٹ نمبر 37، انسانی حقوق کمیٹی، 2020۔
- غیر امتیازی سلوک کا حق: ICCPR، آرٹیکل 2، پیرا۔ 1 اور آرٹیکل 26۔
5۔ صارف کی جمع کرائی گئی معلومات
بورڈ سے اپنی اپیل میں مواد کے خالق نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ کیوبا کی "نازک صورتحال" کو اچھی طرح سمجھیں، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ویڈیو میں جولائی 2021 کے احتجاج کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مواد کے خالق نے یہ بھی وضاحت کی کہ ویڈیو میں موجود خاتون کیوبا کے مردوں سے بحران کو "حل کرنے کیلئے کچھ اقدامات کرنے" پر آمادہ کر رہی ہے۔
6۔ Meta کی جمع کرائی گئی معلومات
Meta نے نفرت انگیز مواد کے متعلق کمیونٹی کے معیار کے درجہ 1 کے تحت اس پوسٹ کو ہٹا دیا کیوں کہ اس میں مردوں کا چوہوں سے موازنہ کیا گیا انہیں بزدل، خصی اور انسانی فضلہ لاد کر لے جانے والے گھوڑے کہا گیا تھا۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ چوہے ایسے جانور کی "عام مثال" ہے "جو ثقافتی طور پر عقلی اعتبار سے یا جسمانی طور پر کمتر سمجھے جاتے ہیں۔" اگرچہ کمپنی "فضلہ لاد کر لے جانے والی گھوڑیاں" جملے سے وابستہ کسی مخصوص استعارہ یا ثقافتی روایت سے واقف نہیں ہے، Meta کے مطابق اس جملے سے نفرت انگیز مواد کے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں مردوں کا موازنہ "جانوروں کی گھناؤنی تصاویر سے کیا گیا ہے جس میں شاید وہ انسان کا پیشاب پاخانہ لاد کر لے جا رہے ہیں"۔
Meta نے وضاحت کی کہ "چوہوں اور فضلہ لاد کر لے جانے والے گھوڑوں سے موازنہ کرنا مردوں کی ان کے جنس کی بنیاد پر بے حرمتی ہے۔" Meta نے یہ بھی کہا کہ "اس گفتگو سے مردوں کا بائیکاٹ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ خاموشی اختیار کر سکتے ہیں۔"
بورڈ کے سوالوں کے جواب میں Meta نے یہ کہا کہ کمپنی نے اس مواد پر "پالیسی کا مقصد" کے استثناء کا اطلاق کرنے پر غور کیا۔ جب متعلقہ کمیونٹی کے معیار کا اطلاق کرنے کی وجہ سے کی کوئی سخت پابندی عائد ہوتی ہے جو استدلال اور مقاصد کے مقاصد کے مطابق نہیں ہو تو Meta "پالیسی کا مقصد" استثناء کا اطلاق کرتی ہے۔ تاہم، Meta نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس طرح کے استثناء مناسب نہیں تھے کیوں کہ مواد سے پالیسی کی تحریر اور مقصد دونوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
Meta نے مزید وضاحت کی کہ وہ نفرت انگیز مواد کے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت تحفظ یافتہ خصوصیات پر مبنی تمام گروپس کے ساتھ برابری کا سلوک کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، ایک تحفظ یافتہ خصوصیت پر مبنی پسماندہ گروپ کی جانب سے دوسرے تحفظ یافتہ خصوصیت پر مبنی گروپ کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز مواد کو ہٹا دیا جائے گا۔ Meta نے وضاحت کی کہ اپنی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے تحت کمپنی تمام تحفظ یافتہ خصوصیت والے گروپس کیلئے ایک ہی نقطہ نظر رکھتی ہے، تاکہ عالمی سطح پر ان کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جا سکے اور اس پالیسی کو بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔ Meta اس نقطہ نظر کو "تحفظ یافتہ خصوصیت-غیر یقینی" ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ Meta نے کہا کہ جب مواد کو انسانی ماڈریٹرز کی طرف سے اضافی جائزہ کیلئے ایسکیلیٹ کیا جاتا ہے، تو وہ طاقت کے عدم توازن (یعنی جب نفرت انگیز مواد کا ہدف زیادہ طاقتور گروپ ہوتا ہے) کی بنیاد پر نفرت انگیز مواد یا "پالیسی کا مقصد" استثناء کی اجازت نہیں دیتی ہے "اسی وجہ سے ہم نے تحفظ یافتہ خصوصیت-غیر یقینی پالیسی بنائی ہے"۔ Meta نے کہا کہ وہ "یہ درجہ بندی نہیں کر سکتی ہے اور اسے درجہ بندی نہیں کرنا چاہیے کہ کون سے تحفظ یافتہ خصوصیت والے گروپس دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پسماندہ ہیں۔" اس کے بجائے، Meta اس بات پر توجہ دیتی ہے کہ "آیا لوگوں کے کسی گروپ کے خلاف ان کی تحفظ یافتہ خصوصیات کی بنیاد پر حملہ ہوا ہے۔" Meta نے تسلیم کیا کہ کچھ سٹیک ہولڈرز نے کہا ہے کہ نفرت انگیز مواد کی پالیسی میں "غیر مقتدر" بمقابلہ "صاحب مقدرت" پر تنقید کرنے والے مواد میں فرق ہونا چاہیے، جس مواد میں غیر مقتدر پر تنقید کی جائے گی اسے ہٹا دیا جائے اور جس مواد میں صاحب مقدرت پر تنقید کی جائے گی اسے برقرار رکھا جائے، کیونکہ ہو سکتا ہے اس سے سماجی انصاف کے معاملات مراد ہوں۔ تاہم، Meta نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز میں اس بارے میں کم اتفاق رائے ہے "غیر مقتدر" بمقابلہ "صاحب مقتدر" میں کون سی چیزیں شامل ہیں۔
بورڈ نے یہ بھی سوال کیا کہ ناگوار بیان کا کلاسیفائر مواد کو انسانی جائزہ کیلئے بھیجنے کا فیصلہ کرنے میں سیاق و سباق پر مبنی معلومات، تحفظ یافتہ خصوصیت والے گروپس کے درمیان طاقت کے عدم توازن، اور جس سیاسی ماحول میں پوسٹ کی گئی ہے اس کے بارے میں معلومات کو کیسے زیر غور لاتا ہے۔ جواب میں، Meta نے کہا کہ "کلاسیفائر جس سیاق و سباق کو مدنظر رکھتا ہے وہ پوسٹ کے اندر ہی ہوتا ہے" اور یہ کہ وہ "عالمی واقعات سے متعلق دیگر متعلقہ معلومات کو زیر غور نہیں لاتا ہے۔" اس کیس میں ناگوار بیان کے کلاسیفائر نے اس کی نشاندہی Meta کی پالیسیوں کی ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کے طور پر کی اور اسے انسانی جائزہ کیلئے بھیج دیا۔
بورڈ نے تحریری شکل میں 17 سوالات پوچھے۔ ان سوالات میں کیوبا میں Meta کے مواد کے ماڈریشن سے متعلق مسائل؛ نفرت انگیز مواد کے متعلق کمیونٹی کے معیار پر طاقت کے عدم توازن کا اثر، ساتھ ہی خود کار اور انسانی جائزے کے بعد اس کا نفاذ؛ اور خاص طور پر Meta کے کراس چیک سسٹم بنام ارلی ریسپانس سیکنڈری ریویو (ERSR) میں سیاق و سباق کے لحاظ سے تشخیص کے مواقع کے متعلق بات کی گئی ہے۔ ERSR کراس چیک کی ایک قسم ہے جس میں ان مخصوص پوسٹوں کا اضافی انسانی جائزہ لیا جاتا ہے جن کی ابتدا میں Meta کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والی پوسٹوں کے طور پر نشاندہی کی گئی ہو، لیکن اس دوران مواد کو آن لائن برقرار رکھا جاتا ہے۔ Meta نے تمام 17 سوالوں کے جواب دیے۔
7۔ پبلک کمنٹس
اوور سائٹ بورڈ کو اس کیس سے متعلق 19 پبلک کمنٹس موصول ہوئے۔ ان میں سے نو کمنٹس امریکہ اور کینیڈا سے؛ تین لاطینی امریکہ اور کیریبین سے، پانچ یورپ سے؛ ایک ایشیا پیسیفک سے؛ اور ایک مشرق وسطی اور شمالی افریقہ سے جمع کرائے گئے تھے۔ جمع کرائی گئی معلومات میں مندرجہ ذیل موضوعات پر بات کی گئی ہے: کیوبا میں انسانی حقوق کی صورتحال؛ مواد کے ماڈریشن کیلئے ایسے نقطہ نظر کی اہمیت جس میں احتجاج کے مطالبات میں لسانی، ثقافتی اور سیاسی باریکیوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے؛ کیوبا میں غیر مساوی صنفی طاقت؛ نفرت انگیز مواد اور احتجاج کے مطالبات کا نقطہ انقطاع؛ اور کیوبا میں آن لائن اور آف لائن احتجاج کی تحریک۔
اس کیس کیلئے سبمٹ کیے گئے پبلک کمنٹس پڑھنے کیلئے براہ کرم یہاں کلک کریں۔
8۔ اوور سائٹ بورڈ کا تجزیہ
Meta کی مواد کی پالیسیوں، انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور اقدار کا تجزیہ کر کے بورڈ نے جائزہ لیا کہ آیا اس مواد کو بحال کیا جانا چاہیے۔ بورڈ نے مواد کے نظم و ضبط کے واسطے Meta کے وسیع تر نقطہ نظر کیلئے اس کیس کے مضمرات کا بھی جائزہ لیا۔
بورڈ نے اس اپیل کا انتخاب اس لیے کیا کیوں کہ اس میں اس بات کو اچھی طرح سے سمجھنے کے مواقع ملے ہیں کہ Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی اور اس کے نفاذ کا سخت پابندیوں والے مقامات کے تناظر میں احتجاج کے مطالبات پر کیا اثر ہوتا ہے۔
8.1 Meta کے مواد کی پالیسیوں کی تعمیل
I۔ مواد کے اصول
بورڈ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کیس میں Meta کے کمیونٹی کے معیارات کے مطابق یہ نفرت انگیز مواد نہیں ہے بلکہ رویے پر مبنی ایک تفصیلی بیان ہے، اور اس لیے نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے تحت اس کی اجازت ہے۔ نتیجتاً، مواد کو ہٹانے کا عمل پالیسی کے مطابق نہیں ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ مردوں کا "چوہوں" یا فضلہ لاد کر لے جانے والی "گھوڑیوں" سے موازنہ کرنے والے بیانات کے الفاظ کو سیاق و سباق کے بغیر لغوی معنی کے ساتھ پڑھنے پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے نفرت انگیز مواد کے متعلق Meta کی پالیسی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر پوسٹ کو تفصیل کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد تمام مردوں کو حقیر ثابت کرنا یا تمام مردوں یا مردوں کی اکثریت کے خلاف تشدد بھڑکانا نہیں ہے۔ بورڈ نے یہ محسوس کیا کہ مردوں کیلئے دیے گئے بیانات تفصیلی ہیں اس لحاظ سے کہ وہ جولائی 2021 میں کیوبا میں شروع ہوئے تاریخی مظاہروں کے تناظر میں غیر واضح طور پر کیوبا کے مردوں کے رویے پر توجہ دلانے کے مقصد سے استعمال ہوئے تھے، اور اس کے بعد احتجاج کے مطالبات کے نتیجے میں ریاست کی طرف سے ظلم و ستم 2022 تک جاری رہا۔ مواد کے خالق نے #SOSCuba ہیش ٹیگ کا استعمال کر کے پوسٹ میں ان واقعات کا واضح طور پر حوالہ دیا ہے۔ مواد میں اس بات کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں کے ایک قابل شناخت گروپ نے کیسا کام انجام دیا ہے، نہ کہ اس گروپ کی فطری خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
پبلک کمنٹس اور بورڈ نے جن ماہرین سے مشورہ کیا ہے ان کے مطابق "چوہے" یا "گھوڑیاں" جیسی صفات کیوبا میں مقامی ہسپانوی بول چال کی زبان میں ہونے والی گرما بحث میں بزدل کے طور پر استعمال کی گئی ہیں۔ اس لیے ان اصطلاحات کو لغوی اعتبار سے نہیں پڑھا جانا چاہیے اور یہ اصطلاحات یہ ظاہر نہیں کرتی ہیں کہ مردوں کی فطرت میں منفی خصوصیات ہوتی ہیں کیوں کہ وہ مرد ہیں۔ اس کے بجائے، ان کا مطلب یہ ہے کہ کیوبا کے مردوں نے احتجاج کے تناظر میں حکومت کی طرف سے ہو رہے ظلم و تشدد کا دفاع کرنے کیلئے اپنی طاقت کا صحیح استعمال نہیں کیا۔
یہ پوسٹ جولائی 2021 میں ملکی سطح پر ہوئے احتجاج کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ریاست کی طرف سے مسلسل ہو رہے ظلم و ستم کے تناظر میں شیئر کی گئی تھی۔ بیرونی ماہرین نے مواد کے خالق کی طرف سے استعمال کردہ #SOSCuba ہیش ٹیگ کی اہمیت ظاہر کی جنہیں سوشل نیٹ ورک کمپینز میں کیوبا کے معاشی، سیاسی اور فلاحی بحران کے بارے میں توجہ دلانے کیلئے اختیار کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں خاتون کے انتباہ والے بیان ("ہم اپنے بیٹوں کے قتل کی مزید اجازت نہیں دیں گے") اور "سڑکوں پر نکلنے" کے مطالبے کے علاوہ ہیش ٹیگ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ جولائی 2021 میں شروع ہوئے واقعات کس طرح 2022 تک جاری سماجی اور سیاسی مسائل کیلئے کے حوالے سے متحرک کرنے کیلئے بعد میں کی گئی شہریوں کی کوششوں کیلئے تاریخی واقعات کے ایک اہم نکتے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ لہذا، پوسٹ میں مخصوص تاریخی واقعہ کے تناظر میں ایک خاص گروپ کے لوگوں یعنی کیوبا کے مردوں کے رویے کے بارے میں صارف کی رائے ظاہر کی گئی ہے۔
نتیجتاً پوسٹ کو تفصیل کے ساتھ پڑھنے پر بورڈ کو یہ محسوس ہوا کہ اس پوسٹ کا مقصد مردوں کو حقیر بتانا، ان کے خلاف تشدد بھڑکانا یا کیوبا کے احتجاج کی گفتگو سے ان کا بائیکاٹ کرنا نہیں ہے۔ اس کے برعکس ویڈیو میں موجود خاتون اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے اس بارے میں بات کر رہی ہے کہ احتجاج کے واضح تناظر میں کیوبا کے مردوں کا رویہ کیسا رہا ہے، اور وہ انہیں اس طرح کے تاریخی واقعات میں حصہ لینے پر آمادہ کرنا چاہتی ہے۔ لہذا اس کیس کا مواد تاریخی احتجاج اور اس کے بعد ہونے والے ظلم و ستم سے متعلقہ عوامی مفاد میں ایک اہم مسئلے کے حوالے سے رویے پر مبنی تفصیلی بیان ہے۔
اس کیس کے جواب میں بورڈ کی اقلیت نے Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے غیر یقینی نفاذ پر سوال کیا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جہاں اس طرح کے نفاذ کی وجہ سے تاریخی پسماندہ گروپس کی اظہار رائے کی آزادی ختم ہو سکتی ہے۔ ان بورڈ ممبرز کے مطابق نفرت انگیز مواد کی متناسب پالیسی میں طاقت کے عدم توازن کو مد نظر رکھا جانا چاہیے جہاں اس بات کو مد نظر رکھنے سے کمزور طبقات کی رائے کو دبانے سے بچایا جا سکتا ہے۔
بالآخر، بورڈ اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ یہ پوسٹ براہ راست Meta کی "اظہار رائے" کی بنیادی قدر کے تحت آتی ہے۔ لہذا مواد کو ہٹانے کا عمل Meta کی اقدار کے مطابق نہیں تھا۔ خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز میں جائزہ لی گئی کسی پوسٹ کے متعلق بورڈ نے اسی طرح کا نقطۂ نظر ظاہر کیا تھا، جہاں بورڈ نے Meta نے آخری نتیجے سے اتفاق کیا تھا کہ مواد کو تفصیل سے دیکھا جانا چاہیے اور رویے پر مبنی "تفصیلی" بیان کے بطور تشخیص کی جانی چاہیے۔
II۔ نفاذ کی کارروائی
Meta کے مطابق، جب ناگوار بیان کے کلاسیفائر نے اس کی نشاندہی Meta کی پالیسیوں کی ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے مواد کے طور پر کی تو اسے انسانی جائزہ کیلئے بھیج دیا گیا۔ پہلے انسانی جائزے اور ثانوی جائزے پہلے درجے میں، 12 جولائی 2022 کو دونوں جائزوں میں مواد کو Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے خلاف پایا گیا، اور سات مہینے سے زیادہ وقت گزر جانے کے بعد 24 فروری 2023 کو ثانوی جائزے کے دوسرے حصے میں جب اضافی ماڈریٹر نے مواد کو پالیسی کے خلاف پایا تو پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔ جیسا کہ سیکشن 2 میں بیان کیا گیا ہے Meta کے کراس چیک سسٹم میں کافی کیسز باقی ہونے کی وجہ سے اس کا جائزے لینے میں تاخیر ہوئی۔ بورڈ کی کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے میں Meta نے یہ بتایا ہے کہ کراس چیک سسٹم میں زیر التواء کیسز پر کام چل رہا تھا جس کی وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس معلومات میں جو Meta نے بورڈ کو فراہم کی ہیں، ERSR کی قطار میں کسی مواد کے باقی رہنے کی زیادہ سے زیادہ مدت 222 دن تھی؛ اس کیس میں سات مہینوں سے زیادہ کی تاخیر اس مدت کے برابر ہے۔ Meta کے مطابق کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجویز نمبر 18 کے جواب میں، جہاں یہ کہا گیا ہے کہ Meta کو یہ پروگرام زیر التواء مواد کے ساتھ نہیں چلانا چاہیے، ERSR پروگرام کی قطار میں زیر التواء مواد کا جائزہ 13 جون 2023 کو مکمل کر لیا گیا۔
بورڈ نے دیکھا کہ اس کیس میں سات مہینے کی تاخیر ہوئی ہے۔ بالآخر تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ کراس چیک کے ثانوی جائزے کے حتمی مرحلے کا انتظار کرنے تک مواد پلیٹ فارم پر برقرار رہا۔ بورڈ نے جائزہ لیا اور اس کے مطابق مواد کا پلیٹ فارم پر برقرار رہنا نفرت انگیز مواد کے متعلق کمیونٹی کے معیار کے اطلاق کرنے کا نتیجہ ہے۔ تاہم، یہ نتیجہ Meta کی فہم کے مطابق نہیں تھا کیوں کہ Meta نے مواد کو نقصان دہ سمجھا تھا۔
اس کیس میں نفاذ کے پس منظر کی وجہ سے بھی یہ تشویش پیدا ہوتی ہے کہ ایسے مواد کیلئے جسے اضافی انسانی جائزہ سے استفادہ ہوتا ہے، فیصلوں میں سیاق و سباق پر مبنی معلومات کو کس طرح زیر غور لایا جاتا ہے۔ بورڈ نے پہلے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر نفرت انگیز مواد کے استعمال اور متعلقہ تناظر کی تشخیص کرنا ایک مشکل چیلنج ہے (Knin کارٹون کیس ملاحظہ کریں)۔ بورڈ نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ کچھ حالات میں واضح یا مضمر امتیازی برتاؤ یا کلام کے ذریعے غیر مہذب گفتگو کے نتیجے میں ظلم و تشدد کے واقعات ہوئے ہیں (Knin کارٹونکیس ملاحظہ کریں)۔ مخصوص حالات میں بورڈ نے یہ بھی غور کیا کہ بڑے پیمانے پر نفرت انگیز مواد کی وجہ سے ہونے والے مجموعی نقصانات کا ازالہ کرنے کے مقصد سے مواد کا جائزہ لینا Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق ہو سکتا ہے، خواہ کسی مواد کو علیحدہ طور پر دیکھنے پر وہ تشدد یا امتیازی سلوک کیلئے براہ راست اکسانے والا معلوم نہ ہو (زوارٹ پیٹ کی عکاسی کیس ملاحظہ کریں)۔
انتہائی متعلقہ مسائل جیسے "خواتین کے خلاف تشدد" (خواتین کے خلاف تشدد کیسز دیکھیں)، پر عوامی بحث کو نامناسب طریقے سے دبانے سے بچنے کیلئے، یا جیسے اس کیس میں "تاریخی واقعات پر سیاسی بیان"، Meta نے مستثنیات قائم کی ہیں جیسا کہ رویے پر مبنی تفضیلی بیانات پر کی تھی۔ اس لیے Meta کیلئے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ مواد کے جائزہ کاران رویے پر مبنی تفصیلی اور غیر تفصیلی بیانات کے درمیان فرق کر سکیں تاکہ نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے نفاذ میں غلطیوں (اس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی نہ کرنے والے مواد کو غلطی سے ہٹا دینا) کی شرح میں کمی آئے۔ اسی وجہ سے Meta کیلئے اس بات کو یقینی بنانا اہم ہے کہ اس کے خودکار سسٹمز، بشمول مشین لرننگ کلاسیفائرز جو اس مواد کی شناخت کرتے ہیں جسے Meta "ناگوار بیان" سمجھتی ہے، اور مواد کا جائزہ لینے والے انسانی جائزہ کاران دونوں اپنے تعین اور فیصلوں میں سیاق و سباق پر مبنی معلومات کو زیر غور لاتے ہیں۔ اس بات کا اعادہ کرنا خاص طور پر اس وقت اہم ہوتا ہے جب Meta کے مواد کے جائزہ کاران سیاق و سباق کو زیر غور نہیں لاتے اور کسی پوسٹ کو ہٹا دیتے ہیں جبکہ اس وقت اس کی حفاظت کرنا خاص طور پر ضروری ہوتا ہے، جیسا کہ اس کیس میں ہوا ہے۔ درحقیقت، آپریشنل میکانزم اور پراسیسز جن کا مقصد سیاق و سباق کے لحاظ سے انسائٹس فراہم کرنا ہے خاص طور پر ان ممالک یا خطوں کیلئے اہم ہیں جہاں سخت پابندیاں ہیں، حکومت کی مخالفت اور تنقید کرنے کے خطرات بہت زیادہ ہیں، اور انٹرنیٹ تک رسائی پر سخت پابندیاں ہیں۔ بورڈ نے یہ بھی غور کیا کہ ایسکیلیشن کے مرحلے میں جائزوں کے نتائج بہتر ہونے چاہیے خواہ کیسز مشکل ہوں، کیوں کہ سیاق و سباق کی تشخیص کرنے کیلئے بہترین ٹولز دستیاب ہیں۔ تاہم، اس کیس میں مواد کا جائزہ لینے کیلئے ایسکیلیٹ بھی کیا گیا پھر بھی Meta صحیح فیصلہ کرنے میں ناکام رہی اور Instagram پر پوسٹ کو برقرار رکھا۔
کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کے تحت Meta نے وضاحت کی کہ عام طور پر ERSR کیلئے مارکیٹس ٹیم (جس میں Meta کے فُل ٹائم ملازمین اور فُل ٹائم کانٹریکٹرز دونوں شامل ہیں) سب سے پہلے مواد کا جائزہ لیتی ہے۔ اس ٹیم کے پاس مخصوص جغرافیائی مارکیٹ کے بارے میں سیاق و سباق پر مبنی اضافی معلومات اور زبان کا علم ہے۔ Meta کے مطابق کیوبا کی مارکیٹ "کوئی علیحدہ مارکیٹ نہیں ہے اور اسے [Meta کی] ہسپانوی زبان کی عام ESLA قطاروں (Español Latin) کی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے یعنی کیوبا کے مواد کا جائزہ لینے والے جائزہ کاران عام طور پر ہسپانوی زبان کے مواد کا جائزہ لے رہے ہیں اور خصوصی طور پر ملک کو توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ Meta نے کہا کہ جائزہ لینے کیلئے مخصوص ملک یا مخصوص علاقے کے لحاظ سے قطاروں کے اعتبار سے "دیگر ممالک کو تقسیم" کیا گیا ہے (مثلاً سپین کیلئے سپین کی قطاریں، وینزویلا اور وسطی امریکہ کیلئے VeCAM (وینزویلا، ہونڈوراس، نکاراگوا) کی قطاریں)۔" اس کے بعد ارلی ریسپانس ٹیم (ایسکیلیشنز ٹیم جس میں صرف Meta کے فُل ٹائم ملازمین شامل ہیں) جائزہ لے سکتی ہے اس بات کی تصدیق کرنے کیلئے کہ آیا مواد سے خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ Meta کے مطابق یہ ٹیم پالیسی کے حوالے سے بہت ماہر ہے اور سیاق و سباق پر مبنی اضافی معلومات کو زیر غور لانے کی صلاحیت رکھتی ہے" اور Meta کے "قابل خبر" اور "پالیسی کا مقصد" کے استثناء کا اطلاق بھی کر سکتی ہے۔ تاہم، مواد کا جائزہ لینے کیلئے ارلی ریسپانس ٹیم متعلقہ علاقائی مارکیٹ ٹیم کی طرف سے ترجمے اور سیاق و سباق پر مبنی معلومات پر انحصار کرتی ہے اور وہ زبان یا مقامی مہارت نہیں رکھتی ہے۔
اس کیس میں Meta کے فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے، بورڈ کو اس بارے میں تشویش ہے کہ سیاق و سباق پر مبنی متعلقہ معلومات جیسے کہ پوسٹ کا مکمل مواد، #SOSCuba ہیش ٹیگ، 2021 کے تاریخی احتجاج کی پہلی سالگرہ پر ہونے والے واقعات، ظلم و ستم کا سلسلہ جس کی پوسٹ کو شائع کرنے کے وقت بین الاقوامی تنظیموں نے مذمت کی تھی اور، دیگر چیزوں سمیت پولیس کے ساتھ کسی حادثے میں کیوبا کے نوجوان کی موت کو ہو سکتا ہے کراس چیک ایسکیلیشن پراسس میں مواد کا جائزہ لیتے وقت صحیح طریقے سے زیر غور نہیں لایا گیا ہو۔
جواب میں بورڈ نے کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجویز نمبر 3 کا اعادہ کیا جس میں Meta سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ "وہ اپنے workflow میں بہتری لائے جو Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے وقف ہے، خاص طور پر فیصلہ سازی کے کاموں میں کس طرح بہتر جائزہ لینے کیلئے سیاق و سباق اور زبان کے ماہرین کو شامل کرتا ہے۔" Meta نے اس تجویز پر پوری طرح عمل کرنے کیلئے اتفاق کیا ہے۔ Meta کی 2023 Q1 کی اپ ڈیٹ میں کمپنی نے کہا ہے کہ اس نے ERSR کے مرحلے میں سیاق و سباق اور زبان کی مہارت شامل کرنے کیلئے پہلے ہی مخصوص اقدامات کر لیے ہیں۔ بورڈ کو امید ہے کہ سیاق و سباق اور زبان کی مہارت سے مستقل میں اس طرح کے مواد کو بچانے میں مدد ملے گی جسے یہاں ہٹا دیا گیا ہے۔
8.2 Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی تعمیل
بورڈ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس کیس میں مواد کو ہٹانے کا Meta کا فیصلہ Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق نہیں تھا۔
اظہار رائے کی آزادی (آرٹیکل 19 ICCPR)
ICCPR کے آرٹیکل 19 میں اظہار رائے کا وسیع تحفظ فراہم کیا گیا ہے، بشمول سیاست، عوامی امور، اور انسانی حقوق کے بارے میں، ساتھ ہی سماجی و سیاسی تشویشات کے بارے میں اظہار رائے کو اعلی درجے کا تحفظ حاصل ہے ( جنرل کمنٹ نمبر 34، پیراگراف 11-12)۔ ICCPR کے آرٹیکل 21 میں پُرامن اجتماع کی آزادی - اور سیاسی میسجر پر مشتمل اجتماع کو اعلی درجے کا تحفظ حاصل ہے ( جنرل کمنٹ نمبر 37، پیراگراف) 32 اور 49)۔ کیوبا میں اظہار خیال کی آزادی اور اسمبلی کی آزادی پر انتہائی پابندیاں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ Meta خاص طور پر احتجاج کے اوقات میں ان حقوق کا احترام کرے، ( کولمبیا کے احتجاج کا فیصلہ؛ ایران کا احتجاجی نعرہ فیصلہ؛ جنرل کمنٹ نمبر 37، پیراگراف 31)۔ آرٹیکل 21 میں آن لائن ہونے والی متعلقہ سرگرمیوں کا بھی تحفظ کیا گیا ہے (Ibid.، پیراگراف 6 اور 34)۔ جیسا کہ اظہار خیال کی آزادی کے حق پر اقوام متحدہ کے خصوصی روداد نویس (UNSR) نے بتایا ہے، "انٹرنیٹ خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے سلسلے میں ایک نیا میدان جنگ بن گیا ہے جو خواتین کیلئے اپنی رائے کے اظہار کے مواقع کو بڑھا رہا ہے" (A/76/258 پیرا 4)۔
اس کیس میں جو اظہار خیال زیر بحث ہے اسے "اعلی درجے کا تحفظ" درکار ہے کیوں کہ اس میں ایک خاتون ظلم و ستم کے شکار لوگوں کے حقوق کا دفاع کرنے کیلئے احتجاج کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، جو کہ ایک اہم سیاسی لمحے میں، یعنی جولائی 2021 میں کیوبا کے تاریخی احتجاج کے تقریباً ایک سال بعد واقع ہوا ہے۔ عوام کا غصہ اور کیوبا کی حکومت پر تنقید جاری رہی کیونکہ جولائی 2021 کے احتجاج کے بعد کیوبا کے حکام نے اختلاف رائے کے اظہار پر قانونی اور جسمانی پابندیاں سخت کر دی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ جذبات مقامی واقعات کے جواب میں چھوٹے احتجاج کے طور پر ظاہر ہو سکتے ہیں (جیسے اس کیس میں کیوبا کے نوجوان کی موت)، معیشت، نظم و ضبط اور بنیادی آزادیوں بشمول انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی (مہنگائی اور بنیادی انفراسٹرکچر پر ریاستی کنٹرول کی وجہ سے محدود ہونے کے باوجود) کے بارے میں شہریوں کے تحفظات کے استقامت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ احتجاج "برقرار رہیں گے"۔
جہاں ریاست کی طرف سے اظہار رائے پر پابندیاں عائد ہوتی ہوں انہیں قانونی حیثیت، جائز مقصد اور ضرورت اور تناسب کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے (آرٹیکل 19، پیراگراف 3، ICCPR)۔ ان تقاضوں کو اکثر "تین حصوں کا ٹیسٹ" کہا جاتا ہے۔ بورڈ اس فریم ورک کو Meta کے رضاکارانہ انسانی حقوق کے عزم کی تشریح کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے، جائزے کے تحت مواد کے انفرادی فیصلے اور مواد کی نگرانی کے سلسلے میں Meta کے وسیع تر نقطہ نظر کے بارے اپنی رائے، دونوں کیلئے استعمال کرتا ہے۔ جیسا کہ اظہار رائے کی آزادی پر UNSR نے کہا ہے کہ اگرچہ "کمپنیوں کے پاس حکومتوں کی ذمہ داریاں نہیں ہوتی ہیں، ان کا اثر اس طرح کا ہے جس میں ان سے اپنے صارفین کی اظہار رائے کی آزادی کے حق کے تحفظ کے بارے میں ایک ہی قسم کے سوالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے" ( A/74/486، پیرا 41)۔
I۔ قانونی حیثیت (اصول کی وضاحت اور رسائی)
قانونی حیثیت کے اصول کا تقاضا ہے کہ اظہار خیال کو محدود کرنے والے اصول واضح اور عوامی طور پر قابل رسائی ہونے چاہئیں (جنرل کمنٹ نمبر 34، پیراگراف 25)۔ انسانی حقوق کی کمیٹی نے مزید نوٹ کیا کہ اصولوں میں "اظہار خیال کی آزادی کی ان لوگوں پر پابندی کیلئے آزادانہ اختیار نہیں دیا جا سکتا ہے جن پر [ان] کا الزام ہے" (Ibid)۔ آن لائن تقریر کے تناظر میں، اظہار خیال کی آزادی پر UNSR نے کہا کہ اصول مخصوص اور واضح ہونا چاہیے ( A/HRC/38/35، پیراگراف 46)۔ Meta کے پلیٹ فارمز کا استعمال کرنے والے لوگ اصولوں تک رسائی حاصل کرنے اور سمجھنے کے اہل ہونے چاہئے اور مواد کے جائزہ نگاروں کو ان کے نفاذ کے بارے میں واضح راہنمائی حاصل ہونی چاہئے۔
تحفظ یافتہ خصوصیات کی بنیاد پر گروپس پر حملہ آور ہونے والا مواد Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے تحت ممنوع ہے۔ Meta "پُرتشدد یا غیر مہذب مواد، نقصان دہ دقیانوسی تصورات، احساس کمتری کے بیانات، توہین، نفرت یا برطرف کرنے کے اظہار، لعنت بھیجنے اور بائیکاٹ یا تفریق کرنے کے مطالبات" کو حملہ قرار دیتی ہے۔ غیر مہذب مواد میں ثقافتی طور پر کمزور سمجھے جانے والے جانوروں سے موازنہ، عام تصورات یا رویے پر مبنی غیر تفصیلی بیانات شامل ہیں۔ تاہم اسی پالیسی میں رویے پر مبنی تفصیلی بیانات کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کیس میں Meta کی نفاذ کی غلطی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پالیسی کی زبان اور مواد کا جائزہ لینے والوں کو فراہم کی گئی اندرونی ہدایات واضح نہیں تھی کہ جائزہ لینے والے درست طریقے سے تعین کر سکیں کہ رویے پر مبنی تفصیلی بیان کب دیا گیا ہے۔
Meta کے مطابق، رویے پر مبنی غیر تفصیلی بیانات "کسی رویے کو تحفظ یافتہ خاصیت والے تمام لوگوں یا زیادہ تر لوگوں سے واضح طور پر منسوب کرتے ہیں۔" Meta نے مزید وضاحت کی کہ کمپنی تحفظ یافتہ خصوصیت والے گروپس کے متعلق رویے پر مبنی تفصیلی بیانات کی اجازت تب دیتی ہے جب بیان میں کسی مخصوص تاریخی واقعے کے بارے میں بات کی جا رہی ہو (مثال کے طور پر اعداد و شمار یا پیٹرنز کا حوالہ دے کر)۔ خواتین کے خلاف تشدد کیس میں Meta نے بورڈ کو مطلع کیا کہ "بڑے پیمانے پر مواد کے جائزہ کاروں کیلئے سیاق و سباق کو احتیاط سے پڑھے بغیر رویے پر مبنی تفصیلی اور غیر تفصیلی بیانات میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔" تاہم، جائزہ کاروں کیلئے رہنمائی، جیسا کہ فی الحال تیار کی گئی ہے، مناسب سیاق و سباق کا تجزیہ کرنے کی اہلیت کو نمایاں طور پر محدود کرتی ہے، یہاں تک کہ جب مواد میں ہی واضح اشارے موجود ہوں کہ یہ رویے پر مبنی تفصیلی بیان پر مشتمل ہے۔ درحقیقت، Meta نے کہا کہ چونکہ بڑے پیمانے پر ارادے کا تعین کرنا مشکل ہے، اس لیے اس کی اندرونی گائیڈ لائنز جائزہ کاروں کو تحفظ یافتہ خصوصیت والے گروپس کے بارے میں رویے پر مبنی بیانات کو ڈیفالٹ طور پر ہٹانے کی ہدایت کرتی ہیں جب صارف نے یہ واضح نہیں کیا ہو کہ آیا یہ بیان تفصیلی ہے یا غیر تفصیلی ہے۔
موجودہ کیس میں، پوسٹ کو تفصیل کے ساتھ پڑھنے پر، ویڈیو میں موجود عورت کے تنقیدی نظریے کی واضح عکاسی ہوتی ہے، جب وہ کیوبا میں 2021 کے تاریخی احتجاج اور اس کے بعد 2022 میں جبریہ دور کے مخصوص سیاق و سباق میں کیوبا کے مردوں کا حوالہ دیتی ہے۔ مکمل مواد بشمول ہیش ٹیگ #SOSCuba، اور اشاعت کے وقت عوامی طور پر پیش نظر واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ پوسٹ اصل میں ایک ایسا بیان تھا جس مخصوص تاریخی اور تنازعات کے واقعات کے بارے میں بات کی جا رہی ہے اور ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کو نمونہ سمجھا جا رہا ہے۔
جیسا کہ خواتین کے خلاف تشدد کیس کے فیصلے اور Knin کارٹون کیس کے فیصلے میں بیان کیا گیا ہے، مواد کا جائزہ لینے والوں کیلئے سیاق و سباق کے اشارے کو مدنظر رکھتے ہوئے Meta کی پالیسیوں کا درست طریقے سے اطلاق کرنے کی خاطر مطلوبہ مواقع اور وسائل دستیاب ہونے چاہئے۔ بورڈ کو معلوم ہوا کہ خود پالیسی کی زبان اور مواد کا جائزہ لینے والوں کی دی گئی اندرونی گائیڈ لائنز یہ یقینی بنانے کیلئے واضح نہیں ہیں کہ رویے پر مبنی تفصیلی بیانات کو ہٹانا غلط تھا۔ کمپنی کی مبہم، یا یوں کہا جائے کہ متضاد ہدایات جائزہ کاروں کیلئے قابل اعتماد، مستقل اور متوقع نتیجے تک پہنچنا مشکل بناتی ہے۔ بورڈ خواتین کے خلاف تشدد کیس کے فیصلے کی تجویز نمبر 2 کا اعادہ کرتا ہے جس میں Meta کو تاکید کی گئی ہے کہ "قابلیت کے حوالے سے قواعد پر خصوصی توجہ کے ساتھ اپنے پیمانے پر ماڈریٹرز کی رہنمائی میں اپ ڈیٹ کرے۔"
II۔ جائز مقصد
اظہار رائے پر کسی بھی طرح کی پابندی کے وقت ICCPR میں درج جائز مقاصد میں سے ایک پر عمل ہونا چاہیے، جس میں "دوسروں کے حقوق" شامل ہیں۔ کئی فیصلوں میں، بورڈ کو معلوم ہوا کہ Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی، جس کا مقصد لوگوں کو نفرت انگیز مواد سے ہونے والے نقصان سے بچانا ہے، کا ایک جائز مقصد ہے جسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے معیارات میں تسلیم کیا گیا ہے (مثال کے طور پر Knin کارٹون کیس کا فیصلہ دیکھیں)۔
III۔ ضرورت اور تناسب
ضرورت اور تناسب کا اصول اس بات کو لازمی قرار دیتا ہے کہ اظہار رائے پر کوئی بھی پابندی "اپنے حفاظتی فعل کو حاصل کرنے کیلئے مناسب ہونی چاہیے؛ ایسی ہونی چاہیے کہ اپنے حفاظتی فعل کو حاصل کرنے والی دیگر پابندیوں کے مقابلے کم از کم مداخلت کرتی ہو؛ [اور] زیر تحفظ مفاد کے تناسب میں ہونی چاہیے" (جنرل کمنٹ نمبر 34، پیرا 34)۔ جب بورڈ کو پتہ چلا کہ اس کیس کا مواد نفرت انگیز مواد نہیں ہے اور اسے Instagram پر چھوڑ دینا چاہئے، بورڈ نفرت انگیز مواد ماڈریٹ کرنے کی مشکلات سے لاتعلق نہیں ہے جس میں جانوروں سے موازنہ بھی شامل ہے (Knin کارٹون کیس کا فیصلہ دیکھیں)۔ اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے UNSR نے نوٹ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر "نفرت انگیز اظہار خیال سے نمٹنے کا پیمانہ اور پیچیدگی طویل مدتی چیلنجز پیش کرتی ہے (A/HRC/38/35، پیرا 28)۔ خصوصی نمائندے کی رہنمائی پر انحصار کرتے ہوئے، بورڈ پہلے وضاحت کر چکا ہے کہ اگرچہ یہ پابندیاں عام طور پر حکومت کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں (خاص طور پر اگر فوجداری یا دیوانی سزاؤں کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں)، Meta ایسے مواد کو ماڈریٹ کر سکتی ہے اگر وہ مواد کی ضرورت اور پابندی کی متناسبیت کا مظاہرہ کرے (جنوبی افریقہ کی گالیاں کیس کا فیصلہ دیکھیں)۔ کمپنی کے اصولوں اور بین الاقوامی معیارات کے درمیان عدم مطابقت کی صورت میں، اس خصوصی روداد نویس میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ "پیشگی طور پر پالیسی میں فرق کی معقول وضاحت اس طرح پیش کرے جو تنوع کو واضح کرے"۔( A/74/486، پیرا 48)۔
جیسا کہ پہلے سیکشن 8.1 میں تذکرہ کیا گیا ہے، Meta کی نفرت انگیز مواد کی پالیسی میں کئی مستثنیات ہیں، جن میں سے ایک اس کیس میں واضح طور پر ایک مسئلہ ہے: رویے پر مبنی تفصیلی بیانات۔
Meta نے یہ سمجھا کہ کسی استثناء کا اطلاق نہیں ہوا اس نے مواد کو ہٹا دیا۔ تاہم، بورڈ کو پتہ چلا کہ مواد کو ضرورت سے زیادہ لفظی طور پر پڑھ کر، Meta نے اہم سیاق و سباق کو نظر انداز کیا؛ اپنی پالیسی سے متعلقہ تراش خراش کو نظر انداز کیا؛ اور ایک ایسا فیصلہ اختیار کیا جو نفرت انگیز مواد کی پالیسی کے جائز مقصد کو حاصل کرنے کیلئے نہ تو ضروری تھا اور نہ ہی متناسب تھا۔
اس کیس میں، بورڈ نے اپنے تجزیے میں رباط پلان (OHCHR, A/HRC/22/17/Add.4, 2013) میں درج عوامل پر غور کیا اور ریاستوں کے بین الاقوامی قانون کی جوابدہی اور بطور سوشل میڈیا کمپنی Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے بیچ تفریقات کا لحاظ رکھا۔ اپنے تجزیے میں، بورڈ نے سماجی اور سیاسی تناظر، مصنف، خود مواد اور بیان کی شکل پر توجہ مرکوز کی۔
جیسا کہ اس فیصلے میں پہلے تذکرہ کیا گیا ہے، اس پوسٹ کو کیوبا میں 2021 میں شروع ہونے والے تاریخی احتجاج سے پیدا ہونے والے جبر کی ایک طاقتور لہر کی خصوصیت والے اعلیٰ سماجی تناؤ کے تناظر میں شائع کیا گیا تھا۔ متعلقہ سیاق و سباق کے طور پر بورڈ کیوبا کے ایک واقعے میں ایک نوجوان کی موت کا بھی تذکرہ کرتا ہے جس میں پولیس شامل تھی، کیونکہ اس نے حکومت کے خلاف احتجاج کے مطالبات کو انجام دیا، جیسا کہ اس کیس کے مواد میں ہوا۔ پوسٹ میں، ایک عورت نے اس بارے میں بیان جاری کیا کہ، اس کی رائے میں، احتجاج کے دوران کیوبا کے مردوں کا رویہ کیسا رہا ہے اور خواتین سے مطالبہ کیا کہ وہ "اپنے بیٹوں" کی جانوں کے حفاظت کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ پوسٹ میں احتجاج کے واضح حوالے اور #SOSCuba ہیش ٹیگ شامل کئے گئے تھے۔ مکمل طور پر پوسٹ کا لسانی تجزیہ کرنے اور جس سیاق و سباق میں اسے شائع کیا گیا تھا اس سے اس کے معنی اور دائرہ کار کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ پوسٹ میں نہ ہی تمام مردوں اور نہ ہی مردوں کی اکثریت سے کسی رویے کو منسوب کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی یہ کسی تحفظ یافتہ خصوصیت والے گروپ کے تمام یا زیادہ تر لوگوں کو مہذب بنانے کا ارادہ رکھتی ہے نہ ہی اس میں تعاون کرتی ہے۔ یہ پوسٹ مردوں کے خلاف کوئی تشدد پیدا نہیں کرتی نہ ہی یہ انہیں عوامی گفتگو سے خارج کرتی ہے۔ اس کے برعکس، بڑھتے ہوئے سماجی تناؤ کے دوران، اس میں سخت زبان کا استعمال کر کے کیوبا کے مردوں کو احتجاج میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کیلئے یہ کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔ تاہم، اس حقیقت کے باوجود کہ یہ مواد کسی طرح نقصان کا سبب نہیں بنتا، اس کے ہٹائے جانے سے ویڈیو میں موجود خاتون پر، اس کو شیئر کرنے والے صارف پر اور بالآخر سیاسی بحث پر نمایاں منفی اثر پڑتا ہے۔
دراصل، Meta کے پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے سے ویڈیو میں موجود اس خاتون پر غیر متناسب اثر پڑنے کا امکان ہے جس نے کیوبا میں موجود بہت سی مشکلات کا سامنا کیا، اس میں انٹرنیٹ تک رسائی اور حکومت کے خلاف بولنے کے خطرات بھی شامل تھے۔ مزید برآں، ہٹائے جانے کے سبب صارف یعنی نیوز پلیٹ فارم پر ممکنہ طور پر مزید بوجھ آیا ہے، جسے کیوبا میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں معلومات عام کرنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا پڑا تھا۔ پوسٹ ہٹائے جانے کے بعد Meta نے صارف کے اکاؤنٹ پر جس اسٹرائک کا اطلاق کیا وہ صورت حال کو مزید خراب کر سکتی ہے، اور ممکنہ طور پر اکاؤنٹ کی معطلی کا سبب سکتا ہے۔ آخر کار، بورڈ کو یہ بھی معلوم ہوا کہ پوسٹ عوامی مفاد میں ہے اور اس میں احتجاج کا مطالبہ کیا گیا ہے جو پرجوش ہے، لیکن یہ تشدد کی حمایت نہیں کرتی ہے۔ لہذا، پوسٹ کو ہٹائے جانے سے عوامی بحث پر بھی اثر پڑتا ہے جہاں یہ پہلے سے ہی بہت محدود ہے۔
اظہار خیال کی آزادی پر UNSR نے نفرت انگیز مواد کے حوالے سے کہا کہ "سیاق و سباق کی تشخیص کی وجہ سے بعض حالات میں استثناء فراہم کرنے کا کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر جب سیاسی مواد کے طور پر مواد کا تحفظ لازمی ہوتا ہے" (A/74/486، پیرا 47(d))۔
بورڈ نے بار بار اس دعوے کی اہمیت کی تصدیق کی ہے۔ کولمبیا کے احتجاج کیس کے فیصلے میں، بورڈ نے احتجاج کے سیاق و سباق میں ہم جنس پرست گالی پر مشتمل مواد کی سیاسی مطابقت اور عوامی دلچسپی کا تجزیہ کرنے کے چیلنجوں کا جائزہ لیا۔ ایران کا احتجاجی نعرہ کیس کے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ "Meta کی موجودہ صورتحال ایران میں کسی تاریخی موقع پر حد سے زیادہ سیاسی اظہار کے ہٹائے جانے کا باعث بن رہی ہے اور انسانی حقوق کیلئے ممکنہ طور پر زیادہ خطرات پیدا کرتی ہے بنسبت اس کے جتنا کہ وہ انہیں کم کرتی ہے۔" آخر میں، مواد کے اندرونی سیاق و سباق کی علامتوں سے آگے، روس میں نوالنی کی حمایت میں ہونے والے احتجاج کیس کے فیصلے میں، بورڈ نے بیرونی سیاق و سباق کی اہمیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "ضرورت اور تناسب کا تجزیہ کرنے میں سیاق و سباق کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ۔ ۔ Facebook کو عام طور پر روس میں اظہار خیال کی آزادی کے ماحول، اور خاص طور پر مخالفین اور ان کے سپورٹرز بشمول جنوری کے احتجاج کے تناظر کے خلاف حکومت کے غلط معلومات کی کمپینز پر غور کرنا چاہیے تھا۔" حالانکہ یہ کیس Meta کی غنڈہ گردی اور ایذا رسانی کی پالیسی سے متعلق ہے، "اظہار خیال کی آزادی کے ماحول" اور احتجاج کے مشاہدات نفرت انگیز مواد سے متعلق اس کیس پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔
بورڈ کیوبا میں اظہار رائے کی آزادی پر نمایاں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے آنے والے جانی اور قانونی خطرات کو بھی بیان کرتا ہے (سیکشن 2)۔ یہ خطرات، کیوبا میں ڈیٹا اور انٹرنیٹ تک رسائی کی زیادہ قیمت کے ساتھ، ملک میں اختلافی آوازوں سے مواد کو ماڈریٹ کرنے کے خطرات کو بڑھاتے ہیں۔ ایک عوامی کمنٹ (PC-13017) میں "اختلاف رائے اور احتجاج کی تنظیم کے محدود طریقوں کی حفاظت" کی اہمیت کو اجاگر کیا۔"
بالآخر، بورڈ نے IACHR کی 2022 کی رپورٹ پر غور کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو "سماجی احتجاج کے تناظر میں ریاستی ایجنٹوں کی طرف سے خواتین کے خلاف ظلم، سیاسی تشدد، اور جنسی حملوں سے آگاہ کیا گیا تھا، اسے خواتین کیلئے انسانی حقوق کے کارکنان اور محافظوں کے معاملے میں اور بھی زیادہ سنگین ہونے کی رپورٹ کی گئی ہے۔ (IACHR، 2022 سالانہ رپورٹ ، پیرا 166)۔ کیوبا کے متعلق آزاد میڈیا کوریج میں بھی خواتین پر جولائی 2021 کے احتجاج پر حکومت کے ردعمل کے اثرات کو نمایاں کیا ہے، کچھ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے یہ دلیل پیش کی کہ "کیوبا کے تناظر میں جنسی تشدد کی واضح تصریح حکومت کی طرف سے کی گئی ہے، اور یہ واضح طور پر سیاسی وجوہات کی بناء پر اپنی آزادی سے محروم خواتین کی فہرست کی تازہ کاری سے ظاہر ہوتا ہے۔"
بورڈ Meta سے مطالبہ کرتا ہے کہ جغرافیائی سیاق و سباق والے مواد، جہاں سیاسی اظہار اور پُر امن اجتماع کو پہلے سے دبایا جاتا رہا ہو یا تشدد کا جواب تشدد سے دیا جاتا ہو، کا جائزہ لیتے وقت زیادہ احتیاط سے کام لے۔ کیوبا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز حکومت کی تنقید اور سماجی سرگرمی کیلئے محدود لیکن اہم چینل پیش کرتے ہیں ان حکام کے سامنے جنہوں نے بنیادی شہری آزادیوں اور آف لائن شہری موبیلائزیشن کے مواقع کو محدود کر رکھا ہے۔
حالانکہ Meta کا کہنا ہے کہ اس نے کیوبا میں جولائی 2021 کے احتجاج کے دوران صارفین کیلئے خطرات کو کم کرنے کی خاطر کئی اقدامات کیے، اور پھر نومبر 2021 کے بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے دوران، اس نے کیس کا مواد پوسٹ کیے جانے کے وقت کسی بھی طرح کے خطرے سے متعلق اقدامات کا انکشاف نہیں کیا۔ مستقبل کے مواقع کی تیاری کیلئے جہاں احتجاج کے مطالبات ایسے مقامات سے آنے کی توقع ہو جہاں عوامی حکام کی طرف سے احتجاج کا جواب تشدد یا تشدد کی دھمکیوں سے دیا جائے گا، اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ اس طرح کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے اور درست طریقے سے اور سیاق و سباق کے مطابق نافذ کیا جائے، Meta کو یہ غور کرنا چاہئے کہ کیسے سیاسی سباق اس کی پالیسی اور نفاذ کے انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بند شہری مقامات سے آنے والے مواد کو ماڈریٹ کرنے کے بارے میں ان خدشات کو دور کرنے کیلئے، کیوبا کے سیاق و سباق اور یہاں زیر غور مواد سے ان کی مطابقت کو نوٹ کرتے ہوئے بورڈ نے کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجاویز نمبر 1 اور 8 کو دوہرایا۔ تجویز نمبر 1 میں Meta کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق اظہار کے تحفظ کیلئے حد سے زیادہ نفاذ کی روک تھام کا فہرست پر مبنی پروگرام بنائے۔ حد سے زیادہ نفاذ کی روک تھام کی فہرستیں ان صارفین کو متحمل کرتی ہیں جو اپنی پوسٹوں کے انسانی جائزے کے اضافی مواقع کے ساتھ شامل ہوتے ہیں جن کی شناخت ابتدائی طور پر Meta کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والی کے طور پر کی جاتی ہے، جس کا مقصد حد سے زیادہ نفاذ یا غلط مثبتات سے بچنا ہے۔ تجویز نمبر 8 میں کہا گیا ہے کہ Meta کو یہ لسٹیں بنانے کیلئے مقامی افراد کی رائے شامل کرے۔ Meta نے دونوں تجاویز کو جزوی طور پر نافذ کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس پر عمل درآمد فی الحال جاری ہے۔
9۔ اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ
اوور سائٹ بورڈ نے Meta کے پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے کو کالعدم کر دیا ہے۔
10۔ تجاویز
اوور سائٹ بورڈ نے دیگر کیسز میں جاری کی گئی گزشتہ تجاویز کی مناسبت سے اس فیصلے میں نئی تجاویز جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مواد کا جائزہ لینے اور ہٹائے جانے کے وقت مواد کے تخلیق کار کے اکاؤنٹ کے کراس چیک سٹیٹس سے آگاہ ہے۔ اس کے باوجود، بورڈ کو کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے سے اب بھی تجاویز نمبر 1 اور نمبر 8 حاصل ہوئیں، جن میں بورڈ Meta کو کراس چیک لسٹس کو ایک ساتھ رکھنے کی ہدایت فراہم کرتا ہے، جو کیوبا کے تناظر میں اس کیس میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بورڈ کا خیال ہے کہ کمپنی کو اس رہنمائی پر قریب سے عمل کرنا چاہیے تاکہ اہمیت کا حامل سیاسی بیان شیئر کرنے والے دیگر اکاؤنٹس، جیسے کہ اس کیس میں، کو لسٹ میں شامل کیا جائے تاکہ مواد کے اضافی جائزے سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ لسٹ میں پہلے سے شامل اکاؤنٹس کیلئے، بورڈ کراس چیک پالیسی کے متعلق مشاورتی رائے کی تجویز نمبر 3 کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے، جس کا مقصد لسٹ میں موجود اکاؤنٹس کیلئے بہتر مواد کے جائزے کی درستگی کو بہتر بنانا ہے۔ مواد کے جائزے کی اضافی تہوں کیلئے موقع کو، اور مواد کے ماڈریشن کے فیصلوں میں سیاق و سباق کے متعلق معلومات کے شامل کیے جانے کے امکان کو بڑھانا، لسٹ میں شامل کرنے کیلئے مزید اہل اکاؤنٹس تک – انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے – خاص طور پر بند شہری مقامات میں اہم ہے، جیسا کہ اس کیس میں تسلیم کیا گیا ہے۔
- تجویز نمبر 1، جس میں Meta کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق اظہار کے تحفظ کیلئے حد سے زیادہ نفاذ کی روک تھام کا فہرست پر مبنی پروگرام بنائے۔ یہ سسٹم اس سسٹم سے مختلف ہونا چاہئے جو اس اظہار کا تحفظ کرتا ہے جسے Meta کاروباری ترجیح کے طور پر دیکھتی ہے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ Meta انسانی حقوق کے محافظین کے علاوہ، دوسروں کے پوسٹ کئے گئے مواد کا اضافی جائزہ فراہم کرے۔
- تجویز نمبر 8، جس میں کہا گیا ہے کہ حد سے زیادہ نفاذ سے بچاؤ کی لسٹس بنانے کیلئے Meta خاص عملے کا استعمال کرے جس میں مقامی افراد کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے۔
- تجویز نمبر 3، اس میں Meta سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس کا workflow جو Meta کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے وقف ہے اس میں بہتری لائے، خاص طور پر فیصلہ سازی کے کاموں میں کس طرح بہتر جائزہ لینے کیلئے سیاق و سباق اور زبان کے ماہرین کو شامل کرتی ہے۔
اوور سائٹ بورڈ مزید اس بات کا دوہراتا ہے کہ Meta کو اس پورے فیصلے اور پچھلے فیصلوں میں فراہم کی گئی رہنمائی کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ مواد ماڈریشن کے فیصلوں میں سیاق و سباق کو مناسب طور پر شامل کیا گیا ہے اور پالیسیاں صارفین اور مواد کا جائزہ لینے والے دونوں کیلئے کافی واضح ہیں (خواتین کے خلاف تشدد کیسز)۔ اس میں مواد کا جائزہ لینے والوں کو فراہم کردہ داخلی رہنمائی کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے جہاں کمپنی کیلئے کسی بھی وضاحت کی کمی، خلاء یا عدم مطابقت کی کمی کو دور کرنے سے متعلقہ ہے جس کے نتیجے میں نفاذ کی غلطی ہو سکتی ہے، جیسا کہ اس کیس میں ہوا۔
- خواتین کے خلاف تشدد کیس کی تجویز نمبر 2، جس میں Meta سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر اپنے ماڈریٹرز کو اہلیت کے اصولوں پر خصوصی توجہ دلانے کیلئے اپنی رہنمائی اپ ڈیٹ کرے، کیوں کہ موجودہ رہنمائی عملی طور پر ماڈریٹرز کیلئے صحیح فیصلے کرنا ناممکن بنا رہی ہے۔
*طریقۂ کار کا نوٹ:
اوور سائٹ بورڈ کے فیصلے پانچ ممبروں کی پینلز تیار کرتی ہیں اور اسے بورڈ کی اکثریت منظور کرتی ہے۔ ضروری نہیں کہ بورڈ کے فیصلے تمام ممبرز کے ذاتی خیالات کی نمائندگی کرتے ہوں۔
اس کیس کے فیصلے کیلئے بورڈ کی جانب سے آزاد تحقیق کا آغاز کیا گیا تھا۔ بورڈ کو گوتھینبرگ یونیورسٹی میں صدر دفتر رکھنے والے ایک خود مختار تحقیقی ادارہ کی اعانت حاصل تھی، جس میں چھ براعظموں کے 50 سے زائد سماجی سائنس دانوں کی ٹیم کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک سے 3,200 سے زائد ماہرین شامل ہیں۔ Memetica، ایک ایسی تنظیم ہے جو سوشل میڈیا کے رجحانات پر اوپن سورس ریسرچ میں مشغول ہے، نے بھی تجزیہ فراہم کیا۔ لسانی مہارت Lionbridge Technologies, LLC کمپنی نے فراہم کی ہے، جس کے ماہرین 350 سے زیادہ زبانوں میں رواں گفتار ہیں اور دنیا بھر کے 5,000 شہروں سے کام کرتے ہیں۔
Voltar para Decisões de Casos e Pareceres Consultivos sobre Políticas