Renversé
میانمار بوٹ
11 août 2021
اوور سائٹ بورڈ نے نفرت انگیز مواد سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت برمیز پوسٹ کو ہٹانے کے Facebook کے فیصلے کو بدل دیا ہے۔
کیس کا خلاصہ
اوور سائٹ بورڈ نے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت برمیز پوسٹ کو ہٹانے کے Facebook کے فیصلے کو بدل دیا ہے۔ بورڈ نے پایا کہ اس پوسٹ کے ذریعے چینی لوگوں کو نہیں، بلکہ چینی ریاست کو ہدف بنایا گیا تھا۔ خصوصی طور پر، اسے میانمار میں چینی حکومت کے کردار پر سیاسی مباحثہ کے حصہ کے طور پر ہانگ کانگ میں چینی حکومت کی پالیسی کے حوالے سے تحقیر آمیز لہجے میں استعمال کیا گیا تھا۔
کیس کا تعارف
اپریل 2021 میں، میانمار میں ظاہر ہونے والے ایک Facebook صارف نے اپنی ٹائم لائن پر برمیز میں پوسٹ کیا تھا۔ اس پوسٹ میں 1 فروری، 2021 کو میانمار میں ہوئی بغاوت کے بعد میانمار کی فوج کو مالی امداد محدود کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ٹیکس سے ہونے والی آمدنی بغاوت کی مخالفت کرنے والے قانون سازوں کے گروپ، Pyidaungsu Hlutaw کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی (CRPH) کو دے دی جائے۔ اس پوسٹ کو تقریباً نصف ملین ویوز موصول ہوئے اور کسی بھی Facebook صارف نے اس کی رپورٹ نہیں کی۔
Facebook نے صارف کی پوسٹ کے مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے حصے کا ترجمہ اس طرح کیا “Hong Kong people, because the fucking Chinese tortured them, changed their banking to UK, and now (the Chinese) they cannot touch them.” (ہانگ کانگ کے لوگوں نے، کیوں کہ فکنگ چینیوں نے ان پر تشدد کیا تھا، اپنی بینکنگ برطانیہ میں تبدیل کر لی، اور اب (چینی) وہ انہیں چھو بھی نہیں سکتے۔) Facebook نے اپنے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت اس پوسٹ کو ہٹا دیا۔ یہ کسی شخص یا لوگوں کے گروپ کو ’’بے عزت کرنے کے ارادے سے ناشائستہ الفاظ یا جملوں‘‘ کے ساتھ نسل، قومیت یا قومی نژاد کی بنیاد پر ہدف بنانے والے مواد کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
مواد کا جائزہ لینے والے چاروں افراد جنہوں نے اس پوسٹ کی جانچ کی تھی، اس بات پر متفق تھے کہ اس نے Facebook کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔ بورڈ سے کی جانے والی اپنی اپیل میں صارف نے کہا کہ انہوں نے یہ مواد ’’سفاک فوجی حکومت کو روکنے‘‘ کیلئے پوسٹ کیا تھا۔
کلیدی نتائج
یہ کیس نفرت انگیز بیان سے متعلق پالیسیوں کو نافذ کرتے وقت سیاق و سباق کو زیر غور لانے کے ساتھ ساتھ سیاسی بیان کی حفاظت کرنے کی اہمیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ یہ میانمار میں فروری 2021 کی بغاوت اور اس ملک میں مواصلاتی ذریعہ کے طور پر Facebook کے کلیدی کردار کے مدنظر، خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے۔
پوسٹ میں برمیز جملہ ’’$တရုတ်‘‘ کا استعمال کیا گیا تھا جس کا ترجمہ Facebook نے “fucking Chinese” (فکنگ چینی) (یا ’’sout ta-yote‘‘) کے طور پر کیا تھا۔ Facebook کے مطابق، لفظ ’’ta-yote‘‘ کو ’’چین ملک اور چینی لوگوں کے درمیان ثقافتی اور لسانی اعتبار سے شناخت/معانی کے متراکب کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔‘‘ Facebook نے کہا کہ اس لفظ کی نوعیت اور اس حقیقت کے مدنظر کہ صارف نے ’’واضح طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ اس لفظ سے اس کی مراد چین کے ملک/حکومت سے ہے،‘‘ لہٰذا اس نے طے کیا کہ ’’صارف کی مراد، کم از کم، چین کے لوگوں سے ہے۔‘‘ اس طرح، Facebook نے اپنے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت اس پوسٹ کو ہٹا دیا۔
چونکہ برمیز میں یہی لفظ ریاست اور اس ریاست کے لوگوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا سیاق و سباق مطلوبہ معنی کو سمجھنے کی کلید ہے۔ متعدد عوامل نے بورڈ کو باور کرایا کہ صارف چینی عوام کو نہیں، بلکہ چینی ریاست کو ہدف بنا رہا تھا۔
پوسٹ کا وہ حصہ جس نے مبینہ طور پر Facebook کے اصول کی خلاف ورزی کی، اس نے ہانگ کانگ میں چین کی مالی پالیسیوں کا حوالہ “torture” (تشدد) یا “persecution,” (ظلم) کے طور پر دیا، نہ کہ میانمار میں افراد یا چینی لوگوں کی کارروائیوں کے طور پر۔ بورڈ کے دونوں مترجمین نے کہا کہ اس کیس میں، لفظ ’’ta-yote‘‘ سے مراد ریاست ہے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ اس حوالہ میں کسی ابہام کا امکان تو نہیں ہے، تو مترجمین نے کسی شک کا اظہار نہیں کیا۔ بورڈ کے مترجمین نے یہ بھی کہا کہ اس پوسٹ میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کا استعمال عام طور پر میانمار کی حکومت اور چینی سفارت خانہ کے ذریعے ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، نصف ملین لوگوں نے اس پوسٹ کو دیکھا اور 6,000 سے زیادہ لوگوں نے اسے شیئر کیا، لیکن کسی بھی صارف نے اس کی رپورٹ نہیں کی۔ پبلک کمنٹس میں بھی پوسٹ کے مجموعی لہجہ کو سیاسی مباحثہ بتایا گیا۔
یہ دیکھتے ہوئے کہ اس پوسٹ میں لوگوں کو نسل، قومیت، یا قومی نژاد کی بنیاد پر ہدف نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ اس کا نشانہ ریاست تھی، بورڈ نے پایا کہ اس نے Facebook کے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی خلاف ورزی نہیں کی۔
اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ
اس پوسٹ کو بحال کرنے کا تقاضا کرتے ہوئے، اوور سائٹ بورڈ Facebook کے مواد کو ہٹانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتا ہے۔
پالیسی کے مشاورتی بیان میں، بورڈ تجویز کرتا ہے کہ Facebook یہ کرے:
- یقینی بنائے کہ اس کے اندرونی نفاذ کے معیارات اس زبان میں دستیاب ہوں جس میں مواد کے ماڈریٹرز مواد کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ترجیح دینا ضروری ہو تو Facebook کو سب سے پہلے ان سیاق و سباق پر توجہ دینی چاہیے جہاں انسانی حقوق کو درپیش خطرات زیادہ شدید ہوں۔
*کیس کے خلاصے میں کیس کا عمومی جائزہ فراہم کیا جاتا ہے اور اس میں نظیری قدر نہیں ہوتی ہے۔
کیس کا مکمل فیصلہ
1. فیصلے کا خلاصہ
اوور سائٹ بورڈ نے Facebook کے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت مواد کو ہٹانے کے اس کے فیصلے کو بدل دیا ہے۔ بورڈ نے پایا کہ یہ پوسٹ نفرت انگیز بیان والی نہیں تھی۔
2۔ کیس کی تفصیل
اپریل 2021 میں، میانمار میں ظاہر ہونے والے ایک Facebook صارف نے اپنی ٹائم لائن پر برمیز میں پوسٹ کیا تھا۔ اس پوسٹ میں 1 فروری، 2021 کو میانمار میں ہوئی بغاوت کے بعد میانمار کی فوج کو مالی امداد محدود کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ٹیکس سے ہونے والی آمدنی بغاوت کی مخالفت کرنے والے قانون سازوں کے گروپ، Pyidaungsu Hlutaw کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی (CRPH) کو دے دی جائے۔ پوسٹ کو تقریباً 500,000 بار دیکھا گیا، تقریباً 6,000 ردعمل موصول ہوئے اور تقریباً 6,000 بار شیئر کیا گیا۔ کسی بھی Facebook صارف نے پوسٹ کی رپورٹ نہیں کی۔
Facebook نے صارف کی پوسٹ کے مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے والے حصے کا ترجمہ اس طرح کیا “Hong Kong people, because the fucking Chinese tortured them, changed their banking to UK, and now (the Chinese) they cannot touch them.” (ہانگ کانگ کے لوگوں نے، کیوں کہ فکنگ چینیوں نے ان پر تشدد کیا تھا، اپنی بینکنگ برطانیہ میں تبدیل کر لی، اور اب (چینی) وہ انہیں چھو بھی نہیں سکتے۔) Facebook نے اس پوسٹ کو اپنے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت اسے پوسٹ کرنے کے اگلے دن ’’ٹائر 2‘‘ نفرت انگیز بیان کے طور پر ہٹا دیا تھا۔ یہ کسی شخص یا لوگوں کے گروپ کو ’’بے عزت کرنے کے ارادے سے ناشائستہ الفاظ یا جملوں‘‘ کے ساتھ نسل، قومیت یا قومی نژاد کی بنیاد پر ہدف بنانے والے مواد کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
Facebook کے مطابق، پوسٹ کا ایک ری شیئر ’’نمونے کے حصہ کے طور پر خودکار طریقے سے منتخب کیا گیا اور انسانی جائزہ لینے والے کو بھیج دیا گیا تاکہ اسے درجہ بندی کرنے والی ٹریننگ کیلئے استعمال کیا جائے۔‘‘ اس میں Facebook کے ذریعے خلاف ورزی کرنے والے اور غیر خلاف ورزی والے مواد کی مثالوں کے ڈیٹا سیٹ تیار کرنا شامل ہے تاکہ اس بات کی پیشن گوئی کرنے کیلئے کہ آیا مواد نے Facebook کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی ہے اس کی خودکار سراغ رسانی اور نفاذ کی پراسسز کو تیار کیا جا سکے۔ جائزہ لینے والے کی رائے ہے کہ شیئر کی گئی پوسٹ نے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی خلاف ورزی کی تھی۔ پراسس کا مقصد ویسے تو درجہ بندی کرنے والے کو ٹرین کرنے کیلئے مواد کے سیٹ تیار کرنا تھا، لیکن جب یہ پتہ چلا کہ شیئر کردہ پوسٹ خلاف ورزی کرنے والی ہے تو اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔
چونکہ شیئر کردہ پوسٹ میں Facebook کے اصول کی خلاف ورزی پائی گئی تھی، لہٰذا ’’ایڈمنسٹریٹو ایکشن بوٹ‘‘ نے جائزہ کیلئے خودکار طریقے سے اصلی پوسٹ کی شناخت کر لی۔ Facebook نے وضاحت کی کہ ایڈمنسٹریٹو ایکشن بوٹ Facebook کا اندرونی اکاؤنٹ ہے جو مواد کا کوئی جائزہ نہیں لیتا بلکہ ’’انسانوں کے فیصلے یا خُود کار عمل کی بنیاد پر پورے نفاذ کے سسٹم میں مختلف قسم کی کارروائیاں‘‘ انجام دیتا ہے۔ اس کے بعد دو انسانی جائزہ لینے والوں نے اصلی پوسٹ کا تجزیہ کیا، اور دونوں نے طے کیا کہ یہ ’’ٹائر 2‘‘ نفرت انگیز بیان تھا۔ مواد کو ہٹا دیا گیا تھا۔ صارف نے Facebook سے ہٹائے جانے کی اپیل کی، جہاں چوتھے انسانی جائزہ لینے والے نے اس ہٹائے جانے کو برقرار رکھا۔ Facebook کے مطابق، ’’اس کیس میں مواد کا جائزہ لینے والے تمام افراد Facebook کی مواد کا جائزہ لینے والی برمیز ٹیم کے ممبرز تھے۔‘‘ پھر صارف نے اپنی اپیل اوور سائٹ بورڈ کو جمع کرائی۔
3۔ اتھارٹی اور سکوپ
جس صارف کی پوسٹ کو ہٹا دیا گیا تھا اس کی اپیل کے سلسلے میں بورڈ کو Facebook کے فیصلے کا جائزہ لینے کا اختیار ہے (چارٹر آرٹیکل 2 سیکشن 1؛ خصوصی قوانین آرٹیکل 2، سیکشن 2.1)۔ بورڈ اس فیصلے کو برقرار رکھ سکتا ہے یا اسے واپس لے سکتا ہے (چارٹر آرٹیکل 3، سیکشن 5)۔ بورڈ کے فیصلے واجب ہیں اور اس میں سفارشات کے ساتھ پالیسی کی مشاورت کے بیانات شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ تجاویز غیر واجب ہیں لیکن Facebook کو ان پر ردعمل دینا چاہیے (چارٹر آرٹیکل 3 سیکشن 4)۔ بورڈ تنازعات کو شفاف اور اصولی انداز میں دور کرنے کیلئے شکایت کرنے کا ایک آزاد طریق کار ہے۔
4. متعلقہ معیارات
اوور سائٹ بورڈ نے اپنے فیصلے میں درج ذیل معیارات پر غور کیا ہے:
I۔ Facebook کمیونٹی کے معیارات
Facebook کمیونٹی کے معیارات نفرت انگیز مواد کی وضاحت ”نسل، قومیت، قومی نژاد، مذہبی وابستگی، جنسی رجحان، ذات پات، جنس، صنف، جنسی شناخت، اور سنگین بیماری یا معذوری – جنہیں ہم تحفظ یافتہ خصوصیات کہتے ہیں، کی بنیاد پر لوگوں پر براہ راست حملہ“ کے طور پر کرتے ہیں۔ ’’ٹائر 2‘‘ کے تحت، ممنوعہ مواد میں بد دعا دینا شامل ہے، جس کی وضاحت ’’بے عزتی کرنے کے ارادے سے ناشائستہ الفاظ یا جملے، بشمول، لیکن اسی تک محدود نہیں: fuck, bitch, motherfucker (فک، کتیا، مادر زاد)‘‘ کے طور پر کی گئی ہے۔
II۔ Facebook کی اقدار
Facebook کی اقدار کو کمیونٹی کے معیارات کے تعارف میں بیان کیا گیا ہے۔ "آواز" کی قدر کو "بہت اہم" کے طور پر بیان کیا گیا ہے:
لوگوں کیلئے اظہار خیال اور لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کیلئے ایک جگہ بنانا ہماری کمیونٹی کے معیارات کا ہمیشہ سے ہدف رہا ہے۔ […] ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اہم معاملات کے بارے میں کھل کر بات کریں، چاہے کچھ لوگ اس سے متفق نہ ہوں یا اس پر اعتراض ہی کیوں نہ کریں۔
Facebook چار اقدار کی خدمت میں "آواز" کو محدود کرتی ہے اور یہاں دو متعلقہ ہیں:
"تحفظ": ہم Facebook کو ایک محفوظ مقام بنانے کیلئے پُر عظم ہیں۔ Facebook پر ایسے اظہار خیال کی اجازت نہیں ہے جس میں لوگوں کو ڈرانے، خارج کرنے یا خاموش کرنے کی دھمکی دی جائے۔
"وقار" : ہمارا ماننا ہے کہ عظمت اور حقوق کے لحاظ سے تمام لوگ برابر ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ لوگ دوسروں کے وقار کا احترام کریں گے اور دوسروں کو ہراساں یا رسوا نہیں کریں گے۔
III۔ انسانی حقوق کے معیارات
بزنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ انسانی حقوق کاؤنسل کی حمایت یافتہ اقوام متحدہ رہنمائی کے اصول (UNGPs) نے 2011 میں پرائیویٹ بزنسز کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے رضاکارانہ فریم ورک کا قیام کیا۔ 2021 میں، Facebook نے اپنی کارپوریٹ انسانی حقوق کی پالیسی کا اعلان کیا، جہاں اس نے UNGPs کے مطابق انسانی حقوق کا احترام کرنے کے اپنے عزم کو یاد کیا۔ اس کیس میں بورڈ کے تجزیے کو انسانی حقوق کے درج ذیل معیاروں کے ذریعے باخبر کیا گیا تھا:
- اظہار رائے کی آزادی: آرٹیکل 19، معاشرتی اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ ( ICCPR)، جنرل کمنٹ نمبر 34، انسانی حقوق کی کمیٹی، 2011
- بزنسز کی ذمہ داریاں: بزنس، انسانی حقوق اور تنازع سے متاثرہ علاقے: شدید کارروائی کی رپورٹ کی جانب ( A/75/212)، انسانی حقوق کے مسئلہ اور بین ملکی کارپوریشنز اور دیگر بزنس انٹرپرائزز پر اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ
5. صارف کا بیان
صارف نے اپنی اپیل میں بورڈ کو بتایا کہ انہوں نے یہ مواد میانمار میں “stop the brutal military regime” (ظالمانہ فوجی نظام حکومت کو روکنے) اور وہاں کے جمہوری لیڈران کو مشورہ فراہم کرنے کیلئے پوسٹ کیا تھا۔ صارف نے میانمار کی فوجی حکومت کی فنڈنگ کو محدود کرنے کی ضرورت کو بھی دہرایا تھا۔ صارف نے اپنی شناخت ’’activist‘‘ (کارکن) کے طور پر بتائی تھی اور قیاس لگایا تھا کہ میانمار کی فوجی حکومت کے مخبروں نے ان کی پوسٹ کی رپورٹ کی ہے۔ صارف نے یہ بھی کہا کہ ان کی پوسٹ کا جائزہ کسی ایسے فرد کو لینا چاہیے “someone who understands Myanmar Language” (جو میانمار کی زبان سمجھتا ہو)۔
6۔ Facebook کے فیصلے کی وضاحت
Facebook نے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تحت ’’ٹائر 2‘‘ حملہ کے طور پر مواد کو ہٹا دیا، خصوصی طور پر اس کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے کیلئے جس میں لوگوں کو نسل، قومیت اور/یا قومی نژاد کی بنیاد پر ممنوعہ ناشائستگی پر مبنی بد دعا والے الفاظ کے ساتھ ہدف بنایا گیا ہو۔ Facebook کے مطابق، مبینہ خلاف ورزی کرنے والا مواد چینی لوگوں پر حملہ سمجھا گیا۔
مواد میں برمیز کا جملہ ’’$တရုတ်‘‘ شامل تھا، جس کا ترجمہ Facebook کی علاقائی ٹیم نے “fucking Chinese” (فکنگ چینی) (یا ’’sout ta-yote‘‘) کے طور پر کیا۔ Facebook کی علاقائی ٹیم نے مزید وضاحت کی کہ ’’$‘‘ کا استعمال ’’စောက်‘‘ یا ’’sout‘‘ کے محفف کے طور پر کیا جا سکتا ہے جس کا ترجمہ “fucking.” (فکنگ) ہوتا ہے۔ Facebook کی ٹیم کے مطابق، لفظ ’’ta-yote‘‘ کو ’’چین ملک اور چینی لوگوں کے درمیان ثقافتی اور لسانی اعتبار سے شناخت/معانی کے متراکب کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔‘‘ Facebook نے بورڈ کو متعلقہ خفیہ اندرونی رہنمائی فراہم کی جو وہ اپنے ماڈریٹرز کو فراہم کرتی ہے، یا امتیازی زبان پر اندرونی نفاذ کے معیارات فراہم کیے، جس سے لوگوں کو تحفظ یافتہ خصوصیات اور تحفظ یافتہ خصوصیات سے متعلق تصورات کی بنیاد پر ہدف بنایا جاتا ہے۔
Facebook نے اپنے فیصلہ کے جواز میں یہ بھی نوٹ کیا کہ فروری 2021 کی بغاوت کے بعد میانمار میں ’’چینی مخالف جذبات میں اضافے کی رپورٹس موصول ہو رہی تھیں‘‘ اور یہ کہ ’’ینگون، میانمار میں چین کی مالی اعانت والی ایک کپڑے کی فیکٹری کو جلانے کیلئے کیے گئے مبینہ حملے میں متعدد چینی لوگ زخمی ہوئے تھے، اس میں پھنس گئے تھے، یا مارے گئے تھے۔‘‘ بورڈ کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں Facebook نے کہا کہ اس نے اس پوسٹ کے متعلق میانمار کی فوجی حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
Facebook نے کہا کہ “ta-yote” لفظ کی نوعیت اور اس حقیقت کے مدنظر کہ صارف نے ’’واضح طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ اس لفظ سے اس کی مراد چین کے ملک/حکومت سے ہے،‘‘ Facebook نے طے کیا کہ ’’صارف کی مراد، کم از کم، چین کے لوگوں سے ہے۔‘‘ اس طرح، Facebook نے کہا کہ پوسٹ کو ہٹانا اس کے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے مطابق تھا۔
Facebook نے یہ بھی کہا کہ جب "آواز" کی قدر کے مطابق متوازن کیا جائے تو مواد کو ہٹانا اس کی "وقار" اور "تحفظ" کی اقدار کے مطابق ہے۔ Facebook کے مطابق، چینی لوگوں کو دی جانے والی ناشائستگی پر مبنی بد دعا ’’ان لوگوں کے لیے ضرر کا باعث بن سکتی ہے‘‘ اور یہ ’’نیچا دکھانے والی، غیر انسانی، اور ان کے انفرادی وقار کی تذلیل کرنا‘‘ ہے۔
Facebook نے دلیل پیش کی کہ اس کا فیصلہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے مطابق تھا۔ Facebook نے کہا کہ اس کا فیصلہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی قانونی حیثیت، جائز مقصد، اور ضرورت اور تناسب کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ Facebook کے مطابق، اس کی پالیسی کمیونٹی کے معیارات میں ’’بآسانی قابل رسا‘‘ تھی اور ’’صارف کے الفاظ کا انتخاب ناشائستگی والے الفاظ کی ممانعت کے دائرے میں تھا۔‘‘ مزید برآں، مواد کو ہٹانے کا فیصلہ ’’دوسروں کے حقوق کو نقصان اور امتیازی سلوک‘‘ سے بچانے کیلئے جائز تھا۔ آخر میں، مواد کو ہٹانے کا اس کا فیصلہ ’’ضروری اور متناسب تھا‘‘ کیوں کہ ’’چینی لوگوں کے خلاف استعمال کیے گئے ناشائستگی پر مشتمل مواد کا ذخیرہ ’ایسا ماحول تیار کرتا ہے جہاں تشدد کی کارروائیاں ممکنہ طور پر برداشت کی جائیں اور معاشرے میں امتیازی سلوک کو دوبارہ پیدا کیا جائے‘،‘‘ بحوالہ Zwarte Piet سے متعلقہ بورڈ کا فیصلہ 2021-002-FB-UA۔ Facebook نے کہا کہ یہ ایک جیسا تھا کیوں کہ ’’دونوں کیس میں لوگوں کیلئے نسل یا قومیت کی بنیاد پر نفرت انگیز بیان شامل ہے۔‘‘
7۔ فریق ثالث کی جمع کرائی گئی معلومات
اوور سائٹ بورڈ کو اس کیس سے متعلق 10 پبلک کمنٹس موصول ہوئے۔ پانچ کمنٹس ایشیا پیسیفک اور اوشیانا، خاص طور پر میانمار سے تھے، اور پانچ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا سے تھے۔ بورڈ کو متعلقین کی جانب سے کمنٹس موصول ہوئے جن میں میانمار میں اظہار رائے کی آزادی اور نفرت انگیز بیان پر مرکوز انسانی حقوق کے محافظ اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شامل ہیں۔
جمع کرائی گئی معلومات میں جن تھیمز کا احاطہ کیا گیا ان میں شامل ہیں “sout ta-yote” لفظ کا ترجمہ اور تجزیہ؛ آیا یہ مواد چین پر حملہ تھا یا چینی لوگوں پر؛ آیا یہ پوسٹ سیاسی بیان تھا جس کی میانمار میں تنازع کے سیاق و سباق میں حفاظت کی جانی چاہیے؛ آیا فروری 2021 کی بغاوت کے بعد میانمار میں چینی مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا تھا؛ چین اور میانمار کی فوجی حکومت کے درمیان تعلقات؛ اور Facebook کی مواد کے ماڈریشن کی پریکسٹز، خاص طور پر برمیز زبان کے مواد کیلئے Facebook کے خُود کار عمل والے ٹولز کا استعمال، ٹریننگ اور آڈٹ۔
اس کیس کیلئے جمع کیے گئے پبلک کمنٹس پڑھنے کی خاطر براہ کرم یہاں کلک کریں۔
8. اوور سائٹ بورڈ کا تجزیہ
یہ کیس صارفین کو نفرت انگیز بیان سے بچانے، اور ساتھ ہی سیاسی بیان کا احترام کرنے کیلئے متعینہ مواد کی پالیسیوں کو نافذ کرتے وقت سیاق و سباق کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ میانمار میں فروری 2021 کی بغاوت اور اس ملک میں مواصلاتی ذریعہ کے طور پر Facebook کے اہمیت کی وجہ سے خاص طور پر اہم ہے۔ بورڈ تین طریقوں سے اس کا تعین کرنا چاہتا ہے کہ آیا اس مواد کو بحال کیا جانا چاہیے: Facebook کمیونٹی کے معیارات؛ کمپنی کی اقدار؛ اور اس کی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں۔
8.1 کمیونٹی کے معیارات کی تعمیل
بورڈ نے پایا کہ اس مواد کو بحال کرنا Facebook کے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیارات کے مطابق ہوگا۔ Facebook کی پالیسی ’’بے عزتی کرنے کے ارادے سے ناشائستگی والے الفاظ‘‘ کو ممنوع قرار دیتی ہے جس سے نسل، قومیت، یا قومی نژاد کی بنیاد پر کسی شخص یا لوگوں کو ہدف بنایا گیا ہو۔ بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس پوسٹ سے لوگوں کو ہدف نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ اس کا مقصد ہانگ کانگ میں چینی حکومت کی پالیسی کو نشانہ بنانا تھا، جو میانمار میں چینی حکومت کے کردار پر تبادلہ خیال کے سیاق و سباق میں کیا گیا۔
پبلک کمنٹس کے علاوہ، بورڈ نے متن کے دو ترجمے بھی طلب کیے۔ ان میں میانمار میں واقع برمیز بولنے والے ایک شخص اور میانمار کے باہر برمیز بولنے والے ایک دوسرے شخص سے کرائے گئے ترجمے شامل تھے۔ پبلک کمنٹس اور بورڈ کے مترجمین نے نوٹ کیا کہ برمیز میں ریاستوں اور اُس ریاست کے لوگوں کے حوالے سے ایک ہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے، سیاق و سباق مطلوبہ معنی کو سمجھنے کی کلید ہے۔ یہ خاص طور پر Facebook کی نفرت انگیز بیان سے متعلق پالیسی کو نافذ کرنے کیلئے اہم ہے۔ مواد کو ہٹانے کے وقت، نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار میں کہا گیا تھا کہ یہ قومی نژاد کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف حملے کو ممنوع قرار دیتا ہے لیکن ممالک کے خلاف حملے سے منع نہیں کرتا۔
بورڈ نے یہ فیصلہ کرنے میں کہ اس پوسٹ سے لوگوں کی قومیت، نسل، یا قومی نژاد کی بنیاد پر انہیں ہدف نہیں بنایا گیا تھا، متعدد عوامل پر غور کیا۔ اوّل، وسیع تر پوسٹ فوجی حکومت کے ساتھ مالی انگیجمنٹ کو محدود کرنے اور CRPH کیلئے مالی امداد فراہم کرنے کے طریقے بتاتی ہے۔ دوئم، پوسٹ کا وہ حصہ جس نے مبینہ طور پر Facebook کے اصول کی خلاف ورزی کی، اس نے ہانگ کانگ میں چین کی مالی پالیسیوں کا حوالہ “torture” (تشدد) یا “persecution,” (ظلم) کے طور پر دیا، نہ کہ میانمار میں افراد یا چینی لوگوں کی کارروائیوں کے طور پر۔ سوئم، بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی پوسٹ کی رپورٹ نہ کرنا ہمیشہ اس بات کا اشارہ نہیں ہوتا کہ اس نے خلاف ورزی نہیں کی ہے، 500,000 سے زیادہ لوگوں نے اسے دیکھا، اور 6,000 سے زیادہ لوگوں نے اس پوسٹ کو شیئر کیا اور کسی بھی صارف نے اس کی رپورٹ نہیں کی۔ چہارم، بورڈ نے جن دو مترجمین سے مشورہ کیا تھا انہوں نے بتایا کہ ریاست اور اس کے لوگوں کا حوالہ دینے کیلئے ویسے تو ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن یہاں پر اس سے مراد ریاست تھی۔ مترجمین سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اس حوالہ میں کسی ابہام کا امکان تو نہیں ہے، تو انہوں نے کسی شک کا اظہار نہیں کیا۔ پنجم، دونوں مترجمین نے کہا کہ اس پوسٹ میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کا استعمال عام طور پر میانمار کی حکومت اور چینی سفارت خانہ کے ذریعے ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ آخری، پبلک کمنٹس میں عام طور پر پوسٹ کے مجموعی لہجے کو زیادہ تر سیاسی مباحثہ کے طور پر نوٹ کیا گیا۔
اسی لیے، یہ دیکھتے ہوئے کہ اس ناشائستگی میں نسل، قومیت، یا قومی نژاد کی بنیاد پر لوگوں کو نہیں، بلکہ ریاست کو ہدف بنایا گیا تھا، بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس نے Facebook کے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ تحفظ یافتہ خصوصیات کی بنیاد پر لوگوں کی ہدف بندی کو ممنوع قرار دینا، حکومتوں یا اداروں کو تنقید سے بچانا نہ سمجھا جائے۔ بورڈ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ چینی مخالف نفرت انگیز بیان سنگین تشویش کا باعث ہے، لیکن اس پوسٹ سے مراد چینی ریاست ہے۔
بورڈ Facebook کی اس دلیل سے اتفاق نہیں کرتا کہ اس مواد کو ہٹانے کے اس کے فیصلہ میں کیس کے فیصلے سے متعلق بورڈ کے استدلال پر عمل کیا گیا 2021-002-FB-UA (جہاں بورڈ نے سیاہ چہرے میں لوگوں کی تصویر کشی کو ہٹانے کو برقرار رکھا تھا)۔ اُس کیس میں، Facebook کے سیاہ چہرے میں لوگوں کی تصویر کشی کے خلاف ایک ضابطہ تھا، اور بورڈ نے Facebook کو اس ضابطہ کا اطلاق اُس مواد پر کرنے کی اجازت دی تھی جس میں Zwarte Piet کی سیاہ چہرے میں تصویر کشی شامل تھی۔ یہاں، اس کے برعکس، پوسٹ کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ استعمال کی گئی زبان سے Facebook کے اصول کی بالکل بھی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
اس کیس کے حوالے سے بورڈ کے مباحثہ کے دوران، Facebook نے اپنے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کو اپ ڈیٹ کیا، تاکہ اس بابت مزید معلومات فراہم کر سکے کہ یہ مخصوص حالات میں تحفظ یافتہ خصوصیات سے متعلق ’’تصورات‘‘ کو کیسے ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس نئے ضابطہ میں کہا گیا ہے کہ Facebook کو نفاذ کیلئے ’’اضافی معلومات اور/یا سیاق و سباق درکار ہے‘‘ اور یہ کہ صارفین ’’تحفظ یافتہ خصوصیات والے تصورات، اداروں، نظریات، طریق کار، یا عقائد پر حملہ کرنے والا مواد پوسٹ نہ کریں، جن کا اس تحفظ یافتہ خصوصیات والے لوگوں کے خلاف شدید جسمانی نقصان، دھمکی اور امتیازی سلوک میں معاونت کرنے کا امکان ہو۔‘‘
چونکہ Facebook نے جب اس مواد کو ہٹایا تھا تب یہ کمیونٹی کے معیار کا حصہ نہیں تھا، اور Facebook نے یہ دلیل نہیں دی کہ اس نے بورڈ کو اپ ڈیٹ کیے گئے اس معیار کے تحت مواد کو ہٹایا تھا، اس لیے بورڈ نے اس کیس پر اس پالیسی کے اطلاق کا تجزیہ نہیں کیا۔ تاہم، بورڈ نے نوٹ کیا کہ ’’تصورات، اداروں، نظریات، پریکٹسز، یا عقائد‘‘ میں سیاسی بیان سمیت، اظہار کی بہت ہی وسیع حد کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
8.2 Facebook کی اقدار کی تعمیل
بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس مواد کو بحال کرنا Facebook کی اقدار کے مطابق ہے۔ حالانکہ ’’وقار‘‘ اور ’’تحفظ‘‘ کے حوالے سے Facebook کی اقدار، خاص کر میانمار میں فروری 2021 کی بغاوت کے سیاق و سباق میں اہم ہیں، لیکن اس مواد نے ان اقدار کیلئے ایسا کوئی خطرہ پیدا نہیں کیا جس سے یہ ’’آواز‘‘ کو ہٹانے کا جواز پیش کرے۔ بورڈ نے یہ بھی پایا کہ اس پوسٹ میں سیاسی بیان موجود ہے جو ’’آواز‘‘ کی قدر کیلئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
8.3 Facebook کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی تعمیل
بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ مواد کی بحالی Facebook کی بطور بزنس انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق ہے۔ Facebook نے بزنس اور انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے رہنما اصول (UNGPs) کے تحت انسانی حقوق کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس کی کارپوریٹ انسانی حققو کی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ اس میں معاشرتی اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ (ICCPR) شامل ہے۔
ICCPR کے آرٹیکل 19 میں اظہار خیال کیلئے وسیع تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ تحفظ سیاسی اظہار اور بحث کیلئے ’’خاص طور پر زیادہ‘‘ ہے، جس میں پبلک اداروں کے بارے میں تحفظ بھی شامل ہے ( عام کمنٹ 34، پیرا 38)۔ آرٹیکل 19 کے مطابق، ریاست کیلئے آزادی اظہار رائے پر پابندی لگانا ضروری ہے تاکہ قانونی حیثیت، مستند اور ضرورت اور تناسب کے تین حصوں کے ٹیسٹ کو مکمل کیا جا سکے۔ بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ Facebook کی کارروائیوں سے اس ٹیسٹ کے تحت بطور بزنس اس کی ذمہ داریاں پوری نہیں ہوئیں۔
I۔ قانونی حیثیت (اصول کی وضاحت اور رسائی پذیری)
بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت قانون جواز کے اصول کا تقاضا ہے کہ ریاستوں کے ذریعے اظہار خیال کو محدود کرنے میں استعمال کیے گئے اصول واضح اور قابل رسائی ہونے چاہئیں ( عام کمنٹ 34، پیرا 25)۔ اظہار خیال کو محدود کرنے والے اصول کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ "جن پر اس کا الزام ہے انہیں مناسب رہنمائی فراہم کرے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ کس قسم کے اظہار خیال کو مناسب طریقے سے محدود کیا جاتا ہے اور کس قسم کو نہیں" ( عام کمنٹ 34، پیرا 25)۔
نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کا معیار ایسی ناشائستگی کو ممنوع قرار دیتا ہے جس کے تحت لوگوں کو نسل، قومیت، یا قومی نژاد کی بنیاد پر ہدف بنایا گیا ہو۔ Facebook نے بورڈ کو بتایا کہ ’’پیمانے پر ارادے کا تعین کرنے میں مشکلات کی وجہ سے، Facebook نے جملہ ‘fucking Chinese’ (فکنگ چینی) کے بارے میں سمجھا کہ اس سے چینی لوگ اور چینی ملک یا حکومت دونوں ہی مراد ہیں، جب تک کہ صارف نے اضافی سیاق و سباق نہیں فراہم کر دیا کہ اس سے کلی طور پر ملک یا حکومت مراد ہے۔‘‘ کمیونٹی کے معیار میں ہٹانے میں غلطی کرنے کی پالیسی کا ذکر نہیں ہے۔
بورڈ نے نتیجہ اخذ کیا کہ صارف نے اضافی سیاق و سباق فراہم کیا کہ اس پوسٹ میں ریاست یا ملک کا حوالہ دیا گیا تھا، جیسا کہ بورڈ کے ذریعے نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کے تجزیہ میں نوٹ کیا گیا ہے (اوپر کا سیکشن 8.1)۔ ایک سے زیادہ Facebook کا جائزہ لینے والے، بورڈ کے مترجمین، پبلک کمنٹس جمع کرانے والے لوگوں، اور شاید اُن 500,000 سے زیادہ صارفین میں سے کئی جنہوں نے پوسٹ کو دیکھا اور اس کی رپورٹ نہیں کی، کے مقابلے مختلف نتیجہ پر پہنچے۔ اس اختلاف کو دیکھتے ہوئے، بورڈ نے Facebook کی اندرونی رہنمائی، وسائل اور مواد کے ماڈریٹرز کو فراہم کی جانے والی ٹریننگ کی مناسبیت پر سوال اٹھایا۔
بورڈ کی اس رائے کو دیکھتے ہوئے کہ صارف نے Facebook کی نفرت انگیز بیان سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی، بورڈ اس بات کا فیصلہ نہیں کرتا ہے کہ آیا ہٹانے کی غلطی کی غیر پبلک پالیسی قانون جواز کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم، بورڈ کو تشویش ہے کہ ہٹانے کی غلطی کرنے کی پالیسی جب ناشائستگی کی ترجمانی یا تو لوگوں کیلئے یا ریاست کیلئے کی جا سکتی ہو، کمیونٹی کے معیارات سے واضح نہیں ہے۔ عام طور پر، Facebook کو ایسی عوامی اندرونی رہنمائی فراہم کرنی چاہیے جو اس کے عوام کو درپیش کمیونٹی کے معیارات کی ترجمانی سے الرٹ کرے۔
II۔ جائز مقصد
اظہار رائے پر کوئی ریاستی پابندی کے وقت ICCPR میں درج جائز مقاصد میں سے ایک پر عمل کیا جانا چاہیے۔ ان میں ’’دوسروں کے حقوق‘‘ شامل ہیں۔ Facebook کے مطابق، اس کی نفرت انگیز بیان سے متعلق پالیسی کا مقصد صارفین کو امتیازی سلوک سے بچانا ہے۔ بورڈ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ جائز مقصد ہے۔
III۔ ضرورت اور تناسب
بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ضرورت اور تناسب کا اصول اس بات کو لازمی قرار دیتا ہے کہ اظہار رائے پر کوئی بھی جزوی پابندی "اپنے حفاظتی فنکشن کو حاصل کرنے کے لیے مناسب ہونی چاہیے؛ جو اپنے حفاظتی فنکشن کو حاصل کر سکیں انہیں کم از کم مداخلت کرنی چاہیے؛ انہیں محفوظ ہونے کے مفاد کے مطابق متناسب ہونا چاہیے" ( جنرل کمنٹ 34، پیرا 34)۔ اس کیس میں، مواد کی اپنی ترجمانی کی بنیاد پر، بورڈ کی رائے تھی کہ اس پوسٹ کو محدود کرنے سے حفاظتی فنکشن حاصل نہیں ہوگا۔
UNGPs میں کہا گیا ہے کہ بزنسز کو اپنی سرگرمیوں کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے جاری انسانی حقوق پر مستعدی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے (UNGP 17) اور تسلیم کرنا چاہیے کہ تنازع سے متاثرہ سیاق و سباق میں انسانی حقوق کو خطرہ پہنچنے کا اندیشہ سب سے زیادہ ہوتا ہے (UNGP 7)۔ انسانی حقوق کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ اور بین ممالک کارپوریشنز اور دیگر بزنس انٹرپرائزز نے نوٹ کیا کہ بزنسز کی مستعدی کی ذمہ داریوں میں زیادہ پیچیدگی اور کچھ منظرناموں میں نقصان کے خطرے کی عکاسی ہونی چاہیے ( A/75/212، پیرا 41-49)۔ اسی طرح، 2021-001-FB-FBR کیس کے فیصلے میں بورڈ نے تجویز کی کہ Facebook ’’عالمی سطح پر با اثر اکاؤنٹس سے ہونے والے نقصان کے خطرات کا جائزہ لینے کیلئے مناسب وسائل اور مہارت کو یقینی بنائے،‘‘ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ Facebook کو زیادہ خطرات والے علاقوں پر توجہ دینی چاہیے۔
اس کیس میں، بورڈ نے پایا کہ ان اضافی ذمہ داریوں کی وجہ سے غلطی سے ہٹانے کا عمل انجام نہیں دیا جانا چاہیے، کیوں کہ نقصان دہ مواد کو چھوڑ دینا اور جس مواد سے کم یا نقصان کا کوئی خطرہ نہ ہو اسے ہٹا دینا، ان دونوں ہی صورتحال میں خطرہ زیادہ ہے۔ میانمار میں نفرت انگیز بیان کے متعلق Facebook کی تشویش واجب ہے، لیکن اسے اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ سیاسی تنقید اور اظہار رائے، اس کیس میں جمہوری حکومت کی حمایت کرنے کو نہ ہٹائے۔
بورڈ نے نوٹ کیا کہ ریاستوں اور لوگوں کے حوالے سے قومی نژاد کے تذکرہ (اس کیس میں ’’$တရုတ်‘‘) والی ناشائستگی تصور کرنے کی Facebook کی پالیسی کچھ لسانی سیاق و سباق، جیسا کہ یہ ہے، جہاں دونوں کیلئے ایک ہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے، میں غیر مناسب نفاذ کی جانب رہنمائی کر سکتی ہے۔ بورڈ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس ہٹانے کا اثر کیس سے آگے بڑھ گیا، جیسا کہ Facebook نے بتایا کہ اس کا استعمال درجہ بندی کرنے والی ٹریننگ میں ایسے مواد کی مثال کے طور پر کیا گیا تھا جو نفرت انگیز بیان سے متعلق کمیونٹی کے معیار کی خلاف ورزی کرتا ہو۔
مذکورہ بالا کو دیکھتے ہوئے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات مواد کو Facebook پر بحال کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
9. اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ
اوور سائٹ بورڈ نے Facebook کے مواد کو ہٹانے کے فیصلے کو بدل دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مواد کو بحال کیا جائے۔ Facebook بورڈ کے چارٹر کے تحت اس فیصلہ کو متوازی سیاق و سباق پر لاگو کرنے کی پابند ہے، اور اگر اس کا استعمال درجہ بندی کرنے والی ٹریننگ میں کیا گیا تھا تو اس مواد کو اسے غیر خلاف ورزی والا نشان زد کرنا چاہیے۔
10۔ پالیسی سے متعلق تجویز
Facebook اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے اندرونی نفاذ کے معیارات اس زبان میں دستیاب ہوں جس میں مواد کے ماڈریٹرز مواد کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ترجیح دینا ضروری ہو تو Facebook کو سب سے پہلے ان سیاق و سباق پر توجہ دینی چاہیے جہاں انسانی حقوق کو درپیش خطرات زیادہ شدید ہوں۔
*طریقہ کار کا نوٹ:
پانچ لوگوں کی پینل اوور سائٹ بورڈ کا فیصلہ تیار کرتی ہے اور اسے بورڈ کی اکثریت منظور کرتی ہے۔ ضروری نہیں کہ بورڈ کے فیصلے تمام ممبرز کے ذاتی خیالات کی نمائندگی کرتے ہوں۔
اس کیس کے فیصلے کیلئے بورڈ کی جانب سے آزاد تحقیق کا آغاز کیا گیا تھا۔ گوتھینبرگ یونیورسٹی میں واقع ایک آزاد تحقیقی ادارہ اور چھ براعظموں کے 50 سے زائد سماجی سائنس دانوں کی ٹیم کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک سے 3200 سے زائد ماہرین نے، سماجی و سیاسی اور ثقافتی تناظر میں اپنی مہارت سے خدمات انجام دیں۔ Lionbridge Technologies, LLC کمپنی نے، جس کے ماہرین 350 سے زیادہ زبانوں میں روانی رکھتے ہیں اور دنیا بھر کے 5,000 شہروں سے کام کرتے ہیں، لسانی مہارت فراہم کی۔
Retour aux décisions de cas et aux avis consultatifs politiques